- الإعلانات -

غلط مشورے

اچانک گرمی بڑھنے سے لوڈ شیڈنگ کرنا پڑی ۔ رواں ماہ کے آخر تک لوڈ شیڈنگ پرقابو پالیں گے شہباز شریف نے فوری کو بجلی دینے کی بات جوش خطابت میں کہی تھی! پیپلزپارٹی جیسی فارغ جماعت سے ڈیل کرنے کی ضرورت نہ ہے! وفاقی وزیر بجلی و پانی ووزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بجلی کے موجودہ بحران پر جو موقف اپنایا ہے اسے اس کے ساتھی تو ضرور صحیح قرار دیں گے مگر عام عوام ان سے اتفاق نہیں کریں گے۔ 6 اپریل کو موسم اس قدر ٹھنڈا تھاکہ قلات میں درجہ حرات دو ڈگری سنٹی گریڈ تھا! میانوالی جیسے کا علاقہ کے لوگ بھی رات کو اندر سورہے تھے ! یقیناًملک کے بعض علاقوں میں موسم کچھ گرم بھی ہوگا! گرمی کی آمد آمد ہے گرمی آہستہ آہستہ ضرور بڑہے گی۔ ابھی موسم معتدل تو کہا جا سکتا ہے مگراس معتدل موسم میں بھی بجلی کو لوڈ شیڈنگ یا بجلی کی آنکھ مچولی آنے والے دنوں کی بڑی خطر ناک تصویر بنا کر پیش کر رہی ہے ! چاہے تو یوں تھا کہ ملک بجلی کی پیدا وار ضرورت سے زیادہ کر رہا ہوتا ! بلکہ ستی بجلی پیدا کرکے اشیاء ضرورت کو بھی سستا تیار کرنے کو ممکن بنایا جاتا ! فیکڑیاں کارخانوں کو چو بیس گھنٹے چلا کر ملکی پیداوار بڑھائی جاتی ۔ جس سے قیمتی زرمبادلہ بھی کمایا جاتا249 لوگوں کو ضروریات زندگی سستے دامی میسرہوتیں! فیکٹریاں کارخانے بھر پور انداز میں چلتے تو جہاں مالکان کو بہتر پیداور میسر ہوتی ان کو منافع زیادہ ملتا تو دوسری طرف مزدوروں کی آمدن بھی بڑھتی ۔ مگر جس طرح سابقہ حکومت بقیہ خرابیوں کی طرح توانائی کے بحران سے دوچار تھی موجودہ حکومت نے بھی سابقہ حکومت کی طرح اپنی ترجیحات پر توجہ دی اور تو انائی کے بحران پر گزشتہ چار سالوں میں بھی قابو نہ پاسکی ۔ یوں حکمرانوں نے اپنی آپ کو مطمن کرنا ہے تو وہ یہ کہ سکتے ہیں ۔ ہمارے دور میں بجلی کے بحران کی و ہ کیفیٹ نہ ہے جو سابقہ حکومت کے دور میں تھی۔ ہم نے بڑی حد تک بجلی کے بحران پر قابو پالیا ہے ! بجلی کی کمی وہ صورت حال اب نہ ہے جو سابقہ حکومت کے دور میں تھی ۔ آئندہ سال بجلی کی کمی پر مکمل قابو پالیں گے بلکہ ہم ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کرنے والے ہونگے ہیں ۔خواجہ آصف صاحب عوام کو بیوقوف بنا نا ہر حکمران کا شیوارہا ہے اور عوام بہچارے ہر جھوٹے کو سچا سمجھ کر دھوکہ کھاتے رہے ہیں۔ اگر لوگوں نے ووٹ دیکر موجودہ حکومت کو حکمرانی کا موقع دیا ہے تو یہ عوام کا موجودہ حکمرانوں پر احسان تھا کہ انہوں نے ان کو حکمرانی کے مزے لوٹنے کا مواقع فراہم کیئے ہیں اور عوام حکمرانوں سے پوچھ سکتے ہیں کہ کیا آپ کو حکمران اسلئے بنایا تھا کہ آپ اقرباء پروری کرتے ہوئے صرف ان لوگوں کو وزیر مشیر بنائیں جو آپ کی اچھی خوشامد کر سکیں یا جو آپ کے عزیز وشتہ دار ہوں ۔ وزارتیں ان کا حق بنتا ہے ! عوام آپ سے پوچھ سکتے ہیں کہ بجلی ضرورت کی آپ پیدا کرنے میں کیوں ناکام رہے ہیں؟سستی بجلی کے پیداکرنے میں آپ کو کامیابی کیوں نہ ملی؟ ضرورت کا پانی آپ سٹور کرنے میں کیوں ناکام ہوئے؟ دریا ؤں کا پانی سمندر میں گرنے دینے کی بجائے ذخیرہ کیوں نہ کیا گیا؟ فصلوں کی ضرروت کا پانی کسانوں کو کیوں نہ فراہم کیا گیا؟ کار خانوں کو بجلی کی فراہمی ضرورت کے مطابق کیو ں نہ کی گئی ؟ گرمیوں میں عوام کو گھر ضرورت کی بجلی کیوں فراہم نہ کی گئی ؟ خواجہ صاحب عوام کو پیچیدہ جواب کی ضرورت نہ ہے عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے جواب نہ دئے جائیں جب آپ کہیں گے اچانک گرمی شروع ہوجانے کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ کرنا پڑی تو عوام اس طرح کے بیانات سے اب بیوقوف نہیں بنیں گے ! بلکہ ایسے بیانات سے عوام حکمرانوں کو احمق اور بیوقوف قرار دیتے ہیں ۔ بجلی کے بحران پر قابو نہ پانے پر آپ اقوم سے معافی مانگ لیں اور صدق دل سے بجلی کی کمی پڑقابو پانے کی کوشش کریں تو عوام آپ سے متعلق اچھے جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ مگر عوام کو دھوکہ دینے والے جھوٹے بیانات حکمرانوں کیلئے گلے کی ہڈی ثابت ہو سکتے ہیں جو کام آپ سے نہیں ہو سکتا اس کو کرنے کاا علان کرکے آپ نئی مصیبت میں گرفتار ہو سکتے ہیں آپ کی کام اور خدمت کرنے کی کوشش سے ضرور بہتر نتائج نکلیں گے ۔ اگر آپ بہانے نہ بنائیں۔ بجلی کو پورا کرنے کی ذمہ داری پر آپ قوم سے معافی مانگیں! اور بجلی کو ضرورت کے مطابق پیدا کرنے کی کوشش کرکے اپنے گلے سے پھندا نکلوانے کی راہ نکالیں۔