- الإعلانات -

افغان کی بگڑتی صورتحال اوردو اعلیٰ عہدیداروں کے استعفے

افغانستان کے شمالی شہر مزار شریف میں فوجی اڈے پر حملے کے بعد افغان آرمی چیف جنرل قدم شاہ شاہم اور وزیر دفاع عبداللہ خان حبیبی اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے ہیں،جبکہ اشرف غنی کے ترجمان شاہ حسین مرتضاوی نے بھی تصدیق کر دی ہے۔پیر کی صبح ہی مظاہرین کے ایک چھوٹے سے گروہ نے صدارتی دفتر کے باہر احتجاج کرتے ہوئے وزیر دفاع کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا،دوسری جانب امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس اپنے پہلے سرکاری دورے پر افغانستان میں ہیں،وہ ایک ایسے وقت پر کابل پہنچے ہیں،جب طالبان کے حملوں تیزی آ گئی ہے اور ٹرمپ انتظامیہ افغانستان کیلئے نئی پالیسی تیار کرنے پر غور کر رہی ہے، تاہم انہوں اس بات کا عندیہ نہیں دیا کہ جنگجوؤں کیخلاف مزید فوجیوں کو افغانستان بھیجنے کی ضرورت ہے،افغانستان میں امریکی فوج کے سربراہ اور نیٹو کمانڈر جنرل جان نکولسن کے ہمراہ پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ امریکہ افغانستان کے مستقبل کے لئے دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے اور کوئی بھی ایک ملک اس کا تنہا ذمہ دار نہیں ہوسکتا۔حالیہ چند ہفتوں میں افغانستان کی صورتحال تیزی کے ساتھ سنگین بگاڑ کی جانب گامزن ہے جبکہ غنی انتظامیہ مکمل طور پر بے بس دکھائی دیتی ہے۔حالات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ ہفتے افغانستان میں طالبان کے ایک بدترین حملے میں افغان فوج کے 140سے زائد فوجی جاں بحق ہوجانے کے بعد غنی حکومت کے دو اعلیٰ عہدیداروں کو مستعفی ہونا پڑا ہے۔افغان طالبان اس حملے کی ذمہ داری بھی قبول کر چکے ہیں جنہوں نے شمالی صوبے بلخ کے علاقے مزارِ شریف میں فوجی اڈے کو نشانہ بنایا تھا۔یہ فوجی اڈہ افغان نیشنل آرمی کی 209ویں کور کی بیس ہے جو شمالی افغانستان میں سکیورٹی کا ذمہ دار ہے اور اس کے زیرِ نگرانی علاقے میں کندوز صوبہ بھی شامل ہے جہاں اکثر جھڑپیں دیکھی جاتی ہیں۔اس سے قبل مارچ کے اوائل میں کابل کے مرکزی ملٹری ہسپتال پر حملہ کیا گیا تھا جس میں تقریباًپچاس افراد جاں بحق ہوئے تھے،تاہم اس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کرنے کا دعوی ٰکیا تھا۔مزارشریف حملے کے بعد افغان آرمی چیف اور وزیر دفاع کا مستعفی ہونا ظاہر کرتا ہے کہ دو اعلیٰ عہدیداروں نے اس کا ملبہ کسی پڑوسی ملک پر ڈالنے کی بجائے اپنی داخلی نا اہلی کو قبول کیا ہے۔یہی کچھ اسلام آباد باور کراتا رہتا ہے کہ افغانستان کے مسائل کا ذمہ دار خود اس کی بغل میں بیٹھا ہے۔اگرچہ میٹس نے الزام لگایا ہے کہ روس طالبان کو اسلحہ فراہم کررہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا بھارت کررہا ہے تاکہ وہ اس لنک کو پاکستان سے جوڑ کر غنی حکومت کو اپنے مقاصد میں استعمال کر سکے۔بھارت صرف طالبان ہی نہیں داعش کو بھی مضبوط کرنے میں مصروف ہے،اسکا ثبوت غیرجوہری بم کے حالیہ حملے میں ملتا ہے کہ جس میں دو درجن سے زائد بھارتیوں کے مارے جانے کی تصدیق ہوئی ہے۔اگرچہ بھارت نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ یہ کوئی نان سٹیٹ ایکٹر تھے جو داعش میں شامل تھے لیکن سچ یہ ہے کہ یہ’’ را‘‘ کے ایجنٹ تھے جو داعش کو پروان چڑھانے میں مدد کر رہے تھے۔جب کبھی افغانستان میں دہشت گردی کا کوئی اندوہناک واقعہ ہوتا ہے تو اس کی ٹیس پاکستان بھر میں محسوس کی جاتی ہے۔مزار شریف حملہ ہو یا قبل ازیں کے واقعات ان کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے شدید الفاظ میں حملے کی مذمت کی ہے۔وزیر اعظم نواز شریف نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں پاکستانی عوام اور حکومت افغان بھائیوں کے ساتھ ہے۔ دہشت گردی مشترکہ دشمن اور خطے کے امن کیلئے خطرہ ہے، تاہم ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افغانستان اور عوام کے ساتھ ہیں جبکہ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی طرح کے حذبات کا اظہار کیا۔