- الإعلانات -

پاراچنار میں دہشت گردی

کرم ایجنسی کے ہیڈکوارٹر پاراچنار کو آخری سانسیں لیتے دہشت گردوں نے ایک بارپھر لہولہان کردیا امام بارگاہ کے باہرکاربم دھماکے کے نتیجے میں خواتین ،بچوں سمیت24افراد شہید اور90سے زائد زخمی ہوگئے ۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ مارکیٹ اور وہاں پر موجود لوگ ڈھیر ہوگئے چاروں طرف آگ اور دھواں پھیل گیا۔ مرکزی امام بارگاہ کے قریب نور مارکیٹ کے مین گیٹ پر جو چند فٹ امام بارگاہ سے دور ہے موٹر کار میں شدید دھماکہ ہوا ۔ دھماکے میں کئی دکانیں اور گاڑیاں بھی تباہ ہوگئیں جبکہ قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ اس کی آواز کئی کلومیٹر دور تک سنی گئی۔ دھماکے کے بعد بازار میں بھگدڑ مچ گئی۔ کالعدم تنظیم جماعت الاحرار نے ویڈیو پیغام کے ذریعے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی۔ حملہ آوروں نے بازار سے کچھ فاصلے کی دوری پر موجود پھاٹک پر کھڑے لیویز اہلکاروں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا جس کے بعد دھماکہ ہوا۔ وزیراعظم محمد نوازشریف، صدر مملکت ممنون حسین، وزیرداخلہ چوہدری نثار، مولانا فضل الرحمان، سراج الحق، آصف علی زردرای، عمران خان، وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف، اسحاق ڈار بلاول بھٹو، خورشید شاہ، طاہر القادری، میاں محمد جمیل اور دیگر نے دھماکے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ ملک سے دہشت گردی کے عفریت کو ہر قیمت پر ختم کیا جائے گا۔ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو پہلے ہی توڑا جا چکا ہے اور اب ہماری قومی ذمہ داری ہے کہ اس جنگ کو اپنی سرزمین سے دہشت گردی کے مکمل خاتمہ تک جاری رکھیں۔ متعلقہ حکام حالات سے نمٹنے کیلئے مقامی انتظامیہ کو مکمل مدد فراہم کی جائے۔ ملک سے دہشتگردی کا ہرقیمت پر مکمل خاتمہ کریں گے۔ وزیرداخلہ نے متعلقہ حکام سے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی۔ صوبائی حکومت نے جاں بحق افراد کے لواحقین کیلئے 4، 4 لاکھ، زخمیوں کیلئے ایک ایک لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔دھماکے کے بعد علاقے کے لوگوں نے اپنے عزیزوں کی میتیں پولیٹیکل انتظامیہ کے دفتر کے سامنے رکھ کر احتجاجی مظاہرہ کیااوردھرنا بھی دیا۔ سکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ خیال رہے کہ کرم ایجنسی فرقہ وارانہ جھڑپوں کی وجہ سے انتہائی حساس علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں ماضی میں فرقہ وارانہ فسادات کی وجہ سے ہزاروں لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔ کرم ایجنسی کے ساتھ افغانستان کا علاقہ ننگر ہار لگتا ہے، جہاں سے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی طرف سے دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔ دریں اثنا مجلس وحدت مسلمین کے زیر اہتمام پاراچنار میں دھماکے کیخلاف ملک گیر احتجاج، چاروں صوبوں سمیت آزادکشمیر اور گلگت بلتستان میں نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرے کیے گئے، اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، ملتان، فیصل آباد سمیت دیگر شہروں میں نماز جمعہ کے بعد مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اور سیکرٹری جنرل پنجاب علامہ مبارک موسوی نے دہشتگردوں کی سفاکانہ و بزدلانہ کارروائی کی شدید مذمت کی ۔کرم ایجنسی کاصدر مقام انتہائی حساس نوعیت کاحامل ہے ماضی میں بھی انسانیت کے دشمنوں نے اس کو تین بار نشانہ بنایا جس کے نتیجہ میں سینکڑوں افراد شہید وزخمی ہوگئے۔ اب افغان بارڈر کھولتے ہی دہشت گردوں نے اس کو نشانہ بنایا ۔اس واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ضرب عضب میں ہزاروں دہشت گردوں کاصفایا کیا جاچکا ہے اور بچے کھچے دہشت گردوں کے خلاف ردالفساد جاری ہے ۔دہشت گرد اب بچ نہیں پائیں گے کیونکہ سیاسی وعسکری قیادت انسداد دہشت گردی کیلئے پُرعزم ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ
