- الإعلانات -

کرپشن کی روک تھام کیلئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے تلہ گنگ میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہت جلد ملک بدلنے والا ہے، 21 سال سے ملک کو بدلنے کی جدوجہد کررہے ہیں، تحریک انصاف ایک صوبے کی نہیں بلکہ ملک کی جماعت ہے اور پی ٹی آئی ہی ملک کے مسائل حل کرے گی کیونکہ باقی ساری جماعتیں صرف صوبوں تک محدود ہیں لیکن تحریک انصاف پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہے۔ ہمیں بہت کچھ ملا ہے لیکن ہم نے فائدہ نہیں اٹھایا، پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں کئی جگہ تبدیلی لائی ہے،کے پی کے کی پولیس کو ٹھیک کیا اور پولیس سے سیاسی مداخلت ختم کرکے ایماندار آئی جی لگایا کیونکہ جب آئی جی میرٹ پر آئے گا تو پولیس بھی ٹھیک کام کرے، خیبر پختونخواہ کی پولیس بین الاقوامی پولیس کا مقابلہ کرتی ہے لیکن سندھ کے آئی جی اے ڈی خواجہ کو اس لیے تبدیل کیا کیونکہ وہ غلط کام نہیں کرنے دے رہے تھے۔پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے اور اقتدار میں آکر اپنی ذات کو فائدہ پہنچانے کو کرپشن کہتے ہیں، شرجیل میمن نے 5 ارب کی کرپشن کی لیکن وہ پاکستان اس طرح آئے جیسے کہ ورلڈ کپ جیت کر آئے ہوں، ڈاکٹر عاصم پر 460 ارب روپیکی کرپشن کی جب کہ خیبر پختونخواہ کا صرف ترقیاتی فنڈ ہی113 ارب روپے ہے لہذا اگر اپنے بچوں اور ملک کا مستقبل بچانا ہے تو سب کو ایک ہونا پڑے گا۔منی لانڈرنگ کرنے والے ملک کو دوگنا نقصان پہنچاتے ہیں، نواز شریف کا پاناما کا کیس کرپشن اور منی لانڈرنگ کا ہے، یہاں سے پیسہ لے گئے اور لندن میں بڑے بڑے محل خریدے، جب عدالت نے نواشریف سے پوچھا کہ کدھر سے پیسہ آیا تو پھر درمیان میں قطری آگیا،نواز شریف نقل کرنے کیلئے بھی عقل چاہیے۔آصف زرداری بتائیں سرے محل کتنے پیسوں کا لیا اور سوئٹزرلینڈ میں 7 ملین ڈالر کدھر سے آئے لہٰذا آصف زرداری آپ بھی کسی قطری شہزادے کو پکڑ لو کیونکہ آپ کو بھی اس کی ضرورت پڑے گی۔ جب تک ہم مل کر کرپٹ حکمرانوں کو شکست نہیں دیں گے آگے نہیں بڑھ سکتے، زرداری اور نواز شریف کا پیسہ، جائدادیں اور کاروبار ملک سے باہر ہیں، جس کا جینا مرنا پاکستان میں ہی نہیں وہ کیسے ملک سے وفادار ہوسکتا ہے ایسے حکمران ملک سے وفاداری نہیں کرسکتے۔ یہ درست ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن اور منی لانڈرنگ ہے لیکن اس کے خاتمے کیلئے حکومتی سطح پر ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے جس سے کرپشن نے اداروں کو کھوکھلا کردیا ہے جس سے ترقی و خوشحالی کا عمل بھی بری طرح متاثر ہورہا ہے اب وقت کا یہ تقاضا ہے کہ کرپشن کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے ٹھوس اقدامات کیے جائیں جب تک کرپشن کو نہیں روکا جاتا اس وقت تک ملک کے اداروں کی تطہیر ناممکن ہے کرپشن کی صدائیں ہرسو سنائی دے رہی ہیں اور پانامہ کیس پر قوم کی نگاہیں لگی ہیں اور عدلیہ سے عوام کی امیدیں لگی ہیں اگر خدانخواستہ ادھر سے عوام کی امیدیں بر نہ آئیں تو یہ انتہائے یاس کا شکار ہوکر رہ جائیں گے اور ان کی امیدیں ٹوٹ جائیں گی اور کرپشن کو روکنا محال ہو جائے گا، کرپشن کی روک تھام کرکے اداروں کی تطہیر عمل میں لائی جاسکتی ہے۔کرپشن کی روک تھام کے بغیر ترقی نہیں ہوسکتی ۔ سیاست ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگاتے نہیں تھکتے لیکن عملاً اس کے انسدادکیلئے کچھ نہیں کرتے ۔اس وقت ضرورت ا س امر کی ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام پیدا کیاجائے اورمل جل کرمعاملات کو سلجھانے کی کوشش کی جائے۔
نریندر مودی کے د ورہ مقبوضہ کشمیر کے موقع پرہڑتال
