- الإعلانات -

مقبوضہ کشمیرمیں بڑھتے بھارتی مظالم

کشمیر خطہ جنت نظیر پر مصائب اور آلام کی داستان بڑی قدیم ہے۔ہر دورمیں طالع آزماؤں نے نہ صرف مقامی وسائل لوٹے بلکہ عوام الناس پربھی ظلم کے پہاڑ توڑے استبداد کی چکی میں پستے مسلمانوں نے اندوہناک مظالم کے باوجود اپنے حق آزادی پر سمجھوتہ نہیں کیااور اپنی آزادی کی شمع جلائے رکھی خاص طور پر ڈوگرہ راج میں غیر مسلم حکمرانوں 90فیصد مسلم اکثریتی خطے کو زیر نگیں رکھنے کیلئے ظلم و ستم کا ہر ہر حربہ آزمایا لیکن صدآفرین ہے آزادی کے ان پروانوں پر جنہوں نے یہ شمع نہیں بجھنے دی تاریخی طور مبلغین اسلام اللہ کا پیغام اور نبی مکرمؐ کی سنت مطہرہ لے کر اس خطے کو اللہ کے نور اور اسلام کی روشنی سے منور کرنے آئے جیسے ہی اللہ کا پیغام پیاسی روحوں تک پہنچا لوگ جوق در جوق دولت ایمان سے بہرہ ور ہونے لگے 1339 عیسوی میں اسلامی مملکت کی بنیاد پڑی جس کی مسند پر شاہ میر شمس الدین رحمت اللہ علیہ جلوہ افروز ہوئے ۔یہ اسلامی حکومت 1818 تک قائم رہی اسلام ہی آئین اور قانون رہا اور مسلمان مقتدر رہے 1819 عیسوی میں پنجاب کے سکھ حکمران جن کی قیادت ظالم حکمران رنجیت سنگھ کے ہاتھ میں تھی اس نے افغان مسلمان حکمرانوں کے درباری غدارون کی،معیت میں بڑے لشکر کے ہمراہ راجوڑی کھٹوعہ جموں اور پونچھ کو برباد کیا آگے بڑھ کر جموں اور کشمیر پر قابض ہو گیا ظلم و سفاکی کابازار گرم ہو گیا یہ ابتلا کا دور 1819 سے 1845 تک جاری رہا راجہ رن جیت سنگھ کے ظالمانہ دور میں مسجدوں کو گھوڑوں کے اصطبلوں میں تبدیل کردیا گیا۔سید احمدشہیدؒ بھی اس یک چشم ظالم حاکم کے خلاف جہاد کرتے رہے پہلے تو رنجیت سنگھ بھی انگریزوں کے خلاف بر سرپیکار رہا لیکن بالآخر اس نے انگریزوں سے مصالحت کرلی اور بطور تاوان کوہ نور ہیرا اور ریاست ان کے حوالے کردی انگریز بنیادی طور پر نفع پرست تاجر ہی تھا اس نے یہ ریاست جموں کے ہندو راجہ گلاب سنگھ کو فروخت کردی لیکن مسلمانوں کی مزاحمت کی وجہ سے گلاب سنگھ عملاًریاست پر قبضہ نہ کر سکا بالآخر 1853 میں انگریزی فوج کے سپہ سالار لارنس نے ایک بڑے حملے کے بعد کشمیر پر قبضہ کرکے گلاب سنگھ کے حوالے کر دیا اور تب سے لیکر1947 تک گلاب سنگھ کا خاندان ہی کشمیر پر مقتدر رہا لیکن اس پورے عرصے میں مسلمانوں کی مسلح تحریک مزاحمت نہیں رکی اور 1940 تک یہ تحریک ایک منظم طور پر کشمیری عوام کے دلوں میں گھر کر چکی تھی 1947 میں جب انگریزوں نے ہندوستان چھوڑا تو مسلمان مجاہدین آزادی نے پہلے مرحلے میں گلگت بلتستان چلاس وغیرہ سے ہندو افواج کو نکال باہر کیا اور 16 اگست 1947 کو مظفرآباد کوٹلی میرپور بارہ مولا پونچھ اور راجوری میں اعلان جہاد کرکے اپنی بے سروسامانی کے