- الإعلانات -

بھارتی میڈیا کی مخاصمانہ روش

جارج گورڈین بائرن نامور مغربی مفکر نے غلام ذہنیتوں ‘غلام فکروں’ غلام سوچوں کے حامل خود ساختہ دانشوروں ‘سیاسی مبصروں اوراپنی رائے کو دوسروں پر ٹھونسنے والوں کی نام نہاد اظہار آزادی کو برہنہ کرتے ہوئے کیا خوب نشاہدہی کی ہے’ مثلا یہ جوہم روزانہ شب گئے ملکی الیکٹرونک میڈیا پر چلنے والے (ماسوائے چند چینلز)کئی ٹاک شوز میں بیٹھے ہوئے میزبانوں اور مہمانوں کی باتیں سنتے سنتے تھک چکے ہیں، جس موضوعِ گفتگو کو یہ دانشوران اپنے زیرِبحث رکھتے ہیں یہاں عام پاکستانیوں محبِ وطن پاکستانیوں کا ان سے سوال بنتا ہے کہ انکی گفتگو کے جس جس نکات پر بھی بڑے زور وشور سے باتیں کی جارہی ہیں، کیا اِس ملک کی کثیر آبادی کے جذبہِ حب الوطنی کی ترجمانی معلوم دیتی ہیں جی نہیں ایسا بالکل نہیں لگتا؟ بات آگے بڑھانے سے قبل یہ بات قارئین تک پہنچا دی جائے تاکہ تعریف ہوجائے کہ فکری ونظری غلامی میں اور حقیقی ذہنی اور فکری ونظری آزادی میں کیا فرق ہوتا ہے؟ کئی دہائیوں سے بانیان ایک نجی گروپ کو کھلے عام پاکستان کی قومی سلامتی اور پاکستان کی نظریاتی تحفظ کے سلسلہ ہائے دراز پر کیسے کیسے الزامات نہیں سہنا پڑے؟ اتفاق سے آج بھی ہم یہاں یہی بات کررہے برسبیلِ تذکرہ ایک اور یہاں یہ اشارہ بھی دیدیا جائے کہ بانیانِ مقامی نے اپنے ذرائعِ ابلاغ کے اولین انفراسٹرکچر کی بنیاد نظریہِ پاکستان اور پاکستان کی دفاعی سلامتی پر رکھی تھی جو آج کئی دہائیاں گزرجانے کے باوجود بالکل ویسی کی ویسی روز بروز مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جارہی ہے ،مطلب یہ ہے مرحو م ومغفور مجید نظامی جنہیں’ آبروئے ِ نظریاتی صحافت کا امام کہا جاتا ہے اپنی زندگی میں اپنے ہر ایک ملاقاتی پر زور دیا کرتے تھے کہ بھارت کبھی بھی پاکستان کا مخلص پروسی ملک ثابت نہیں ہوسکتا، بھارتی حکام چاہے وہ کسی بھی بھارتی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتا ہو وہ اپنے اندر ‘اکھنڈ بھارت’ کے شدید جذبات رکھتا ہے، اگر وہ مصلحتاً اِس کا برملا اظہار نہیں کرتا تو کوئی بھی پاکستانی یہ نہ سمجھے کہ یہ لبرل بھارتی سیاسی قائد ہے یا زندگی کے کسی بھی شعبہ سے اِس کا تعلق ہے تو وہ بھی اندر سے بھاچپائی ہی نکلے گا، مرحوم مجید نظامی اپنی بات کا خلاصہ یوں اختتام پذیر کیا کرتے تھے بھارتیوں پر کبھی بھروسہ اور اعتماد نہیں کیا جانا چاہیئے) دیکھ لیجئے کتنا وقت بیت گیا۔ 70 برس کچھ کم نہیں ہوتے بھارت میں اگر ایک دھماکہ ہوتا ہے تو بھارتی میڈیا اِیسی خبروں کی نشرو اشاعت کے ساتھ ہی اپنی رائے ظاہر کردیتا ہے کہ ‘ہونہ ہو یہ اِس دھماکے میں کہیں پاکستانی ملٹری خفیہ ادارہ تو شامل نہیں؟ پاکستان گزشتہ آٹھ نو برسوں سے انتہائی خوفناک دہشت گردی کی حالت میں’ایک جنگ کی سی کیفیت میں مبتلا ہے کبھی کہیں دھماکے ہورہے ہیں کبھی کہیں۔ مجال ہے جو کبھی کسی جانب سے ہمارے ‘مہربان’ میڈیا والوں نے کبھی خود بھی اپنا کوئی امکانی قدم اِس بارے میں فوری اٹھایا ہو؟ ملکی میڈیا کی ہی صرف کیا بات کی جائے ؟