- الإعلانات -

مجاہد ملت عبدالستار خان نیازی کی یاد میں

مئی کا مہینہ یوں تو مزدوروں کا مہینہ کہلاتا ہے اور اس کا پہلا دن مزدور جدوجہد سے وابستہ ہے مگر میرے نزدیک یہ مہینہ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد عبدالستار خان نیازی کا مہینہ ہے کہ اسی مہینے کی 2تاریخ کو آپ نے اس جہان فانی سے رحلت فرمائی ۔مجاہد ملت یکم اکتوبر1915ء کو ضلع میانوالی کی تحصیل عیسیٰ خیل کے ایک نواحی گاؤں اٹک پنیالہ میں ایک متوسط درجے کے زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ تعلیم کی طلب انہیں لاہور لے گئی جہاں انہوں نے اسلامیہ کالج لاہور سے عربی اور اسلامیات کے امتحانات اعزاز کے ساتھ پاس کیے اور بعدازاں اسی کالج میں کچھ عرصے کیلئے درس و تدریس سے بھی وابستہ رہے ۔ مجاہد ملت کی ساری زندگی دین حق کی سربلندی اور اس کے استحکام کیلئے جدوجہد کرتے ہوئے گزری ان کی خواہش تھی کہ اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں قرآن و سنت کے قانون کو نافذ کیا جائے اور پھر زندگی کی تمام شعبوں میں اسے عملی طورپر مروج کیا جاسکے مگر اس مقصد کیلئے انہیں ساری زندگی جدوجہد میں گزارنا پڑی کیونکہ یہاں کے نام نہاد حکمران ہی نفاذ اسلام کی راہ میں رکاوٹ بنتے چلے آئے ۔ مجاہد ملت نے اپنے لئے سیاسی جدوجہد کا راستہ پسند کیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ پاکستان میں سیاست کی راہ پر چل کر عوامی ہمدردی و تائید سے ملک میں اللہ کا قانون نافذ کیا جاسکتا ہے گو کہ زندگی کے آخری حصے میں وہ اس حوالے سے مایوس بھی نظر آتے تھے تاہم انہوں نے اس جدوجہد کوختم نہ کیا بلکہ زندگی کی آخری سانس تک وہ اسی کے ساتھ وابستہ رہے ۔ مجاہد ملت کو قائداعظم کا رفیق کار ہونے کا بھی شرف حاصل ہے جن دنوں وہ اسلامیہ کالج سول لائنز میں زیر تعلیم تھے تو انہی دنوں انہیں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن پنجاب کا صدر منتخب کرلیا گیا۔ تحریک پاکستان کے دو اور عظیم رہنما مولانا محمد شفیع اورحمید نظامی مرحوم بھی ان کے اسی دور کے ساتھی تھے ۔ مجاہد ملت 1950ء میں آل پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے تاہم ان کے اصل مجاہد ثابت ہونے کا وقت 1953ء میں اس وقت آیا جب انہوں نے فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے دور حکومت میں قادیانی فتنہ کی سرکوبی کیخلاف تحریک نظام نفاذ ختم نبوتؐ کا آغاز کیا اس میں انہیں جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی کا ساتھ بھی حاصل تھا۔ تحریک نے پورے پاکستان میں زورپکڑ لیا مطالبہ ایک ہی تھا کہ سرکار مدینہ کی نبوت میں شرکت کے دعویداروں کو کافر قرار دیا جائے جس پر مجاہد ملت اور مولانا مودودی کوگرفتار کرکے پابند زنداں کردیا گیا اور پھر انہیں ملٹری کورٹ نے سزائے موت سنا دی یہ حکم سنتے ہی مجاہد ملت نے شکرانے کے نوافل ادا کیے کہ انہیں شہادت کی موت میسر آرہی ہے ۔ کچھ عرصہ جیل میں گزارنے کے بعد عوامی دباؤ پر دونوں رہنماؤں کو رہا کرنا پڑا جس پر عوامی سماجی حلقوں نے انہیں غازی تختہ دار کا لقب دیا۔ مولانا کی سیاست کا محور گنبد حضریٰ اور سرکار مدینہ تھا وہ سرتاپا عشق رسولؐ میں ڈوبے ہوئے تھے ان کی ایک ایک سانس عشق رسولؐ کیلئے وقف تھی تاہم وہ اپنے آپ کو سیاسی طورپر بھی متحرک رکھے ہوئے تھے ۔ جب جنرل ضیاء الحق نے اقتدار سنبھالا تو مجاہد ملت کو وزارت مذہبی امور کی پیشکش کی گئی مگر انہوں نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ ایک فوجی جرنیل کی حکومت میں وزارت کی پیشکش کو قبول کرنا جمہوریت کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے مترادف ہوگا۔ جنرل ضیاء الحق کے اقتدار کے خاتمے کے بعد ہونے والے الیکشن میں انہیں میانوالی کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ رکن اسمبلی منتخب کیا۔ مولانا اپنی زندگی میں دو بار وفاقی وزارت کے منصب پر فائز رہے اس دوران انہوں نے اسلامی نظام کے احیاء کیلئے بھرپور کوشش کی تاہم انہیں اس بات کا سنجیدگی سے اندازہ ہوگیا تھا کہ اسلامی نظام کے نفاذ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود ارکان پارلیمان ہیں۔ ایک مرتبہ جب وہ مذہبی امور کے وزیر تھے تو ان کی رہائش گاہ پر کچھ مشائخ عظام تشریف فرما تھے ۔ ایک پیر صاحب نے کہا کہ مولانا اب تو آپ وفاقی وزارت کے منصب پر بھی فائز ہیں تو اب اسلامی نظام کے نفاذ میں کیا رکاوٹ باقی ہے اس پر مجاہد ملت نے تقریباً مایوسی کے انداز میں کہا کہ 300 کے ایوان میں ایک بندہ بھلا کیا کرسکتا ہے میری تو آواز بھی انہیں سننا گوارہ نہیں ہے ۔ مجاہد ملت کو 1994ء میں 6سال کیلئے سینیٹر منتخب کیا گیا ۔2001ء میں مجاہد ملت بیماری کے سبب میانوالی کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں داخل ہوئے اور 2مئی کو میانوالی کی سرزمین پر ہی واصل بحق ہوئے انکا مزار روکھڑی موڑ میں آج بھی مرجع خلائق ہے ۔
خدا رحمت کنند ایں عاشقان طینت پاک راہ