باوجود اپنے پختہ ایمان اور اللہ تعالی کی مدد کے یقین کی بنا پر ہندو فوج کو مار بھگایا یہ جدوجہد اس قدر شدید تھی کہ ہری سنگھ مسلمانوں کے غیض و غضب کی تاب نہ لا سکا کشمیر سے بھاگ کر جموں چلا گیا وہاں بیٹھ کر اس نے پنڈت نہرو کو ریاست پر قبضے کی دعوت دی تقسیم ہند کے معاہدے کے سبب نہرو ایسا نہیں کر سکتا تھا تو اس نے شیخ عبداللہ کی وفاداریاں خرید کر اسے حکم ران بنا کر کشمیر بھیج دیا تاکہ وہ مسلمانوں کو رام کر سکے کوشش بسیار کے باوجود لوگ شیخ عبداللہ کے فریب میں نہیں آئے کیونکہ شیخ عبداللہ وادی کا الحاق بھارت سے کرنا چاہتا تھا اور یہ مسلمانوں کو منظور نہیں تھا یوں بھارت نے ایک اور چال یوں چلی کہ شیخ عبداللہ کی کٹھ پتلی حکومت کو بچانے کیلئے کشمیر میں فوج اتار دی بھارت کا بنیادی مقصد کشمیریوں کی جدوجہد کا زور توڑنا تھا اور ریاست کو بھارت میں مدغم کرنے کی راہ ہموار کرنا تھا ہندو فوج نے سکھ اور ہندو بلوائیوں ساتھ ملا کر علاقے پر قبضہ کرنا شروع کردیا پہلے کھٹوعہ جیسے علاقوں پر قبضہ کیا گیا جہاں مسلمان تعداد میں قلیل تھے جموں اور اودھم پورمیں خون کی ہولی کھیلی گئی ضلع ریاسی بھی ضلع نہ رہ سکا آج کل یہ اودھم پوت کی تحصیل ہے بارہ مولا راجوڑی اور پونچھ میں خون مسلم سے ہولی کھیلی گئی راجوڑی میں سینکڑوں زندہ مسلمانوں کی کھالیں اتاری گئیں اور یوں ایک لاکھ مسلمان شہید کردئے گئے اور ہزاروں کشمیریوں کو جبراً پاکستاں ہجرت پر مجبور کردیا گیا جو آج بھی وہاں موجود ہیں اس خون آشام معرکے کے بعد مظفرآباد پونچھ کوٹلی اور گلگت کے لوگ اکٹھے ہوگئے اور پٹھان مجاہدین نے بھی ان کا ساتھ دیا حکومت پاکستان بھی کسی قدر ہی مدد کر سکی کہ پاک افواج کے انگریز کمانڈر ان چیف گریسی نے قائداعظم کا حکم ماننے سے انکار کردیا تھا اب بھارتی فوج کا مقابلہ مسلمان مجاہدین سے تھا بھارت ہزاروں جانیں گنوانے کے باوجود مزید ایک انچ پر بھی قبضہ نہ کر سکا جب روزانہ کشمیر سے سینکڑوں لاشیں دہلی پہنچنے لگیں تو بھارتی قیادت کو یقین ہو گیا کہ یہ معاملہ اگر یونہی چلتا رہا تو بہت جلد کشمیر ہاتھ سے نکل جائیگا نہرو نے چانکیائی چال چلی اور معاملے کو اقوام متحدہ لے گیا اور اس نے اقوام متحدہ سے وعدہ کیاکہ ہم رائے شماری کروائیں گے اور یہ وعدہ آج تک وفا نہ ہوسکا آج بھی ظلم و ستم کی مشق جاری ہے جنگی محاذ پر تو خون سے تاریخ لکھی جارہی ہے لیکن رائے عامہ ہموار کرنے جیسے اہم ترین کام کیلئے مرد مجاہد سردار زاہد تبسم کی صورت بیڑہ اٹھایا تن من دھن سے اور خودفراموشی سے خدمت کی جو اب تناوردرخت بن چکا ہے ۔ اللہ برکت ڈالے اللہ اہل کشمیر کے مشن میں کامیابیاں عطا فرمائے اور پاکستان اور اہل پاکستان کی حفاظت فرمائے ۔آمین
*****