- الإعلانات -

مایوسی گناہ ہے

سیاست دراصل شیوہ پیغمبری ہے ہمارے انبیا کرام خلفائے راشدینؓ اور اصحاب نبی العالمین ﷺ بھی سیاست اور سیادت بذریعہ خدمت ہی کرتے رہے یہی مفہوم و تعارف ہمارے ذہنوں میں تھا صدر محمد ایوب خان کی صدارت کے آخری دن تھے ہمارا زمانہ طالب علمی تھا ان کے خلاف تحریک زوروں پر تھی ہمارے استاد محترم عبدالوہاب صدیقی جو ہمیں اردو پڑھایا کرتے تھے ان سے سیاست کا مطلب پوچھ بیٹھے پھر کیا تھا انہوں نے کچھ جڑاؤ اور ملقب قسم کے اوصاف حمیدہ پڑھے جن کو احاطہ تحریر میں نہیں لایا جا سکتا اور ان کی طہارت کا یہ کالم بھی متحمل نہیں ہو سکتا کہنے لگے یہ سیاست ہے، یہ تھا ہمارا عملی سیاست سے پہلا تعارف اور یہی موجودہ سیاست کی عملی حقیقت بھی, بزرگوں سے سنا تھا قوم کاحاکم اس کا خادم ہوتا ہے اور بس خادم، خادم اعلیٰ نہیں آج کا حاکم صرف حاکم ہوتا ہے اور وہ بھی بادشاہ کی طرح مطلق العنان آپ سے ووٹ کیا لیا آپ بک گئے اور اہل اقتدار اپنے آپ کو بادشاہ سمجھ بیٹھتے ہیں اور یہی لوگ عوام سے اتنے دور چلے جاتے ہیں کہ غریب ملک کے مفلوک الحال عوام سے ٹیکس کے نام پر چھینے گئے پیسوں کو اپنے بزرگوں کا مال بلکہ حرام کا مال سمجھ کر اس بے دردی سے اڑاتے ہیں کہ الامان والحفیظ سو 100گاڑیوں کے لشکر ساتھ لئے پھرتے ہیں جس شہر میں نازل ہوتے ہیں عذاب الٰہی کی طرح نازل ہوتے ہیں گھنٹوں ٹریفک بند رکھا جاتا ہے ان کی آمد پر لوگوں کی نقل و حرکت اور اقتصادی سرگرمیاں محدود ہو کر رہ جاتی ہیں لیکن جب یہ بیرون ملک جاتے ہیں سیکیورٹی کے نام پر ان کے جوتے تک اتروا لئے جاتے ہیں اور بھیڑ بکریوں کی طرح متعلقہ افسر کے اشارہ ابرو پر ہی حرکت کرتے ہیں کئی حضرات کو ہم نے برابھلابھی پڑتے بھی دیکھا ہے جو اس عزت افزائی کے جواب میں بے بسی سے برابھلابھی کو دیکھتے سگریٹ کا ایک گہرا کش لگا کر آگے چل پڑتے ہیں اور عزت افزائی کرنے والا مسلسل حجو پڑھتا پیچھے پیچھے چلتا رہتا ہے اس عزت افزائی کی کئی کلپس آج بھی یوٹیوب کی زینت ہیں۔یہی لوگ مغرب میں ایک اکیلے کھڑے ٹیکسی کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں کوئی پروٹوکول کوئی ہٹو بچو نہیں ہوتا سویڈن جیسے انتہائی ترقی یافتہ ملک کے وزیراعظم آج بھی سائیکل پر دفتر آتے ہیں نکارا گوا کا صدر دفتری اوقات کے بعد اپنے آبائی ملکیتی گھر میں آکر رہتا ہے دوپہر کے بعد اپنی زمین میں ٹریکٹر چلا کر زرعی مزدوری کرکے اسی میں اپنی گزر اوقات کرتا ہے سویڈن کے آنجہانی وزیراعظم اولف پالمے رات کو اپنی بیگم کے ساتھ فلم دیکھ کر نکلے اور قتل کردئے گئے کوئی ہنگامہ نہیں کوئی توڑ پھوڑ نہیں نہ کوئی املاک لوٹی گئیں نہ ٹرینیں جلائی گئیں اور نہ ہی کھپے کہنے کی ضرورت پڑی اگلے چند گھنٹے سوگ کا عالم رہا آخری رسوم ادا کردی گئیں اور بس اگلے روز سب کچھ نارمل کیونکہ ادارے مضبوط ہیں کسی کے آنے جانے سے قطعی کوئی فرق نہیں پڑتا ملکہ برطانیہ کے روایتی پروٹوکول کے علاوہ دنیا میں کہیں کوئی پروٹوکول نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی بیرون ملک سے آئے ہوئے سرکاری مہمانوں کی تکریم کی جاتی ہے انہیں تعلقات کے درجے کے مطابق پروٹول دیا جاتا ہے لیکن امریکی صدر کے ساتھ محافظوں کی چند گاڑیاں اور ایک آدھ موٹر سائیکل ہوتا ہے مشرق وسطی کے حکمرانوں ہی کو دیکھ لیں متحدہ عرب امارات کے حکمران بغیر پروٹوکول کے مارکیٹوں اور شاپنگ مالز میں عام لوگوں سے گھل مل جاتے ہیں ملک کے دور دراز علاقوں میں خود چل کر لوگوں کے پاس جاتے ہیں اور ان کا حال و احوال پوچھتے ہیں اور مسائل معلوم کرتے ہیں اور ان کے فوری حل کے احکام جاری کرتے ہیں جن پر فوری عمل درامد ہو جاتا ہے امریکی صدر کی صاحبزادیان ریسٹورنٹ میں کام کرتی ہیں اور ہمارے ہاں مقتدروں کی بیٹیاں معمولی انکار پر ویٹر کی کھال ادھڑوا دیتی ہیں اوباما کہتا ہے کہ اس تنخواہ میں مشکل سے گزارہ ہوتا ہے کھانے پینے کی اشیا کے علاوہ ٹائلٹ پیپر تک خود خریدنا پڑتا ہے آج کل نیو یارک میں کرائے کے مکان کی تلاش میں ہیں نائب صدر جو بائیڈن کو بیٹے کے علاج کیلئے دوست سے قرض لینا پڑتا ہے تاکہ اس کا گھر بکنے سے بچ جائے اور جب وہ اقتدار چھوڑ کر گئے تو آخری مرتبہ سرکاری گاڑی ان کو ریلوے اسٹیشن چھوڑنے آئی اس کے بعد وہ اپنی بیگم کے ہمراہ عام مسافر کی طرح ٹرین میں بیٹھ کر اپنی ریاست چلے گئے جہاں چند دن آرام کرنے کے بعد علم سیاسیات پڑھائیں گے ہمارے ہاں مقتدروں کو اندازہ تک نہیں ہوتا کہ ان کی جائیدادیں دنیا بھر میں کس کس شہر میں اور کہاں کہاں تک پھیلی ہوئی ہیں این آر او یا مک مکا کا چلن عام ہو چلا ہے مرغی کے انڈے کے چور ک برسوں جیل میں اس لئے رہنا پڑتا ہے کہ اس کا جرمانہ ادا کرنے والا کوئی نہیں ہوتا لیکن اربوں کی لوٹ کے ملزموں کونہ صرف معمولی زرضمانت کے عوض ضمانت دے دی جاتی ہے بلکہ سونے کے تاج سے تاج پوشی کی جاتی ہے خاتون ماڈل کے بیرون ملک اسمگل کئے جانے والے ڈالر پکڑنے والے افسر کو قتل کردیا جاتا ہے اور بیوہ در در بھٹک کر انصاف مانگ رہی ہے محترم ڈاکٹر عاصم حسین پر دہشت گردوں کے علاج اور سہولت کاری کا الزام ہے 5 سو ارب روپے کی کرپشن کے الزام اور کئی دیگر کیسوں میں بذریعہ ریفری جج ضمانت پا چکے ہیں جو بقلم خود و بزبان خود ہوشربا انکشافات کر چکے ہیں کہ وہ کس کیلئے کام کرتے تھے۔ گرمیوں کا موسم آ چکا ہے کچھ اداروں کو ٹھنڈے ٹھار ستو پلادئے گئے ہیں ڈان لیکس کو 6 ماہ ہو چکے ہیں اونٹ کسی کروٹ نہیں بیٹھا ہو سکتا ہے کہ اونٹ ہی کسی صحرا کی جانب ہانک دیا جائے۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ٹھنڈ پروگرام کو تباہ کرے اللہ ابابیل کو سیاسی ستو بنانے والی فیکٹری پر کنکر پھنکوا کر تباہ کروا دے اللہ سے کیا بعید ہے مایوسی گناہ ہے لیکن خلق خدا مایوس ہو رہی ہے اللہ وطن اور اہل وطن کی حفاظت فرمائے۔آمین
*****