- الإعلانات -

پاک افغان تعلقات۔۔۔مستقبل کے آئینے میں

گزشتہ سے پیوستہ افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے روس مثبت کردار ادا کر رہا ہے اور آئندہ ماہ ماسکو میں بارہ ممالک کی کانفرنس کا انعقاد کر رہا ہے جس میں امریکہ نے شرکت کرنے سے انکارکر دیا ہے البتہ طالبان اس کانفرنس میں شریک ہوں گے۔ دوسری جانب پاکستان نے موقع ضائع کر دیا ہے کیونکہ ہم خود قائد اعظم محمد علی جناح کے قائم کردہ حفاظتی حصار کواپنے ہی ہاتھوں سے توڑ چکے ہیں جس کے نتیجے میں ہمیں دونوں محاذوں پر جنگ کا سامنا ہے اور سرحد پار سے دہشت گردی کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ ایک ایسی صورت حال ہے جو ہمارے کنٹرول سے باہرہے۔2004 ء میں راولپنڈی میں جنرل مشرف پرقاتلانہ حملہ ہوا توامریکہ نے مشرف کو باور کرایا کہ اس دہشت گردی کا ماسٹر مائنڈ وزیرستان میں ہے تو بغیر کچھ سوچے سمجھے مشرف نے قبائل کے خلاف لشکر کشی شروع کر دی اور یہی امریکہ کی خواہش تھی کیونکہ امریکہ نے پاکستانی قوم کے نظریہ حیات کو تبدیل کرنے کیلئے بھاری رقوم فراہم کی تھیں جس کے سبب آج پاکستانی قوم کے اندر شدید نظریاتی تصادم کی کیفیت ہے جو انتہائی خطرناک ہے جو ہمیں انڈونیشیا میں 1965-66 میں پیدا ہونے والی صورت حال سے دوچار کر سکتی ہے لیکن یہ حقیقت یاد رہے کہ پاکستان کو ئی جزیرہ نہیں ہے۔اس کی ایک جانب انقلابی افغانستان ہے تو دوسری جانب انقلابی ایران ہے اور ملک میں موجود دینی جماعتیں بھی اس چپقلش میں شامل ہوگئیں تو ایسا تصادم برپا ہوگاجس سے پاکستان کی بنیادیں ہل جائیں گی۔ان معاملات کو درست کرنا ہمارے اختیار میں ہے لیکن ابھی تک کوئی بھی مثبت پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ اس صورت حال کے پیش نظرپاکستان کی کیا حکمت عملی ہونی چاہئیے۔اس حوالے سے ہمیں چندبنیادی باتوں کا خیال رکھنا ہوگا:امریکہ کی مخالفت کے باوجود روسی اقدامات کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں کیونکہ طالبان کو روس پر اعتماد ہے جبکہ ایران اور چین بھی روسی اقدامات کی حمایت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ امریکہ افغانستان سے نکل جائے اس لئے کہ صرف طالبان ہی وہ قوت ہیں جو داعش کو ختم کرکے امن قائم کر سکتے ہیں۔ جس طرح روس نے امریکہ کو شام میں ندامت اٹھانے سے بچایا اسی طرح وہ اسے افغانستان سے نکلنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔* پاکستان کو قائد اعظم کے نظریے کی جانب لوٹنا ہوگا کیونکہ ساٹھ فیصد پختون آبادی پاکستان میں اور چالیس فیصد افغانستان میں ہے جو طاقت کا ایک نیا محور ہیں اور انہوں نے ڈیورنڈ لائن کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ایک مضبوط قوم کو ایک لکیر کھینچ کر اور باڑ لگا کر تقسیم کرنا ناممکن ہے۔پختون اکثریت کی سوچ و فکر کا ادراک ضروری ہے۔
* پاکستان کو قبائل اور کالعدم تنظیموں کے ساتھ مذاکرات کی راہ اپنانی چاہئیے کیونکہ اصل معاملہ سیاسی سماجی اور اخلاقی ہے جسے عسکری طاقت سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ہمارے قبائل کے احتجاج کا طریقہ ہی یہ ہے کہ وہ بندوق اٹھا کر پہاڑوں پر چلے جاتے ہیں جبکہ پنجاب سندھ اور دیگر جگہوں میں عوام سڑکیں بلاک کر کے احتجاج کرتے ہیں تو ان کے ساتھ بات چیت کی جاتی ہے۔ اسی طرح قبائل کو بھی بات چیت سے قائل کیا جا سکتاہے۔یہ سراسر سماجی انصاف کا معاملہ ہے۔ افغانستان کے متحارب دھڑوں کے مابین بات چیت کا عمل روس کی کاوشوں سے ممکن ہے جس کے بعد غیر ملکی فوجیں وہاں سے نکل جائیں گی۔ اس سلسلے میں پاکستان اور افغانستان کو اپنے پناہ گزین قبائل کی وطن واپسی کیلئے عام معافی کا اعلان کرنا ضروری ہوگا۔