حکومت نے ایک بارپھرعوام پر پٹرول بم گرادیا ہے جس کے نتیجے میں عوام کے مسائل میں جہاں اضافہ ہوا ہے وہاں ان میں اضطراب کی کیفیت بھی دکھائی دیتی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو اس تناظر میں دیکھاجاسکتا ہے کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات میں ردوبدل کا فیصلہ کرتے ہوئے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک ایک روپے فی لیٹر اضافہ کیا ہے جبکہ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمتیں برقراررہیں گی۔حکومت اپریل کے مہینے میں پٹرولیم مصنوعات پر 3 ارب روپے کی سبسڈی دے گی۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے دبئی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمتیں بدستور 44 روپے فی لیٹر برقرار رہیں گی حالانکہ اوگرا نے مٹی کے تیل میں 13 روپے 76 پیسے اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں پونے 8 روپے کا اضافہ تجویز کیا تھا۔ ان دونوں آئٹمز کی قیمتوں میں وزیراعظم اور حکومت نے اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اوگرا نے پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے 28 پیسے اور ڈیزل میں 2 روپے 4 پیسے اضافہ تجویز کیا تھا مگر وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق فیصلہ کیا گیا کہ دونوں میں صرف ایک ایک روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 6 ماہ تک کوئی اضافہ نہیں کیا تھا اور 3 ماہ میں جزوی طور پر اضافہ کر رہے ہیں۔ اس مد میں ہمیں مجموعی طور پر 100بلین کے قریب بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ اضافے کے ساتھ پیٹرول کی نئی قیمت 73 روپے سے بڑھ کر 74 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت 82 روپے سے بڑھ کر 83 روپے فی لیٹر ہو جائے گی جبکہ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمت بدستور 44 روپے فی لیٹر ہی رہیں گی۔حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام لانے میں ناکام ہے کئی بار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کیاجاچکا ہے حکومت کا یہ فرض قرار پاتا ہے کہ وہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کوبرقراررکھے۔لیکن ایسا کرنے میں حکومت کامیاب نہیں ہوپارہی جس سے عوام پریشان دکھائی دیتی ہے۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
پاکستان کوتنہاکرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ملاقات کی جس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ عمران نے ترقی اور تعیناتی پر آرمی چیف کو مبارکباد دی۔ اس موقع پر مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ ملاقات میں قومی اور عالمی معاملات زیر غور آئے۔ اس کے علاوہ دہشت گردی کے خلاف جنگ، افغان مہاجرین کا معاملہ، آپریشن ردالفساد اور خیبر پی کے کے مسائل پر بات چیت ہوئی۔آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے منگلا کے قریب پبی میں نیشنل کانٹر ٹیررزم سنٹر کا دورہ کیا انسداد دہشتگردی سنٹر میں آرمی چیف نے ٹیم سپرٹ مقابلوں کا جائزہ لیا۔ آرمی چیف نے غیر ملکی ٹیموں سے ملاقات کی۔ آرمی چیف نے کہا کہ دہشتگردی پوری دنیا کو متاثر کر رہی ہے۔ پاکستان نے امن و استحکام کیلئے اہم کردار ادا کیا دنیا امن و استحکام کیلئے ہماری کوششوں کو تسلیم کرتی ہے۔ غیر ملکی ٹیموں کی یہاں موجودگی ہماری کوششوں کو تسلیم کئے جانے کا ثبوت ہے۔ پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششیں دھری رہ جائینگی پاکستان کو تنہا کرنے کا پروپیگنڈا کرنے والے دیکھیں گے کہ عالمی دوست ہمیں کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ آرمی چیف نے بجافرمایا ہے انسداد دہشت گردی کیلئے مشترکہ جدوجہد اورحکمت عملی کی ضرورت ہے۔ پاک فوج دہشت گردی کیخلاف برسر پیکار ہے اور دہشت گرد بزدلانہ کارروائیاں کرکے ملک کی فضاء کو خون آلود کررہے ہیں لیکن اب یہ اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہوپائیں گے۔