- الإعلانات -

عالمی برادری بھارتی مظالم رکوائے

ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے ہفتہ وار بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں جابرانہ پالیسیاں جاری ہیں، مقبوضہ کشمیر میں 150 سے زائد طلبا بھارتی قابض افواج کی فائرنگ آنسو گیس شیلنگ سے زخمی ہوئے۔خواتین طلبہ کے خلاف بھی طاقت کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔مقبوضہ کشمیر میں حریت قائدین کو گرفتار کیا گیا ۔ گزشتہ رات آسیہ اندرانی کو گرفتار کیا گیا۔بھارتی ہندو دہشت گرد تنظیم نے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے خلاف جنگ شروع کر دی ہے۔بین الاقوامی برادری بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں مظالم سے روکے۔کل بھوشن یادیو بھارتی بحریہ کا کمانڈر تھا جو کہ’’ را ‘‘کیلئے کام کر رہا تھا۔وہ پاکستان میں تخریب کاری میں ملوث تھا اور یہاں سے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔کل بھوشن تک قونصلر رسائی دینے کا فیصلہ میرٹ پر کیا جاے گا۔احسان اللہ احسان نے پاکستانی فورسز کے سامنے ہتھیار ڈالے۔پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی برادری کو افغانستان کی زمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے آگاہ کیا۔بھارتی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں پر مدر آف آل بمبز حملے میں 13 بھارتی ہلاک ہوئے۔یہ بھارتی دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر کیا کر رہے تھے۔ برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد بھی بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ کو بند کر دیا تھا۔یہ اقدامات مغربی اخبارات کی جانب سے اپنی شہہ سرخیوں میں مقبوضہ کشمیر میں بھارت مظالم کو اجاگر کرنے سے ہوا ۔ پاکستان کا اعلی سطح کا پارلیمانی وفد اس ماہ کے آخر میں افغانستان کادورہ کرے گا۔ابھی تک جو دہشت گرد پکڑے گئے وہ بھارت کے ریاستی سطح پر پاکستان میں دہشت گردی اور دہشت گردوں کی مالی امداد کا ثبوت ہیں۔کل بھوشن یادیو پر یہاں کے قوانین کے مطابق مقدمہ چلایا گیا۔اس کے اعترافی بیان سے پاکستان میں دیگر دہشت گرد نیٹ ورک توڑنے میں مدد ملی۔بھارت میں بڑھتی انتہا پسندی بین الاقوامی برادری کے لئے بھی تشویش کا باعث ہے۔ وزیر اعظم نے خود بھی افغان صوبہ بلخ میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی ہے۔پاکستان کو افغانستان میں دہشت گرد حملوں پر مورد الزام ٹھہرانا اندرونی مسائل سے نظر چرانے کی کوشش ہے۔کلبھوشن تک بھارتی قونصلر رسائی کا فیصلہ میرٹ پر ہونا چاہیے کلبھوشن کا اعترافی بیان اس امر کا آئینہ دار ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے ۔ بھارت کی دہشت گردانہ کارروائیاں اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی پاکستان اس کیخلاف مسلسل احتجاج ریکارڈ کرواتا چلا آرہا ہے ۔ بھارت ایک طرف ’’را‘‘ کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہے تو دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں ظلم کے پہاڑ ڈھائے ہوئے ہے۔ سرحدی قوانین کی خلاف ورزی بھی اس نے معمول بنا لیا ہے اور اقوام متحدہ کی منظور کردہ قراردادوں کو دیدہ دانستہ نظر انداز کرکے مسئلہ کشمیر کو سردخانے میں ڈالے ہوئے ہے۔ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی ، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ پاک بھارت تنازعات کو حل کرنے میں اپنا بھرپورکردار ادا کرے یہی وقت کا تقاضا ہے ، خطے میں پائیدار امن مسئلہ کشمیر سے مشروط ہے اس کے بغیر امن قائم نہیں ہوسکتا۔ بھارتی جارحیت پر عالمی برادری کو خاموش تماشائی کا کردار ادا نہیں کرنا چاہیے بلکہ آگے بڑھ کر اس مسئلے کوحل کروانا چاہیے۔
وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس
