- الإعلانات -

عوام اور بازیگریاں

کہا جاتا ہے کہ مزاح نگاری نہایت مشکل کام ہے لطیفہ سازی بھی اسی فن لطیف ہی کا حصہ ہے جس کے ذریعے مزاح نگار یا لطیفہ گو اس دکھ بھرے معاشرے میں مسکراہٹیں بکھیرتے ہیں چاہے چند لمحوں کے لئے ہی سہی لیکن یہ عظیم خدمت ہے اللہ نے ہمارے اکثر لیڈران کو اس فن سے نواز رکھا ہے اور بدرجہ اتم نواز رکھا ہے کل ہمارے ایک قومی لیڈر نے کمال ہی کردیا ویسے تو ان کے لطیفے اور کثیفے شہرہ آفاق ہیں کل انہوں نے خطاب کرتے ہوئے ظرافت اور لطافت کی انتہا کردی آپ فرماتے ہیں کہ ہم پنجاب میں وہ کر دکھائیں گے جو نون لیگ پوری طاقت و قوت لگانیکے باوجود نہیں کرسکی سچی بات ہے تھوڑی دیر کے لئے ہماری بھی سٹی گم ہوگئی کہ یہ کیافرما رہے ہیں موصوف کا بنیادی تعلق چونکہ سندھ سے ہے لہذا ایک نیوز چینل پر انہوں نے سندھ کو پیرس بنا دینے جیسے کارنامے پنجاب میں برپا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا تو چینل کے معروف اینکر اپنی ہنسی نہ روک سکے اب اگر ہمیں کبھی موقع ملا تو ان اینکر سے کسب فیض کرتے ہوئے ہنسی وجہ ضرور پوچھیں گے اب سوچنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایسا کیا کیا ممکن ہے جو سندھ کی طرح پنجاب میں کیا جاسکے پہلے تو دیکھیں کہ سندھ میں کیا کارہائے نمایاں انجام دئے گئے ہیں ابتدا لاڑکانہ سے کرتے ہیں جس کا تذکرہ قومی پریس میں اکثر ہوتا رہتا ہے کہ لاڑکانہ پیرس بن چکا ہے اور پیپلزپارٹی کے سنہرے دور میں چمکتی سڑکیں بنادی گئی ہیں ہم صرف ایک مثال پر اکتفا کریں گے کہ کراچی سے لاڑکانہ داخلے کے لئے رائس کینال پر سو سال پہلے جو پل بنایا گیا تھا اس میں ایک انچ کی توسیع نہیں کی گئی آج بھی مختلف سمتوں سے آنے والی گدھا گاڑی اور کار اکٹھے نہیں گزر سکتے لاڑکانہ میں آخری سڑک جو 1972 میں تعمیر کی گئی وہ وی آئی پی روڈ ہے جس پر لاڑکانہ انتظامیہ کے تمام دفاتر ہیں جن پر بھاری ٹریفک کے گزرنے کی پابندی ہے شاید اسی لئے یہ سڑک اب تک بہتر حالت میں ہے باقی شہر کی سڑکیں اور موئن جو دڑو میں کم ہی فرق رہ گیا ہے گٹرابل رہے ہیں گندہ پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہو رہا ہیگورننس کا حال یہ ہے کہ شہروں میں تجاوزات کے سبب گاڑیاں تو چھوڑیئے پیدل چلنا بھی محال ہے نواب شاہ جو مقتدروں کا اپنا گھر ہے جس کی زبوں حالی کی رپورٹنگ ٹی وی چینلز پر اکثر ہوتی رہتی ہے سڑکیں کھنڈر بنی ہوئی ہیں پورے سندھ کا کم بیش یہی حال ہے ضلع جیکب آباد دادو کشمور اور شکارپور قرون اولی کا منظر پیش کرتے ہیں سہون سے لاڑکانہ تک سڑک انتہائی زبوں حال ہے جو انڈس ہائی وے کا اہم حصہ ہے اور ملک کے شمال اور جنوب کے درمیان رابطے کا اہم ذریعہ جہاں حادثات کی صورت میں طبی عملہ موجود نہیں ہوتا اور دوائیاں ناپید امن و امان کی صورت حال کوئی ڈھکی چھپی نہیں تعمیراتی ٹھیکے جیالوں کو دے دئے جاتے ہیں جو محض لیپاپوتی کرکے بل وصول کر لیتے ہیں اور بعض اوقات یہ تکلف بھی نہیں برتا جاتا رشوت معمول ہے جو اب زندگی کے لازمی حصے