- الإعلانات -

یوم مئی اور پاکستان میں مزدور کی زبوں حالی!!!

ہر سال یکم مئی کو مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔یہ دن شگاگو کی ان مزدوروں کی یاد دلاتی ہے جنہوں نے اپنے حقوق کے جدوجہد کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی یہ دن ہر سال باقاعدگی سے منا یا جاتا ہے۔اسی دن پورے ملک میں عام تعطیل ہوتی ہے۔یہ دن معاشرے میں مزدوروں اور کارکنوں کی اہمیت و افادیت کی طرف توجہ دلاتی ہے۔مزدور اور کارکن کسی بھی معاشرے کا ایک بنیادی اور اہم عنصر ہوتا ہے جن پر معاشرے کی تعمیر و ترقی کا انحصار ہوتا ہے۔معاشر ہ و ملک و قوم جتنی ترقی کرتا ہے یہ مزدوروں اور محنت کشوں کی مرہون منت ہوتا ہے۔بلند و بالا عمارات کی تعمیر کو دیکھیں ،گلی محلوں کی صفائی کو دیکھیں،کارخانوں اور فیکٹریوں میں بننے والے مصنوعات پر نظر ڈالیں ،کھیتوں اور باغات کو دیکھیں،کھانے پینے کی اشیاء کی فراوانی کو دیکھیں،ان تما م میں مزدوروں کا خون پسینہ شامل ہوتا ہے۔یہ مزدور ہی ہے جو دن رات مسلسل محنت کر کے وطن عزیز کی تعمیر وترقی میں بھر پور حصّہ لیتے ہیں۔آج اس پھول جیسے وطن نے ہر شعبے میں جتنی بھی ترقی کی ہے ،اس میں اس غریب محنت کش کا خون پسینہ شامل ہے۔
ہمارا پیارا مذہب اسلام بھی مزدور کے حقوق کا بے حد احترام کرتا ہے۔حضور پاکﷺ نے آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے ارشاد فرمایا تھا : الکاسبُ حبیب اللہ‘‘۔یعنی محنت کش اللہ کا دوست ہوتا ہے۔حضور پاک ﷺ نے مزدور کا معاوضہ اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔حضور ﷺنے اس نوجوان کے ہاتھ چھومے تھے جس میں کام کرنے کی وجہ سے چھالے پڑ گئے تھے۔حضور پاک نے مزدور سے اس کی استعداد کے مطابق کام لینے کا حکم صادر فرمایاتھا اور اس پر ظلم زیادتی سے اجتناب کرنے کی تاکید کی تھی۔حضور ﷺ نے اس کمائی کو بہترین قرار دیا تھا جو کہ اپنے ہاتھ سے محنت مزدوری کر کے کمائی جائے۔اسلام ایک آفاقی مذہب ہے جو کہ ہر دور اور ہر زمانے کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔مزدوروں کو ایک طرف رکھیئے ۔حضورﷺنے غلاموں کو بھی حقوق دیئے تھے۔آپﷺ نے تاکید کی تھی کہ غلاموں کو وہ کھلاؤ جو تم کھاتے ہو اور انہیں وہ پہناؤ جو تم خود پہنتے ہو۔مزدوروں کے حقوق کے آج کے علمبرداروں کو سمجھنا چاہیئے کہ حضور پاﷺ نے اُس دور میں جبکہ تہذیب و تمدن کا نام و نشان تک نہ تھا اور لوگ جہالت کی اتھاہ گہرائیوں میں گرے ہوئے تھے مزدوروں کو اللہ کا دوست قرار دیکر اور اس کا ہاتھ چھوم کر وہ حقوق دیئے تھے جو رہتی دنیا کے لئے مثال رہینگے۔کاش ہم مسلمان اپنے مذہب کی تعلیمات کی پیروی کرکے مزدوروں کو وہ تمام حقوق دیتے جن کا ہمیں اپنے مذہب نے تاکید فرمائی ہے۔
آج اہل مغرب نے مزدور وں کو ان کے جملہ حقو ق دیئے ہیں۔وہاں کا مزدور ہر لحاظ سے مطمئن اور خوشحال ہے۔انھیں بنیادی ضروریات اور سہولیات میّسر ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کے معاشرے ترقی یافتہ ہیں۔آج وہی ممالک ترقی کی دوڑ میں دنیا کو چیلنج کر رہے ہیں۔بر طانیہ ، چین،جاپان، امریکہ اور یورپی ممالک ان کی زندہ مثالیں ہیں۔میرا ایک دوست جو کینیڈا میں مزدور ہے کا کہنا ہے کہ وہاں ایک مزدور کی تنخواہ اور ایک اعلیٰ افسر کی تنخواہ میں اتنی تفاوت نہیں ہوتی جتنا کہ ہمارے معاشرے میں ہوتا ہے۔وہاں اگر ایک عام مزدور کی تنخواہ 2000ڈالر ہے تو ایک اونچے افسر کی تنخواہ4000ڈالر ہوگی۔لیکن افسر کو اپنی تنخواہ میں بھاری بھرکم ٹیکس بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔
برعکس اس کے ہمارے معاشرے میں مزدور اور محنت کش کو وہ مقام اور اہمیت حاصل نہیں جن کا آج کا ترقی یافتہ اور تہذیب یافتہ معاشرہ متقاضی ہے۔ہمارے کارخانوں میں مزدوروں کے ساتھ جانوروں سے بھی بد تر سلوک کیا جاتا ہے۔آج بھی ہمارے کارخانوں میں پانچ چھ ہزار کے عوض مزدوروں سے بارہ بارہ گھنٹے سخت کام لیا جاتا ہے۔مزدور اپنی پوری زندگی بر باد کرتا ہے لیکن بڑھاپے میں انھیں اور ان کے بچوں کیلئے کوئی تخفظ نہیں ہوتا۔بعض محنت کش کام کرتے ہوئے حادثے کا شکار ہوکر عمر بھی کے لئے معزور ہوجاتے ہیں لیکن اور تو کیا اسے علاج معالجے کی مفت سہولیات بھی فراہم نہیں کی جاتیں۔دیہاڑی دار اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے محنت کشوں کی فلاح کے لیے تو پاکستان میں سرے سے کوئی پروگرام ہے نہیں۔رہی سہی کسر بجلی کی لوڈشیڈنگ نے پوری کر دی ہے۔کارخانوں ، فیکٹریوں اور تجارتی اداروں کی بندش کی وجہ سے بے روزگاری میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے جس نے مزدور طبقے کو حد درجہ متاثر کیا ہوا ہے۔آج یہ طبقہ ایک وقت کی روٹی کے لئے مارے مارے پھررہا ہے۔میاں محمد نواز شریف کی موجودہ حکومت نے مزدوروں کی پنشن میں 46 فیصد اضافہ کر کے ایک اچھا قدم اٹھا یا گیا ہے لیکن ابھی محنت کشوں کے لئے بہت کچھ کر نا ہے کیونکہ پانچ چھ ہزار پنشن سے کسی کے گھر کا چولھا نہیں جل سکتا۔ہم جب تک مزدور کو بنیادی سہولیات نہیں دینگے اورا نھیں معاشرے میں باعزت مقام نہیں دینگے ،تب تک ہم ترقی یافتہ ممالک کی صفوں میں قدم نہیں رکھ سکیں گے۔امید ہے کہ ہمارے ارباب اختیار اس جانب ضرور توجہ دینگے اور آئندہ بجٹ میں مزدوروں اور معاشرے کے پسے تمام طبقات کے لئے انقلابی اور ٹھوس اقدامات کا اعلان کرینگے۔

دوٹوک بات۔۔۔ شوق موسوی
یہ میرا حق ہے کہ عوام کی خدمت کرلُوں
منتخب ہوں، کوئی اعزاز نہیں لے سکتا
جو بھی اُٹھتا ہے وہ کہتا ہے کہ استعفیٰ دوں
اُن کو خوش کرنے کو استعفیٰ نہیں دے سکتا