- الإعلانات -

بھارتی حملے کی صورت میں پاکستان بھرپور جواب دے گا

بھارتی آرمی چیف نے تسلیم کیا ہے کہ کسی بحرانی و اقعے میں ہمسایہ ملک پاکستان پر خفیہ فوجی حملے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جبکہ برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے بھارت پر واضح کردیا ہے کہ حملے کی صورت میں پاکستان ایٹمی ہتھیار استعمال کرے گا۔پاکستان کی قومی سلامتی کو غیر ملکی افواج کی پیش قدمی سے خطرہ ہوا تو پاکستان اپنے تمام ہتھیاروں کو استعمال کرے گا۔ملک کے دفاع کے لئے ہر قسم کاہتھیار استعمال میں لایا جائے گا بھارت طویل عرصے سے کولڈ اسٹارٹ منصوبے کی آڑ میں پاکستانی علاقے پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے جس کے تحت دہشت گردی کے کسی واقعے کو پاکستان پر حملے کے لیے جواز بنایاجائیگا اوراگر بھارت نے ایسی کارروائی کی ہمت کی تو پاکستان اپنے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔برطانوی اخبار’’فنانشل ٹائمز ‘‘کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکام نے بھارت کی طرف سے حملے کی صورت میں نیوکلیئر ہتھیار استعمال کرنیکا واضح عندیہ دیا ہے۔جینوا میں اقوام متحدہ کیلئے سابق پاکستانی سفیر ضمیر اکرام نے اسٹریٹجک ویژن انسٹی ٹیوٹ (ایس وی آئی) کی جانب سے منعقدہ ایک سیمنار جس کا موضوع ‘ساؤتھ ایشیا نیوکلیئر ڈاکٹرائن: جوہری ہتھیاروں کا توازن اور اسٹریٹجک استحکام تھا،سے خطاب کے دوران کہا کہ ہم اسے برابری کی بنیاد پر نہیں لے رہے، ہم اسے تناسب کے حوالے سے لے رہے ہیں، ہم اسے اپنے تحفظ کیلئے جوابی حملے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ درست کام اور معتبر جوہری طاقت صرف جوابی حملے کی صلاحیت سے حاصل ہوسکتا ہے جو کہ تیار کرلیا گیا ہے۔ سب سے بڑی ضرورت اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ جوہری طاقت کیلئے کسی قسم کی تاخیر نہیں ہونی چاہیے، جس کے لیے ‘مکمل سپیکٹرم ڈیٹرنس’ کے نظریے کے تحت اقدامات جاری ہیں۔ضمیر اکرام نے اس امر کا اظہار کیا کہ بھارت پاکستان کو غیر مسلح کرنے کیلئے حملے میں پہل کی کوشش کرے گا۔ایم آئی ٹی اسکالر وی پن نارنگ اور دیگر بھارتی حکام کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘سب سے زیادہ جو ہم سن رہے ہیں۔ (کہ بھارت چاہتا ہے) ایسی صلاحیت حاصل کرنا جو پاکستان کو پہلے ہی حملے میں مکمل تباہ کرکے غیر مسلح کردے اور ہمارے جوہری اثاثے ختم کردے۔انھوں نے یہ زور دیا کہ یہ انکشاف پاکستانی حکمت عملی ترتیب دینے والوں کیلئے حیرت کی بات نہیں ہے جنھوں نے پہلے ہی اپنا منصوبہ اس خیال کے تحت بنایا تھا کہ بھارت ایسا کرنے کی کوشش کرے گا۔ بھارت کی جانب سے محض زبانی عزم کی نشاندہی پر ہم نے اپنی جوہری اور دفاعی صلاحیت ترتیب نہیں دی۔ بھارت کی جانب سے بڑے پیمانے پر فوجی ہتھیاروں کے حصول، عوام میں اس کی جانب سے پہلے جوہری ہتھیار استعمال نہ کرنے کی پالیسی، پاکستان کو غیر مسلح کرنے کیلئے حملے کا تعین، اور کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن جیسے خطرناک اور غیر مستحکم عقائد میں اس کی دلچسپی کے باعث خطے میں خطرات بڑھ گئے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر ظفر نواز جسپال نے اپنی پریزنٹیشن میں یہ نشاندہی کی کہ پاکستان اور بھارت دونوں ہی مکمل تباہ کرنے کی صلاحیت میں مہارت نہیں رکھتے۔ تاہم بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے جنگی جنون، ہتھیاروں کی دوڑ اور غیر ریاستی عناصر جوہری ہتھیاروں کے استحکام کو محدود کررہے ہیں۔ بھارت نے 1980 کی دہائی میں پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کیلئے حملے میں پہل کرنے کا سوچا تھا لیکن اپنے منصوبے پر عمل درآمد نہیں کرسکا۔پاکستانی فوج کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے خلاف کسی بھی قسم کی سوچی سمجھی جارحیت یا کسی دفاعی غلطی کو نہ تو برداشت کیا جائے گا اور نہ ہی معاف، بلکہ ایسی کسی بھی صورت میں پاکستان کا جواب بہت بھرپور ہو گا۔ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور وہ باہمی عزت اور برابری کی بنیاد پر تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ روابط کی پالیسی پرکاربند رہنا چاہتا ہے۔بھارت لائن آف کنٹرول پر اور نئی دہلی کے زیر انتظام کشمیر کے حوالے سے حقائق کو مسخ کر کے بیان کر رہا ہے۔ پاکستان ہمسایہ ممالک سے دوستانہ روابط چاہتا ہے لیکن کوئی بھی یہ نہ سوچے کہ پاکستانی اپنے وطن کے دفاع کیلئے متحد نہیں ہوں گے۔ اگر پاکستان کے خلاف کسی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کسی بھی قسم کی کوئی جارحیت کی گئی یا اسلام آباد کے خلاف کوئی دفاعی غلطی کی گئی، تو اسے معاف نہیں کیا جائے گا اور اس کا بھرپور جواب دیا جائیگا۔
*****