آئی ایس آئی نے ایرانی سرحدوں کے نزدیکی علاقوں سے بھارتی فوج کے حاضر سروس آفیسر کلبھوشن یادیوکو گرفتار کرکے اسکے ماتحت چلنے والے جاسوسی کے نیٹ ورک پر شکنجہ کسا ،وہ پاکستان میں گرفتار ہے اس کی پاکستان کیخلاف کی جانیوالی مذموم خفیہ کارستانیوں کو تادمِ تحریر کسی عالمی فورم پر اعلیٰ حکومتی حکام نے بھی نہیں اٹھایا جیسا کہ اٹھایا جانے کا حق ہوا کرتا ہے اور بھارتی میڈیا اِس معاملے میں کتنا ‘اسمارٹ’ ہے یہی تو رونا ہے جو ملکی میڈیا کے اجتماعی نظاروں میں کہیں نظر نہیں آتا بقول بھارتی میڈیا تشہیر کی جارہی ہے کہ 2016 فروری کے وسط میں بھارتی پولیس نے تین افراد جن میں گلشن کمارسائیں ‘شیام بابو’ بیرم خان اور صادق خان کو گرفتار کیا ہے، جنہوں نے دورانِ تفتیش اقرار کیا کہ وہ آئی ایس آئی کیلئے بھارتی حساس تنصیبات کی معلومات لینا چاہ رہے تھے؟ بھارتی میڈیا میں ان ہی دِنوں ایسی خبریں خوب ٹیلی کاسٹ کروائی گئیں بھارتی عوام کو گمراہ کرنے عالمی رائےِ عامہ میں پاکستانی حساس اداروں کیخلاف مخالفانہ جذبات ابھارنے کی اِس انتہائی بھونڈی اور بے سروپا اور من گھڑت کہانی کو مزید رنگین بنانے کیلئے یہ خبر دی گئی کہ بھارتی اسٹرٹیجک معلومات کو جمع کرنے کیلئے مدھیہ پردیش میں باقاعدہ چلانے والے اِس خفیہ نیٹ ورک پر بھارتی انسدادِ دہشت گردی نے کافی عرصہ سے نظر رکھی ہوئی تھی اور یہ بھی کہا گیا کہ اِس نیٹ ورک سے منسلک مزید 10 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے، یہ مشکوک خبریں نجانے کب سے پاکستانی قوم سن رہی ہے دیکھا گیا ہے کہ اِس سے ملتی جلتی خبریں اگر ایک بار بھارتی میڈیا پر آجائیں تو بھارتی میڈیا یا بھارتی خفیہ ادارہ ‘را’ اِس انتظار میں رہتے ہیں کہ ان کی اِس انتہائی بے سروپا اور لغویات سے بھری ہوئی خبروں پر پاکستانی ذرائعِ ابلاغ کوئی توجہ دیتا ہے یا نہیں؟ حالیہ پاکستان میں اٹھنے والے حسین حقانی کے معاملے سے کیا بہت کچھ واضح نہیں ہوچکا حسین حقانی جیسے غدارِ وطن جب پاکستانی میڈیا کے چند حلقوں نے اپنی بغلوں میں چھپا رکھے ہوں، اسکے انتہائی وطن فروشانہ طرزِ عمل پر اسے کٹہرے میں لاکھڑا کرنے کی بجائے اس پر ملکی سپریم کورٹ میں لگنے والے الزامات پر اسکی دلالت ‘ وکالت اور صفائی اسی کی زبانی سننے کیلئے اسے واشنگٹن سے آن لائن اپنے ٹی وی اسکرینوں پر لینے کی روش اتنی پسندیدگی سے اپنائی جارہی ہو تو بھارتی خفیہ اداروں کو کون پوچھے گا کوئی پوچھے نہ پوچھے پاکستان کے کروڑوں عوام تو سوال ضرور پوچھیں گے کیونکہ وہ نہ تو ذہنی او رفکری لحاظ سے معذور اور کمزور ہیں نہ بے بس اور محکوم ہیں وہ سوال اٹھانے کی جرات رکھتے ہیں وہ پاکستان میں جاری بھارتی سپانسرڈ دہشت گردی کی مکمل روک تھام کیلئے اپنے ملکی سلامتی کے اداروں کے ساتھ کل بھی قدم بہ قدم کھڑے تھے آج بھی وہ ایک قدم پیچھے ہٹنے کو بالکل تیار نہیں’افسوس اور بارہا افسوس کالمحہ ہے مگر کوئی یہ نہ بھولے کہ بھارت کے ساتھ دوطرفہ تجارت اور باہمی کھیل تماشوں کی آڑ میں پاکستانی عوام اپنی قومی خود مختاری قومی ثقافتی آزادی اور اپنی نظریاتی آزادیوں کے تحفظ پر کسی صورت میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے اور نہ نام نہاد بظاہر انسان دوست بن کر علاقائی محبت کے پیغامات پر اہلِ پاکستان اہل کشمیر کے حق خود ارادیت کے اپنے جائز مطالبے سے پیچھے ہٹیں گے۔
*****