افغانیوں کو اپنی مرضی سے اسلامی امارت افغانستان قائم کرنے کی اجازت لازم ہے۔ یہی وہ رکاوٹ ہے جس کے سبب 1990ء میں خانہ جنگی کا آغاز ہوا اور اب امریکہ اپنی شکست کے بعد2010ء سے یہی رکاوٹ بنا ہوا ہے اور امن کی راہ میں حائل ہے۔
امریکہ اس وقت افغانستان کے معاملات سے لاتعلقی اور تھکاوٹ کا اظہار کر رہا ہے جو غلط ہے۔ حالات کا تقاضا ہے کہ ان مذاکرات میں بھرپور شرکت کرکے مسئلے کا حل تلاش کرے اور افغانستان کی تعمیر نو کا اہتمام کرے جو اس کی ذمہ داری ہے۔امریکہ اس وقت بھارت کا سب سے بڑا دفاعی شراکت دار ہے اور اسے اعلی حربی سازوسامان فراہم کر رہا ہے جیسا کہ وہ اسرائیل برطانیہ اور آسٹریلیا کو مہیا کرتا رہا ہے۔ اس کاروائی کا مقصد بھارت کو خطے میں برتری دلانا ہے جس طرح اسرائیل کو فلسطینیوں اور مشرق وسطی کے تمام ممالک کے خلاف برتری دلائی ہے۔سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اس سے بھارت پاکستان کے خلاف سائبر جنگ لڑنے کے قابل ہو جائے گا۔امریکہ نے2009ء میں سائبر کمانڈ قائم کی اور بھارت نے 2014ء میں جبکہ پاکستان اس سلسلے میں بہت پیچھے ہے۔
اس ساری صورت حال میں جو نیا عالمی نظام ابھررہا ہے اس کے خدوخال سمجھنے کیلئے دنیا کی بڑی طاقتوں کے سربراہوں کے مندرجہ ذیل اقوال کو سمجھنا اور ان پر غور کرنا ضروری ہے اس لئے کہ افغانستان پاکستان اور ایران دنیا کی ان بڑی طاقتوں کے مفادات کے ٹکراو کا محوربنتے دکھائی دے رہے ہیں:- امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں امریکہ کو عظیم تر بنانے کی خاطر ہمیں اپنی عسکری قوت کو عالمی سطح پرناقابل تسخیر بنانا ہوگا۔ یعنی وہ اب بھی اسی خواب میں مبتلا ہے جو انہوں نے جنگ عظیم دوئم کے بعد دیکھا تھا اور اپنی عسکری و اقتصادی قوت پر انحصار کر کے دنیا بھر میں سات سو سے زائد عسکری اڈے قائم کئے اور اپنی برتری قائم رکھی لیکن اب یہ خیال فرسودہ ہو چکا ہے کیونکہ روش بدل چکی ہے اور عالمی نظام کے نئے نئے مراکز کے درمیان ایک نیا نظام جنم پا رہا ہے جو روس اور چین کی نئی سوچ سے عبارت ہے۔
– روسی صدر پیوٹن کا کہنا ہے ہم مستقبل میں تصادم کی منطق کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس لئے جنگ کی تیاری کے ساتھ ساتھ امن کی جانب روبہ عمل ہیں۔
– چین کے صدر زی جن پنگ کے بقول ہم معاشرے کی مشترکہ منزل کوجدید ترقیاتی منصوبوں اور باہمی روابط کی ترقی کے ذریعے مضبوط بناسکتے ہیں۔ یہی سوچ و فکرنئے عالمی نظام کی پہچان ہے جس کی پذیرائی پوری دنیا کررہی ہے۔نئے نئے راستے کھل رہے ہیں اور خوش آئند بات یہ ہے کہ اس تبدیلی کا مرکز پاکستان ایران اور افغانستان ہیں جہاں قوموں کے درمیان تعاون و ترقی کی ایک نئی صبح طلوع ہو رہی ہے جس کی روشنی کراچی گوادر بندر خمینی اور چاہ بہار کی گزرگاہوں سے آگے افروایشین سمندر کی وسعتوں تک پھیل جائیگی۔ یہی ان تین ملکوں کی وہ تذویراتی گہرائی ہے جس کا خواب ہم نے 1988ء میں دیکھا تھا۔اس خواب کو حقیقت بنانے کا وقت آگیا ہے۔
****