وزیراعظم محمد نواز شریف ابھی پانامہ کی ہنگامہ خیزی اور ڈان لیکس کے معاملے میں نکل نہ پائے تھے کہ بھارتی وفد کے ساتھ مری میں ہونے والی خفیہ ملاقات ان کیلئے درد سر بن گئی اور ایک نیا سکینڈل ان کیلئے آنے والے وقتوں میں مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔وزیر اعظم نواز شریف کی مری سے اسلام آباد واپسی کے بعد ایک اہم مشاورتی اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزراء اور قانونی ماہرین نے شرکت کی۔ اجلاس میں عمران خان کی طرف سے 10 ارب روپے کی پیشکش کے الزام پر قانونی چارہ جوئی کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔ قانونی ماہرین نے اجلاس میں بتایا کہ عمران خان اس سے پہلے بھی جھوٹی الزام تراشی کر چکے ہیں اور پانامہ کیس میں 10 ارب روپے کی پیشکش کا الزام ایسا ہے جس پر حکومت کو خاموش نہیں رہنا چاہیے او راس پر قانونی چارہ جوئی کرنی چاہیے جس پر وزیر اعظم نے تمام شرکاء سے رائے لی اور کہا کہ مسلسل جھوٹ بول کر اداروں کو دباؤ میں لانے کی کوششیں قابل مذمت ہیں ۔ اس ضمن میں خاموش نہیں رہیں گے اور جھوٹ بولنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں گے۔ وفاقی وزراء نے کہاکہ عمران خان کے اس جھوٹے الزام کا مقصد پانامہ کیس کیلئے قائم کی جانے والی جے آئی ٹی اور قومی اداروں کو دباؤ میں لانا ہے اور وہ اپنے انٹرویوز اور بیانات میں کہہ چکے ہیں کہ اگر وہ دباؤ نہ ڈالتے تو سپریم کورٹ نے یہ کیس سننا ہی نہیں تھا۔ شرکاء نے کہا کہ عمران خان کو مزید جھوٹ بولنے کا لائسنس نہیں دیا جا سکتا لہذا حکومتی وکلاء اور (ن) لیگی قانونی ماہرین عمران خان کو ہتک عزت کے ہرجانے کا نوٹس بھجوائیں اور اس کے بعد ان کی طرف سے معافی نہ مانگنے کی صورت میں عدالت سے رجوع کیا جائے اور جھوٹے کو اس کے انجام تک پہنچایا جائے۔ عمرا ن خان کو اب ثابت کرنا ہوگا کہ یہ پیشکش کس نے کی تھی ورنہ ان کی ساکھ پر کاری ضرب لگنے کا اندیشہ ہے ۔ سیاست میں الزام تراشی سے گریز کیا جائے اور سیاسی تدبر اور بصیرت کا مظاہرے کرتے ہوئے برداشت کے جمہوری کلچر کو فروغ دیا جائے۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی کیمپ پر حملہ
مقبوضہ وادی کے ضلع کپواڑہ میں بھارتی فوجی کیمپ پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں 3 افسران ہلاک جبکہ 5 اہلکار زخمی ہوگئے، زخمی فوجی میں ایک کیپٹن بھی شامل ہے۔ بھارتی فوج نے جوابی کارروائی میں 2 حملہ آوروں کا مارنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ بھارتی فوج کے ترجمان کرنل راجیش کالیا کا کہنا ہے کہ مبینہ عسکریت پسندوں نے بھارتی فوجیوں پر حملے کے لیے بندوق اور دستی بموں کا استعمال کیا۔واقعے کے بعد بھارتی فوج کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اورعلاقے کا محاصرہ کرکے سرچ آپریشن کے نام پر گھر گھر تلاشی کا عمل شروع کردیا۔یہ حملہ سرینگر میں 24 اپریل کو منعقدہ ایک اعلی سطحی فوجی اجلاس کے صرف دو روز بعد ہوا ہے۔اس سے قبل قابض فوج نے کپواڑہ میں مجاہدین کے الزام میں 2 نوجوانوں کو اغوا کے بعد بہیمانہ تشدد کرتے ہوئے شہید کردیا ۔ادھر مقوضہ کشمیر کے کٹھ پتلی نائب وزیراعلیٰ نرمل سنگھ نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ کپواڑہ حملے کی مذمت کرتے ہیں ،پاکستان کشمیر میں صورتحال خراب کرنا چاہتا ہے اسے بھرپور جواب دینا چاہیے ۔دوسری جانب سری نگر سے بھارتی سیکیورٹی فورسز نے حریت رہنما آسیہ اندرابی کو بھی گرفتار کرلیا ۔ بھارت کا معاملہ چور مچائے شور اور الٹا چورکوتوال کو ڈانٹنے والا ہے خود معصوم لوگوں پر بربریت ڈھائے ہوئے ہے اور خود مگر مچھ کے آنسو رورہا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ بھارت کے عزائم کیا ہیں دراصل بھارت مسئلہ کشمیر سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان کیخلاف پروپیگنڈا کررہا ہے جس کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