اور حقیقت کے طور پر قبول کر لی گئی ہے کراچی میں شہری اور دیہی کی تفریق بڑھا دی گئی ہے اور یہ کوئی خوش آئند بات نہیں سماجی انصاف ہر شخص کا حق ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس امر کو یقینی بنائے تاکہ عوام کے کسی طبقے میں احساس محرومی پیدا نہ ہو نوکریوں کے معاملے میں شہری علاقوں کی کئی ویکنسیاں خالی چھوڑ دی جاتی ہیں جن پر مستحقین کو تعینات نہ کر کے کس کی خدمت کی جارہی ہے کراچی کی پارٹیوں کی اس آواز کی حمایت کرتے ہیں کہ کراچی سے سوتیلی ماں والا سلوک بند کیا جائے کراچی میں گندگی کے ڈھیر حکومتی گڈ گورننس کا منہ بولتا ثبوت ہیں سندھ کی حد تک صرف سید ہی بدلا باقی کچھ نہیں تو پھر سابق سید میں کیا خرابی تھی سندھ کی ایک خاتون رہنما پر 100 ارب روپے کے خرد برد کا الزام ہے یہ 100 ارب لاڑکانہ کو بطور خصوصی پیکیج عطا کئے گئے تھے جن میں سے مبینہ طور پر 100 روپے بھی لاڑکانہ میں نہیں لگے عوامی سطح پر سندھ کے عوام شہیدوں کی بہت قدرت منزلت کرتے ہیں لیکن یہ کب تک رہے گا اور محض ان نیک جذبات پر کب تک ووٹ ملتے رہیں گے متعلقین کے لئے یہ لمحہ فکریہ ہونا چاہئیے اب رہا پنجاب جہاں انہوں نے مسلم لیگ نون کو للکارا ہے لیکن پیپلز پارٹی اپنے دور میں اپنی حکومت کی کار گردگی کو بھی نظر میں رکھیں اس دور میں عام آدمی کو کیا ریلیف ملا آج بھی چیدہ چیدہ پارٹی رہنماؤں پر کیس چل رہے ہیں جو کبھی ثابت ہو سکیں گے کیا آج تک کوئی کیس ثابت ہوسکا ہے جو یہ ثابت ہوں گے اب تو ما شا اللہ شرجیل انعام صاحب بھی تشریف لا کر وفاقی حکومت کے خلاف خم ٹھونک چکے ہیں آج وفاقی وزیرداخلہ پیپلزپارٹی کا خصوصی ہدف ہیں اور وزیراعظم حیدرآباد میں ڈرامائی انٹری ڈال چکے ہیں ایک عدد یونیورسٹی اور بین الاقوامی ائیرپورٹ کی نوید سناچکے ہیں جیسا کہ سوات دیرہ اسماعیل خان کوہاٹ اور دیگر شہروں میں یہ ایئرپورٹ پورے زور و شور سے عوام کی خدمت کر رہے ہیں جس میں زور کم اور شور زیادہ ہے اور یوں نون لیگ نے بھی اس طرح کی باتیں کرکے عوام کو ہنسانے اور گد گدانے کا کام شروع کردیا ہے لیگ کے بزرجمہر دھواں دھار تقاریر اور ٹاک شوز میں بھرپور تاثر دے رہے ہیں پیپلزپارٹی اور نون لیگ ہی صرف قومی پارٹیاں ہے اور تیسری سیاسی قوت کا کوئی وجود نہیں الیکشن قریب ہیں کھلاڑی متحرک ہوچکے ہیں اور ہمیں لگتاہے کہ پھر سے عوام کو بے وقوف بنانے کا کام شروع ہوچکا ہے دونوں جانب سے زبانی معرکے لڑے جائیں گے مرنے مارنے کا تاثر شدید کیا جائے گا اور دونوں پارٹیوں کی عالم آشکار کار کردگی کو الزامات در الزامات کی دھول میں چھپایا جائے گا دونوں گلے گلے تک الزامات دل دل میں دھنسے ہوئی پارٹیاں اس طرح بقا کی جنگ لڑنا چاہتی ہیں ادھر ڈان لیکس میمو گیت پر پر اسرار خاموشی ہے لگتا ہے کہ کوئی مفاہمت ہو چکی ہے پانامہ کیس کا فیصلہ آیا ہی چاہتا ہے یہی قوم و ملک کے مستقبل کافیصلہ کرے گا اللہ ووم کو درست فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے اللہ وطن اور اہل وطن کی حفاظت فرمائے۔ آمین