- الإعلانات -

سڑکیں بنانے سے جدوجہد آزادی دبائی نہیں جا سکتی

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورے کے خلاف وادی بھر میں شٹر ڈاون ہڑتال سے وادی میں حالات کشیدہ ہوگئے ۔ احتجاج روکنے کیلئے اہم مقامات پر بھارتی فوج کی بھاری نفری تعینات کی گئی جبکہ وادی کے مختلف شہروں میں کرفیو نافذ۔ مزید ستم یہ کہ ریاستی انتظامیہ نے حریت قیادت کو گھروں میں نظربندکردیا ۔بھارتی فوج کی مشتعل مظاہرین پر فائرنگ اور لاٹھی چارج سے درجنوں کشمیری زخمی ہوگئے۔ سری نگر میں جزوی کرفیو سے اکثر علاقوں میں لوگ گھروں میں محصور ہوگئے ۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جموں سرینگر نیشنل ہائی وے پر 9.2 کلو میٹر طویل سرنگ کے افتتاح کیلئے گزشتہ دنوں مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا جس کے خلاف حریت قیادت کی اپیل پر پوری مقبوضہ وادی میں شٹر ڈان ہڑتال کی گئی جبکہ احتجاج روکنے کے لیے اہم سڑکوں پر بھارتی فوج کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ ضلع کولگام بالخصوص فرصل کی طرف جانے والی بیشتر سڑکوں کو خاردار تار سے بند کردیا گیا تھا جبکہ ضلع میں کسی بھی احتجاجی جلوس یا ریلی کو ناکام بنانے کے لئے سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دبے لفظوں میں مقبوضہ کشمیرکے نوجوانوں سے قابض فوجیوں پرپتھراؤکاشکوہ کرتے ہوئے کہاہے کہ کشمیر میں خون خرابے نے صرف ہلاکتیں اورتباہی دی اس سے کسی کوفائدہ نہیں ہوا۔40سال اگرسیاحت پرتوجہ دیتے توآج صورتحال یکسرمختصرہوتی، ایک طرف پتھر برسانے والے ہیں اوردوسری طرف کشمیرکے مستقبل کیلئے پتھرتوڑنے والے ،سنگ باز سنگ تراشوں کودیکھیں۔ہم نے کشمیرمیں ایشیاء کی سب سے بڑی روڈٹنل بنالی،اس طرح کی مزیدنوٹنلز بنائیں گے ۔ پاکستان کے عوام کودکھائیں گے کہ ان کے سیاستدان ان کیلئے کچھ نہیں کررہے۔ پاکستانی کشمیر کے لوگ بھی دیکھ لیں ترقی کیا ہوتی ہے ؟حقیقت یہ ہے کہ نریندر مودی کا دورہ کشمیر مظلوم کشمیری مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ سڑکیں اور ٹنلیں بنا نے کی باتیں کر کے کشمیریوں کو دھوکہ نہیں دیا جاسکتا۔کشمیریوں کا احتجاج اور شدید ردعمل دیکھ کربھارت سرکار کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ بھارتی وزیر اعظم کے دورہ کشمیر پر پوری کشمیری قوم سراپا احتجاج ہے۔ شہر شہر ہزاروں کشمیریوں کے سڑکوں پر نکلنے سے یہ بات ایک مرتبہ پھر ثابت ہو گئی ہے کہ کشمیری قوم شہداء کی سرزمین پر ہزاروں مسلمانوں کے قاتل مودی کا وجود برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔بھارت سرکارنے کشمیریوں کو احتجاج میں شامل ہونے سے روکنے کیلئے پورے کشمیرکو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ سید علی گیلانی سمیت پوری حریت قیادت کو نظربندکر کے ان کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ایسی مذموم حرکتوں سے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو سرد نہیں کیا جاسکتا۔ اقتصادی پیکج کے اعلانات سے کشمیریوں کو مرعوب نہیں کیا جاسکتا۔بی جے پی کی سرپرستی میں ایک طرف نہتے مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔ آٹھ لاکھ غاصب فوج نے ان کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ ان کی عزتیں اور جان و مال سمیت کوئی چیز محفوظ نہیں ہے لیکن دوسری جانب نریندر مودی کشمیر کا دورہ کر کے ان کیلئے اقتصادی پیکج کا اعلانات کر کے دنیا کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔کشمیریوں کی جدوجہد آزادی بھرپور انداز میں جاری ہے اور جاری رہے گی۔ بھارت طاقت و قوت کے بل بوتے پر کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کچلنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ہندوستانی فوج نے پورے کشمیرکو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر رکھا ہے۔ پوری حریت قیادت نظربند ہے اور لوگوں کے مساجد میں نمازوں کی ادائیگی میں بھی رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں لیکن نام نہاد انسانی حقوق کے عالمی اداروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔جہاں تک مودی نے پاکستانی سیاستدانوں کو للکارا ہے تو عرض ہے کہ کرپشن اور اقربا پروری کے باوجود ہمارے حکمران، سیاستدان بھارتی سیاستدانوں اور حکمرانوں سے لاکھ درجہ بہتر ہیں۔ ہمارے سیاستدانوں نے عوامی فلاح و بہبود کے لئے بہت سے کام کیے ہیں۔ موجودہ حکومت نے عوامی فلاح کیلئے میٹرو، پاور پراجیکٹس اور دیگر منصوبے شروع کئے جن میں کرپشن نہیں ہورہی۔ یہ بات ہم نہیں بلکہ دوسرے ممالک کی سروے رپورٹس کہہ رہی ہیں۔ سی پیک بھی ہمارے حکمرانوں کی وجہ سے ہی عمل پذیر ہورہا ہے۔ جس کی بھارت کو بہت تکلیف ہے ۔بھارت نے سفارتی میدان میں پاکستان کو تنہاکرنے کی جو کوششیں کیں ان پر پانی پھر گیا۔ اب بھارت خود تنہا رہ گیا ہے۔ اس کی عوام بھوکوں مر رہی ہے۔ اقلیتوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔ عام انسان کا بھارت میں رہنا دوبھر ہو رہا ہے۔ کہیں گائے کشی پر فسادات، تو کہیں عیسائیوں کے خلاف جلاؤ ،گھیراؤ۔ یہ ہے مودی کا بھارت۔ اس کے مقابلے میں پاکستان الحمد اللہ بہت پرامن ملک ہے۔ ہمارے ہاں ہونے والی بھارتی دہشت گردی کو بھی اب لگام ڈالی جا چکی ہے۔ ہمارے ہاں ترقیاتی منصوبے دھڑا دھڑ شروع ہو رہے ہیں۔ سی پیک کی وجہ سے علاقائی ممالک، سنٹرل ایشیا، یورپ قریب آرہے ہیں۔ مودی کو اگر مقبوضہ کشمیر میں ترقی کا اتنا ہی شوق ہے تو وہ کشمیری عوام کی صرف ایک آواز پر کان کیوں نہیں دھرتا کہ کشمیریوں کو آزادی دو۔مودی کا خیال ہے کہ ایک سڑک اور ایک ٹنل بنا کر وہ مظلوم کشمیریوں کے دل جیت لے گا تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔ کشمیریوں کو سڑکیں نہیں صرف آزادی چاہیے اور وہ انشااللہ آزادی حاصل کر کے ہی رہیں گے۔
*****