- الإعلانات -

کولڈسٹارٹ ڈاکٹرائن کا مردہ گھوڑا

پاکستان کوہڑپ کرنے کا خواب برسوں سے بھارتی کرتا دھرتاؤں کے دماغوں میں کلبلاتا رہتا ہے۔اسکے لیے کبھی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن (سی ایس ڈی)کے خواب میں رنگ بھرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی سرجیکل سٹرائیک کا سوچا جاتا ہے۔کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن 24 گھنٹے میں اچانک اور خوفناک حملے کی حکمت عملی کو کہا جاتا ہے۔ بھارت گزشتہ پندرہ برس سے اس پر کام کررہا ہے۔اس کا پس منظر یہ ہے کہ جب دسمبر2001ء میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تو بھارت نے الزام لگایا کہ حملہ آور پاکستانی اور مولانا مسعود اظہر کے ساتھی ہیں۔اسکے ساتھ ہی بھارتی حکومت نے پاکستان پر فوج کشی کا اعلان بھی کر دیا اور اپنی افواج کو پاکستان کی مشرقی سرحد پر جمع کرنا شروع کردیا لیکن اس کام کیلئے اسے ایک ماہ لگ گیا۔جبکہ جواب میں پاکستان نے ایک ماہ میں ساری جنگی تیاریاں کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی برادری سے بھی بات چیت کر لی۔اپنے میزائل اور جوہری ہتھیار بھی باہر نکال لیے۔یورپ اور امریکا درمیان میں آگئے۔ اقوام متحدہ نے بھی بھارت کو روکنا شروع کر دیا۔ یہ تمام چیزیں مل کر دباؤ بنیں اور بھارت بالآخر اس دباؤ کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو گیا۔بھارت کو اس ایکسرسائز کے دوران اربوں روپے کا نقصان بھی ہوا اور اسے عالمی سطح پر جگ ہنسائی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت نے یہ ڈاکٹرائن دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمن فوج کی بلٹس کریگ (Blitzkrieg)اسٹرٹیجی سے مستعار لی جرمن زبان میں بلٹس کریگ کا مطلب بجلی کی تیزی سے وار ہے۔ نازی فوج دوسری جنگ عظیم میں اتحادیوں اور روسی فوجوں پر بجلی کی طرح حملہ آور ہوتی تھی۔ جرمن اپنی آرٹیلری ٹینکوں انفنٹری اور جنگی طیاروں کو اچانک موبلائز کرتے تھے اور دشمن کے جاگنے سے پہلے پورا شہر اڑا دیتے تھے بھارت کے عسکری ماہرین نے سوچا کہ شاید وہ بھی نازی فوج ہیں اور پاکستان کو ایک تر نوالہ سمجھ کر ہڑپ کر لیں گے مگر اب تک وہ اس حکمت عملی میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔اگرچہ روات بپن نے آتے ہی عندیہ دیا کہ سی ایس ڈی زندہ ہے لیکن خود کئی بھارتی عسکری ماہرین اسے ناکارہ حکمت عملی قرار دیتے ہیں۔ان کا ماننا ہے کہ اس طرح پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ یہ بھی حقیقت ہے سی ایس ڈی میں ناکامی کے بعد مودی سرکار نے سرجیکل سٹرائیک کا سہارا لیا اور بزعم خود یہ دعویٰ بھی کرڈالا کہ اڑی حملے کا بدلہ لے لیا ہے۔حالانکہ اس سرجیکل سٹرائیک کوبھارت کے صفِ اول کے صحافی اور تجزیہ کار اسے فرضیکل سٹرائیک کا نام دے رہے ہیں۔ درحقیقت بھارت پاکستان کی اہلیت جانتا ہے کہ ایک دفعہ یہ معاملہ چھڑا تو بات دور تک نکل جائے گا۔پاکستان کی جوابی اہلیت کے بارے برطانوی جریدے دی ۔ اکانومسٹ نے بھی گزشتہ برس بھارت کو آئینہ دکھایا کہ اگر بھارت اس طرح کی حکمت عملیوں سے باز نہ آیا تو پاکستان اپنے محدود پیمانے پر تباہی پھیلانے والے چھوٹے ایٹمی ہتھیار آگے لے آئے گا، جن کا بھارت کے پاس کوئی توڑ نہیں ہے۔جریدے نے یہ بھی لکھا کہ بلاشبہ 2008کے ممبئی حملوں کے بعد بھارتی آرمی چیف نے اپنی حکومت کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ اس کی فوج پاکستان سے جنگ لڑنے کے لیے تیار نہیں ہے۔کنگز کالج لندن کے حربی امور کے ماہر والٹر لیڈونگ نے جریدے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب بھی حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کے تحت بھارت آپریشنز کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے یا نہیں۔اگر بھارتی فوج کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن پر عمل پیرا رہتی ہے تو جہاں اسے دنیا کے غضب کا سامنا کرنا پڑے گا وہاں پاکستان کو چھوٹے ایٹم بموں کی تیاری اور انہیں بھارت کے خلاف استعمال کرنے کا جواز مل جائے گا۔سی ایس ڈی اور سرجیکل گیڈر بھبکیوں کے بعد اب مودی سرکار کو ایٹمی گیدڑ بھبکی سوجھی ہے کہ بھارت پاکستان پر ایٹمی حملے میں پہل کر سکتاہے۔ بھارتی ایٹمی ماہر ویپن نارنگ نے امریکہ میں سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے ایٹمی ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کی پالیسی تبدیل کر دی ہے اور حملے میں پہل کر سکتاہے۔انہوں نے کہا کہ یہ حملے پاکستان کی تنصیبات پر کیے جا سکتے ہیں۔یہ تو ہوا دیوانے کا ایک خواب مگر کچھ ہوش خرد والے سابق بھارتی فوجی افسران کیا کہتے ہیں وہ بھی ملاحظہ ہو۔پروین ساہنی اور غزالہ وہاب نامی سابق فوجی خواتین افسران نے اعتراف کیا ہے کہ بھارت کی فوج چین تو کیا پاکستان سے بھی جنگ نہیں جیت سکتی۔ کسی بھی خطرے کی صورت میں پاکستان چین ہے اور چین پاکستان ہے۔ دونوں ممالک مل کر بھارت کا سامنا کریں گے۔بھارتی فوج کی ملازمت چھوڑنے والی پروین ساہنی اور غزالہ وہاب نے اپنی کتاب ڈریگن ان آور ڈور اسٹیپ میں لکھا ہے کہ چین اور پاکستان نے مل کر ایسا میکنزم تیار کیا ہے کہ جس کی مدد سے وہ کسی بھی خطرے کی صورت میں ایک دوسرے کے دست و بازو ثابت ہوں گے۔ڈریگن ان آور ڈور اسٹیپ کی مصنفین نے مودی سرکار کو صائب مشورہ دیا ہے کہ سی پیک کے بعد پاکستان سے کسی بھی قسم کی چھیڑ خانی چائنی مفادات پر حملہ تصور ہوگا۔سی پیک چین کیلئے کتنا اہم اس کا اعادہ چین نے اگلے روز ایک بار پھر کیا ہے کہ سی پیک طویل المیعاد ترقی کے حصول کیلئے چین اور پاکستان کی طرف سے قائم کیا جا نے والا تعاون کا نیا فریم ورک ہے ۔ خاتون ترجمان نے کہا کہ سی پیک بیلٹ وروڈ منصوبے کا ایک اہم پراجیکٹ بھی ہے یہ نہ صرف چین اور پاکستان کی مشترکہ ترقی کے فروغ بلکہ علاقائی رابطے اور علاقائی ممالک کی مشترکہ ترقی اور خوشحالی کے فروغ کیلئے بھی اہم ہے۔اسکے بعد اب بھارتی سورماؤں کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ امن چاہتے ہیں یا تباہی,تاہم پاکستان روایتی اور غیر روایتی ہر طرح کی جنگ کی تیاری میں رہتا ہے۔