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ مقبوضہ کشمیر کیخلاف حریت قیادت کی اپیل پر پوری وادی میں شٹرڈاؤن ہڑتال ، احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور یوم سیاہ منایا گیا ۔ ضلع کولگام بالخصوص فرصل کی طرف جانے والی بیشتر سڑکوں کو خاردار تار سے بند کردیا گیا تھا جبکہ ضلع میں کسی بھی احتجاجی جلوس یا ریلی کو ناکام بنانے کے لئے سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ جاں بحق ہونے والے شہریوں کے رسم چہارم اور حریت قیادت کی طرف سے دی گئی کولگام چلو کی کال کے پیش نظر ضلع مجسٹریٹ کولگام نے دفعہ 144سی آر پی سی کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی عائد کردی ہے۔ کولگام کے لوگوں نے الزام لگایا کہ ان کے علاقوں میں تعینات سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں نے انہیں اپنے گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی۔ ضلع میں بیشتر سڑکوں کو خاردار تاروں سے سیل کیا گیا ہے۔ پابندیوں کے بیچ ضلع کولگام میں مسلسل تیسرے دن بھی ہڑتال رہی۔ ضلع بھر میں مسلسل تیسرے دن بھی دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت جزوی طور پر متاثر رہی۔ بھارتی افواج کشمیریوں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ ڈھائے ہوئے ہیں ۔ پاکستان کئی بار اس طرف عالمی برادری کی توجہ مبذول کروا چکا ہے لیکن سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ جیسے ادارے سرد مہری کا مظاہرہ کررہے ہیں جس سے بھارتی فوج کشمیریوں پر اپنے ظلم جاری رکھے ہوئے ہے ۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا اور نہ ہی کشمیریوں کو حق خودارادیت دی جارہی ہے ۔ پاکستان چاہتا ہے کہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام متنازعہ مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے لیکن بھارت پاکستان کی امن کوشش کو سبوتاژ کرتا چلا آرہا ہے جس سے خطے کا امن خطرے میں دکھائی دے رہا ہے ۔ خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب مسئلہ کشمیر کا ادراک ہوگا۔
قتل کی لرزہ خیز واردات
سرگودھا کے نواحی علاقے چک95 شمالی میں قتل کی لرزہ خیز واردات نے عوام الناس میں اضطراب پھیلا دیا۔ اس دردناک واقعے کا شاخسانہ گدی نشینی قرار پایا۔ اس واقعے میں قتل ہونے والے تمام افراد کو جرگہ کیلئے بلایا گیا اور پھر نشہ آور چیز کھلا کر انہیں ڈنڈوں اور چھریوں کے وار کر کے قتل کر دیا گیا۔سارا واقعہ گدی نشینی کے حوالے سے ہے ۔ملزم عبدالوحید اور پیر علی محمد گجر کے بیٹے آصف کے درمیان گدی پر قبضہ کیلئے تنازعہ چل رہا تھا۔ علی محمد گجر اسلام آباد میں رہتا تھا اور سرگودھا منتقل ہو گیا جہاں ایک تھڑے پر بیٹھ کر دم درود کیا کرتا تھا۔ علی محمد گجر کی 2 سال قبل وفات ہوئی تو اس کے بیٹے آصف نے اسی جگہ پر بیٹھ کر دم درود کرنے کا کام شروع کر دیا اور اس طرح دونوں کے درمیان گدی نشینی کا تنازعہ چل نکلا۔آصف اور ملزم عبدالوحید، دونوں کی گدی کے خواہشمند تھے اور اس تنازعہ کے حل کیلئے جرگہ بلایا اور قتل ہونے والے بیشتر افراد کا تعلق ایک ہی برادری کے ساتھ ہے جو صلح صفائی کیلئے بلائے گئے جرگے میں شرکت کیلئے آئے تھے۔جیسے جیسے لوگ جرگے میں شرکت کیلئے آتے رہے تو انہیں دربار کے ساتھ متصل مکان میں لے جا کر نشہ آور غذا کھلائی گئی اور پھر قتل کیا جاتا رہا۔ اندھا اعتقاد کا یہ واقعہ اپنے پس منظر میں ایک درد بھری کہانی رکھتا ہے ، پاکستان بھر میں جعلی پیروں کی بھرمار ہے جس سے کئی دلخراش واقعات رونما ہورہے ہیں۔ اس واقعہ کی تحقیقات کرکے سفاک قاتل کو عبرت کا نشان بنایا جائے تاکہ آئندہ اس طرح کا واقعہ رونما نہ ہو۔