- الإعلانات -

یہ بھارتی جرائم ۔ ۔کب تلک ؟

کرم ایجنسی کے مرکزی شہر پاڑہ چنار میں اکتیس مارچ کو ایک بم دھماکے میں کم از کم 24 بے گناہ افراد شہید اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔اس سانحہ پر تبصرہ کرتے ماہرین نے کہا ہے کہ ’’ را ‘‘ اور ’’ این ڈی ایس ‘‘ اس قسم کے واقعات کے ذریعے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی اپنی دیرینہ مکروہ روش پر عمل پیرا ہیں ۔ دوسری جانب یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ دہلی کے حکمران نہتے کشمیریوں کے خلاف غیر انسانی مظالم کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہمیشہ سے جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ اسی پس منظر میں مبصرین نے کہا ہے کہ جعلی مقابلوں میں کشمیری نوجوانوں کی شہادت کیخلاف سراپا احتجاج مظاہرین پر بھارتی فوج کی وحشیانہ فائرنگ سے 4کشمیری نوجوان شہید جبکہ 17افراد زخمی ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق چند روز قبل چاڑورہ کے علاقے میں ہونیوالی کارروائی میں بھارتی افواج نے پیلٹ گنوں اور خود کار اسلحے کا استعمال کیا۔ حریت کانفرنس نے کشمیری نوجوانوں کی شہادت کیخلاف پوری مقبوضہ ریاست میں ہڑتال کا اعلان کیا لیکن تمام حریت قیادت کو نظر بند کر دیا گیا ۔ یاد رہے کہ ضلع بڈگام کے قصبے چاڑورہ میں 4کشمیری اس وقت شہید ہوئے جب وہ بھارتی فوج کی جانب سے جعلی مقابلوں میں کشمیری نوجوانوں کی شہادت کے خلاف احتجاجی مظاہر ہ کر رہے تھے۔ احتجاجی مظاہرے پر قابض بھارتی فوج نے آنسو گیس، پیلٹ گنوں اور جدید اسلحے سے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 4افراد شہید اور17افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ خود بھارتی ٹی وی چینل ’’ آج تک ‘‘ کے مطابق بھارتی فوج نے گھر گھر تلاشی کے دوران عورتوں کی بے حرمتی کی اور نوجوانوں کو حراست میں بھی لیا ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ساتھ جھڑپ میں شہید ہونے والے مجاہدین کو سپرد خاک کردیاگیا ٗ نمازجنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ۔ لوگوں کے جم غفیر کے باعث نماز جنازہ کئی مرتبہ ادا کی گئی۔ مجاہدین کی تدفین کے بعد احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیں اور علاقے میں حالات مزید کشیدہ ہوگئے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مقبوضہ ریاست میں بھارتی مظالم کا یہ عالم ہے کہ صرف فروری 2017 کے دوران 15 معصوم کشمیریوں کو شہید کیا گیا جن میں سے تین کی شہادت حراست کے دوران ہوئی ۔ صرف فروری کے مہینے میں تشویش ناک حد تک زخمی ہونے والوں کی تعداد 287 ہے ۔ جبکہ اس نہایت قلیل عرصے کے دوران 51 دکانوں اور مکانوں کو مسمار یا نذرِ آتش کیا گیا ۔ اور یہ سلسلہ ہنوذ اسی بربریت کے ساتھ جاری ہے ۔ ’’ را ‘‘ اور ’’ این ڈی ایس‘‘ کی ان سازشوں کا ذکر کرتے ہوئے ماہرین نے کہا ہے کہ یہ ایک انسانی المیہ ہے کہ ’’ تاریخ سے بالعموم کبھی کسی نے سبق نہیں سیکھا ‘‘ اور یہی معاملہ دہلی کے حکمرانوں کے ساتھ بھی ہے ۔ دوسری جانب گذشتہ چند ہفتوں میں افواجِ پاکستان کے افسروں اور جوانوں نے جس دلیری سے وطنِ عزیز کے طول و عرض میں فسادیوں کا سر کچلا ہے ، اس میں دہلی اور کابل انتظامیہ کے لئے بہت سے سبق پنہاں ہیں بشرطیکہ وہ اس بارے میں دھیان دیں کیونکہ نہایت تھوڑے عرصے میں پاکستان کے سر فروشوں نے جس طرح پاکستان سے دہشتگردی کی جڑیں اکھاڑ پھینکی ہیں ، اس کی جتنی بھی ستائش کی جائے وہ کم ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ نام نہاد TTP اور اس کے پالتو دیگر دہشتگرد گروہوں کو چھٹی کا دودھ یاد دلایا ہے وہ اپنے آپ میں پاکستان کی حالیہ تاریخ کے سنہرے ابواب ہیں ۔ اور اسی تناظر میں با وقار سنجیدہ حلقوں کی رائے ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کی جانب سے یہ بھی کوشش کی جا رہی ہے کہ افغانستان کے عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور اپنی اس کوشش میں پاکستان کو خاصی حد تک کامیابی بھی حاصل ہو رہی ہے ۔ بہر کیف توقع رکھنی چاہیے کہ ’’ را ‘‘ اور ’’ این ڈی ایس ‘‘ جس طرح سے پاکستان میں دہشتگردی کو فروغ دینے میں مصروف ہیں جس کی تازہ مثال ’’ پاڑا چنار ‘‘ کا واقعہ ہے ۔ اور جس طرح سے سی پیک کے خلاف اپنی تمام توانائیاں صرف کر رہے ہیں ، ان کی بیخ کنی کے لئے عالمی برادری بھی اپنا مثبت کردار ادا کرے گی ۔