آرمی چیف نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان اور افغانستان کو مل کر دہشت گردی کو شکست دینا ہوگی، دہشت گرد پاکستان اور افغانستان کے مشترکہ دشمن ہیں۔مزار شریف حملہ روایتی دہشت گردی کا واقعہ نہیں تھا بلکہ اپنی حساسیت کے حوالے سے بہت اہم ہے۔خودامریکی فوج کے ترجمان جان تھامس نے اس حملے کو اہم قرار دیا ہے کیونکہ ملک کے شمالی علاقوں کو نشانہ بنانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان کی رٹ کابل حکومت کے مقابلے میں تیزی کے ساتھ مضبوط ہورہی ہے۔کابل حکومت بیشتر اوقات افغان طالبان کی ایسی کارروائیوں کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ تلاش کرتی رہتی ہے اور اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈال کر اپنے تئیں افغان عوام کو مطمئن کرنے کی ناکام سی کوشش کرتی ہے جبکہ پاکستان ایک عرصہ سے افغان حکام کو یہ باور کرتا آیا ہے کہ دہشت گردی ایک مشترکہ دشمن ہے اس پر ملکر ہی قابو پایا جاسکتا ہے۔ایک بار پھر پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے اسی عزم کو دوہرایا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کو مل کر دہشت گردی کو شکست دینا ہوگی، دہشت گرد پاکستان اور افغانستان کے مشترکہ دشمن ہیں۔بس یہی اہم نکتہ افغان حکام کے پلے نہیں پڑ رہا۔جس دن یہ بات افغان حکام کو سمجھ آ گئی اس دن سے بہتری کے آثار نمایاں ہونے لگیں گے۔
پاک فوج کا عدلیہ کے اعتماد پر پورا اترنے کا عزم
پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنی زیر صدارت ہونے والی کورکمانڈر زکانفرنس میں عدلیہ کے اعتماد پر پورا اترنے کے عزم کا اظہار کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ ریاست کے اہم ادارے ایک صفحے پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاناما کیس کی تحقیقات میں پاک فوج کا کردار شفاف ہوگا۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کے مطابق شرکا نے پاناما لیکس کیس کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں بنائی جانے والی جے آئی ٹی کے معاملے پر بھی بات چیت کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ادارہ اپنے نمائندوں کے ذریعے جے آئی ٹی کے سلسلے میں شفاف اور قانونی کردار ادا کرے گا اور سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی ذمہ داری پر ایمانداری سے پورا اتریں گے۔پاک فوج کو اس حوالے سے وضاحت کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ بعض حلقوں کی طرف سے ابہام پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ پانامہ کیس میں ملٹری اداروں کا کیا کام بنتا ہے اور شاید پاک فوج اس معاملے دلچسپی نہ لے لیکن گزشتہ روز اس امر کی وضاحت کر دی گئی کہ وہ عدلیہ کے ساتھ پورا تعاون کریں گے۔اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ملک کا ہر ادارہ پانامہ کیس کو سنجیدگی سے منطقی انجام تک پہنچانا چاہتا ہے۔
ایرانی صدر حسن روحانی کے پاکستان کیلئے نیک جذبات
پیر کوایرانی صدر حسن روحانی نے سپیکر قومی اسمبلی سر دار ایاز صادق اور پاکستانی پارلیمانی وفد کے اراکین سے ملاقات کے بعد پاکستان کو بھائی قرار دیتے ہوئے پاکستان کے ساتھ اپنی غیر متزلزل حمایت اور دوستی کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔سر دار ایاز صادق نے صدر روحانی کو یقین دلایا کہ پا کستان کوئی ایسا قد م نہیں اٹھائے گا جو برادر ملک ایران کے مفادات کیخلاف ہو۔ سپیکر نے دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین پائے جانے والے برادرانہ تعلقات کوباہمی مفادات کیلئے مضبوط شر اکت داری میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔صدر روحانی نے وزیر اعظم نواز شریف کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ دونو ں اقوام مستقبل میں ایک دوسر ے کے مزید قریب ہونگی۔ایک ایسے موقع پر جب پاکستان نے عرب فوجی اتحاد کی سربراہی سنبھال لی ہے جس پر ایران کو کچھ تحفظات ہیں صدر حسن روحانی کا پاکستان کو بھائی قرار دینا نہایت اہم اور حوصلہ افزا ہے۔پاکستان ہمیشہ دوطرفہ اور باہمی تعلقات میں ایسے ہی جذبات کی توقع رکھتا ہے اور چاہتا ہے عرب خطے کے تنازعات کو مل بیٹھ کر حل کیا جائے۔