- الإعلانات -

این اے 122میڈیا کا کردار؟

Asif-Mehmood

این اے ایک سو بائیس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔اس الیکشن کے ایک ایک زاویے پر بات ہوچکی ہے لیکن جو پہلو اس کا تشنہ ہے وہ اس سارے معرکے میں میڈیا کا کردار ہے۔
الیکشن کے روز صبح ایسی ہی تھی جیسے بالعموم ہوتی ہے۔پر سکون۔اتوار کا روز تھا۔اور یہ دن بچوں کے نام ہوتا ہے۔کارٹون کی تلاش میں میری بیٹی نے ٹی وی آن کیا تو ایک اینکر صاحب میک اپ تھوپے، ٹائی کوٹ لگائے ، پھولی ہوئی سانس کے ساتھ ضمنی انتخاب پر ڈگڈگی بجائے جا رہے تھے۔وہ چینل بدلتی گئی اور جب تک نیوز چینلز کی سیریز ختم نہ ہوئی کم و بیش ہر چینل پر ایک عدد اینکر اور تین چار سینیر تجزیہ کار قوم کی سماعتوں کا امتحان لے رہے تھے۔ایک معمول کی انتخابی مشق کو عذاب بنا کر قوم کے سر پر سوار کر دیا گیا۔ایک ہیجان بپا تھا اورر اینکر اور اینکرنیاں بد حوواس ہرنوں کی طرح قلانچیں بھر رہے تھے۔اس لمحے مجھے نوابزادہ نصر اللہ کان بہت یاد آئے، ایسے موقعوں پر مسکرا کر کہا کرتے تھے:” اگے بھابھو نچنی اتوں ڈھولاں دے گھمکار۔۔۔۔۔۔تو جناب کبھی میڈیا اپنی اداﺅں کو بھی موضوع بنائے گا یا اسے صرف دوسروں کے گریباں کی دھجیاں اڑانے میں مزہ آتا ہے۔؟اہلِ سیاست کے این آر اوز کو تو ہم روز تنقید کا نشانی بناتے ہیں لیکن کیا میڈیا نے خود بھی ایک این آر او نہیں کر رکھا۔اہل صحافت کے جن کرتوتوں سے شہر میں تعفن پھیل چکا ہوتا ہے وہ کرتوت بھی اہلِ صحافت کے ہاں کبھی زیر بحث نہیں آئے۔خاموش مفاہمت۔کبھی کسی نے سوچا کیوں؟کاش کوئی سوچے۔
اب چونکہ سوشل میڈیا ان کے بارے میں سوال اٹھارہا ہے۔اہل سیاست تو ان سے ڈرتے ہیں سوشل میڈیا ان سے نہیں ڈرتا۔چنانچہ میڈیا کے حضرات منہ بنا کر سوشل میڈیا کو دشنام دیتے پائے جاتے ہیں۔ خود اینکروں اور کاالم نگاروں اور ایڈیٹروں کے جو کارنامے میڈیا کی دنیا کو ہلا ئے ہوئے ہیں ان پر میڈیا میں کبھی بات نہیں ہوئی۔یعنی میڈیا صرف دوسروں کی پگڑی اچھالنے میں آزاد ہے۔اپنی برادری کی بات آ جائے تو یہ گونگا بہرا اور اندھا بن جاتا ہے۔
سوشل میڈیا اصل میں اسی ردعمل کا عکاس ہے۔اب لوگ سوال اٹھا رہے ہیں۔لوگون کے گریبانوں پر ہاتھ ڈال کر ریٹنگ کے مزے لینے والے اہلِ صحافت کے اپنے گریبانوں تک خلقِ خدا کا ہاتھ پہنچاتو پہلے ہی مرحلے میں احباب کی چیخیں نکل گئیں۔چنانچہ باجماعت سوشل میڈیا کی مذمت شروع کر دی گئی۔
ارشاد ہو ا :یہ غیر ذمہ دار ہے۔فرمایا گیا: یہاں جاہل بیٹھے ہیں۔فیصلہ سنا دیا گیا: ان کی معلومات ٹھیک نہیں۔طعنہ دیا گیا: ان کو کیا پتا۔کوئی پوچھے حضور یہ تو غیر ذمہ دار ہے آپ کتنے ذمہ دار ہیں ،بکری بکرے کو سینگ مار دے تو آپ بریکنگ نیوز دے کر پھولی سانسوں سمیت اس پر ماہرانہ تجزیے شروع کر دیتے ہیں۔یہ جاہل ہیں تو آپ کون سا علم و ادب کی آبرو ہیں۔ان کو کچھ پتا نہیں تو آپ کون سا ایران توران کی خبریں لاتے ہیں،ذرا اپنے خبرناموں کا معیار تو دیکھئے۔اردو کا بھی ستیاناس کر دیا گیا ہے۔سنجیدگی اور ذوقِ سلیم کی تو بات ہی نہ کریں کہ یہ تو جنس کمیاب ہے۔
سوشل میڈیا میں یقینا کچھ خامیاں ہوں گی لیکن خامیاں کہاں نہیں ہوتیں؟خود میڈیا کا کیا حال ہے یہ سب کو معلوم ہے۔سوشل میڈیا میں بات کہنے کا اپنا ایک ڈھنگ ہے۔بے ہودہ بھی اور غیر سنجیدہ بھی لیکن یہ ادھوری تصویر ہے۔مکمل تصویر یہ ہے کہ سوشل میڈیا بعض اہم سوالات بھی اٹھا رہا ہے۔آپ اس کی غیر سنجیدگی کا رونا روتے ہیں لیکن آپ اس کے سوالات کا جواب نہیں دے رہے۔رمشا سے لے کر ملالہ تک سوشل میڈیا کے کچھ سوالات میں بہت وزن ہے۔میڈیا کے پاس ان کا جواب نہیں ہے ۔وہ جواب میں سوشل میڈیا کو طعنے اور کوسنے دے کر کام چلا رہا ہے مگر دیانت کی دنیا میں اس رویے کا کوئی اعتبار نہیں۔گدھا گاڑی کسی بیل گاڑی کو چھو کر گزر جائے تو یہ میڈیا کی بریکنگ نیوز ہوتی ہے لیکن سوشل میڈیا مہینہ بھر سے سوالات اٹھا رہا ہے اور میڈیا ان کا جواب نہیں دے رہا۔۔کیوں؟ یہ خبط عظمت ہے یا اندر کا چور؟آپ سوشل میڈیا کے سوالات کو موضوع بحث تو بنائیے۔اگر یہ سوالات غیر سنجیدہ ہیں تو یہی کہ دیجئے۔لیکن ایسی بے اعتنائی؟حیرت ہوتی ہے۔ٹاک شوز میں مرغوں کی طرح مہمانوں کو لڑا کر ریٹنگ تلاش کر کے سماج کی اقدار کو برباد کر دینے والے اینکر ز سوشل میڈیا سے گلہ کر رہے ہیں کہ وہ غیر ذمہ دار ہو گیا ہے۔
حیرت ہے۔ہے کہ نہیں؟