- الإعلانات -

افغان مہاجرین

سویت یونین یلغار کے بعد لاکھوں افغان مہاجرین نے پاکستان کا رخ کیا ۔ پاکستان نے اپنے افغان بھائیوں کو خوش آمدید کہا اور ان کو ہرطرح کی سہولیات فراہم کیں جس میں اقوام متحدہ نے معاونت کی۔اس وقت اندازاًچالیس لاکھ افغان مہاجرین پاکستان میں رہتے ہیں جن میں تقریباً تیرہ لاکھ رجسٹرڈ جبکہ ستائیس لاکھ افغان باشندے غیر رجسٹرڈ ہیں۔ابھی تک ستائیس لاکھ افغان رجسٹرڈ کیوں نہیں ہوئے؟ یہ بات افسوس ناک اور پریشان کن ہے۔ ان ستائیس لاکھ افغان کی بھی رجسٹریشن ہونی چاہیے۔افغان مہاجرین ہمارے بھائی ہیں۔ یہ تقریباً چار عشروں سے ہمارے پاس رہتے ہیں۔یہ افغان مہاجرین کیمپوں میں رہتے ہیں اور بعض ہمارے شہروں اور دیہاتوں میں بھی رہتے ہیں۔ دراصل ان کو کاروبار کرنے کا ڈھنگ آتا ہے۔افغانی ایک دوسرے کو قرضِ حسنہ دیتے ہیں۔عام دکانداروں کی نسبت سستی چیز یں بیجتے ہیں اور زیادہ سیل کرتے ہیں۔افغانی بچوں کا مشاہدہ کیا تو وہ تعلیمی لحاظ سے بھی آگے ہیں۔اتنی قابلیت اور ٹائیلنٹ کے باوجوددر بدر ہیں۔ سویت یونین کے بکھرنے کے بعد افغان مہاجرین اپنے وطن واپس نہ جاسکے ۔ ان کے ساتھ امریکہ اور بھارت نے سب سے زیادہ ہاتھ کیا ۔ان کو سب سے زیادہ گزند انہی دو ممالک نے پہنچایا ہے۔امریکہ نے افغان سویت یونین جنگ میں اپنے مفادات کیلئے سپورٹ کیا۔دنیا بھر سے جہادیوں کو اکٹھا کیا اور ان سے کام لیا ۔جب سویت یونین ٹوٹ گیا تو امریکہ نے نظریں پھیر لی، تو کون ، میں کون ؟اس کے بعدافغانستان میں خانہ جنگی شروع ہوئی جس میں افغانستان کا بہت زیادہ مالی وجانی نقصان ہوا۔ رہی سہی کسر نائن الیون کے ڈرامے کے بعد امریکہ نے پورا کیا۔ بھارت نے افغانستان میں اپنے ہائی کمیشن کو متحرک کیا اور”را” نے زورو شور سے کام شروع کیا۔پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات کا پروپیگنڈا شروع کیا۔چونکہ افغانیوں کی اکثریت ناخواندہ ہے ۔اس لئے ان پر بھارت کے پروپیگنڈے کا زیادہ اثر ہوتا ہے۔ "را” افغانستان کے بعض سیاسی رہنماؤں کو ورغلاتے ہیں جس کے باعث وہ پاکستان کے خلاف بے بنیاد بیان بازی کرتے رہتے ہیں۔ اسلام دشمن عناصر پاکستان اور افغانستان دو برادر ممالک کے درمیان خلیج پیدا کرنا چاہتے ہیں اور دونوں ممالک کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ علاوہ ازیں افغان سویت یونین جنگ کے دوران مہاجرین کے لبادے میں را کے متعدد ایجنٹ پاکستان آئے ۔جھنوں نے یہاں منشیات، اسلحہ اور دیگر غلط کام کیے جس کی وجہ سے عام افغان مہاجرین کا نقصان ہوا اورعام لوگ یہ سمجھنے لگے کہ سب افغانی غلط کام کرتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے۔زیادہ ترافغانی تجارت اور کاروبار کو ترجیج دیتے ہیں ۔ وہ غلط کام کو نا پسند کرتے ہیں۔افغان مہاجرین کو چاہیے کہ و ہ ایسے عناصر سے خبردار رہیں اور ان پر کڑی نظریں رکھیں، ان کی اطلاع دیں تاکہ وہ پاکستان ، افغانستان اور افغان مہاجرین کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔پاکستان اور افغانستان کو یکجان ہوکر کام کرنا چاہیے اور ماضی کی کوتاہیوں کو دوہرانا نہیں چاہیے۔افغان مہاجرین کی واپسی کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہیے۔افغان مہاجرین کو اپنے گاؤں اور شہر واپس جانا چاہیے اور اپنے آبائی شہر اور گاؤں کو پھرسے آباد کرنا چاہیے۔ہمارے افغانی بھائیوں کو راحت ہوگی تو ہمیں راحت ہوگی۔افغان بھائیوں کیلئے پاکستان کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں لیکن ان کو اپنے وطن واپس جانا چاہیے اور پھر ویزہ بنوانا کر پاکستان آنا چاہیے۔ویزہ اس لئے ضروری ہے کہ ہمارے افغان بھائیوں کے لبادے میں دشمن ممالک کے ایجنٹ ہمارے ملک میں داخل نہ ہوسکے۔اغیار کے ایجنٹ پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک کیلئے مسائل تخلیق کرتے ہیں۔پاکستان اور افغانستان کا دشمن مشترکہ ہے۔
*****
بے خانماں۔۔۔ شوکت کاظمی
زمیں پر بھی نہ ٹھہرے آسماں تک بھی نہیں پہنچے
کہ ہم بے نماں اس آستاں تک بھی نہیں پہنچے
درِ دولت سے کچھ خیرات ملتی یا نہیں ملتی
تہی داماں تو دستِ مہرباں تک بھی نہیں پہنچے