- الإعلانات -

دشمن کی ریشہ دوانیوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے پیر کے روز وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا)میں خیبر ایجنسی کا دورہ کیا اور پاک فوج کی جانب سے سرحد پر موثر سیکیورٹی انتظامات کو سراہا۔یوم مئی کی تعطیل کے باوجودآرمی چیف نے اگلے مورچوں پر فوجی جوانوں کے ساتھ دن گزارا،انھیں آپریشنل تیاریوں اور بارڈر سیکیورٹی سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی اس کے علاوہ آرمی چیف کو پاک افغان سرحد پر ایف سی کے ونگ کی تعیناتی سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی۔اس موقع پرآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ فوج نے مادر وطن کے دفاع اور سیکیورٹی کو ناقابل تسخیر بنا دیا ہے جبکہ ریاست کی رٹ قائم کرتے ہوئے موثر سرحدی سیکیورٹی اقدامات سے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کنٹرول ہوئی ہے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اپنے پیشرو جنرل راحیل شریف کی طرح بہت زیادہ متحرک دکھائی دیتے ہیں اور اہم دنوں پر فرنٹ لائن مورچوں پر اپنے جوانوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ملکی سرحدوں پر دشمن کی ریشہ دوانیوں سے نمٹنے کیلئے ضروری ہے کہ سرحد کے چپہ چپہ کی کڑی نگرانی کی جائے.صرف مغربی ہی نہیں بلکہ مشرقی سرحد اور لائن آف کنٹرول کی بھی کڑی نگرانی کی جائے۔اس مقصد کیلئے ضروری ہے کہ عسکری قیادت آپریشنل تیاریوں اور بارڈر سیکیورٹی سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیتے رہے جیسے کہ گزشتہ روز انہوں نے پاک افغان سرحد پر مختلف مقامات کا دورہ کیا اسی طرح ایک روز قبل اتوار کے روز آرمی چیف نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے مقام حاجی پیر سیکٹر کا دورہ کیا.اس موقع پر انہوں نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کی جدوجہد کی حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے کشمیریوں پر کیا جانے والا ظلم ریاستی دہشت گردی ہے۔اس دورہ کے دوران آرمی چیف کو ہندوستان کی جانب سے کی جانے والی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور پاکستانی افواج کی آپریشنل تیاریوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی تھی جس کے بعد آرمی چیف نے فوجی جوانوں کی آپریشنل تیاریوں اور بلند حوصلوں کی تعریف کی۔ان دوروں سے جہاں اگلے مورچوں پر موجود جوانوں کے حوصلے بلند ہوئے ہونگے وہاں سرحد کے اس پار دشمن کو بھی پیغام گیا ہو گا کہ اس کی مکارانہ سازشوں سے ملک کا بچہ بچہ آگاہ ہے اور اس کے دانت کھٹے کرنے کیلئے ہمہ وقت چوکس ہے۔یہ حقیقت ہے کہ ہمارا ازلی دشمن بھارت اس وقت کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کے تحت ایک مختصر جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہے۔اس سلسلے میں بعض تازہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ اس نے اپنی فضائیہ کو ایسی کسی جنگ کی تیاری کا حکم دے دیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق انڈین ائیر فورس چیف کی طرف سے اپنی فضائیہ کو پاکستان کے ساتھ دس روزہ اور چین کے ساتھ پندرہ روزہ جنگ کی تیاری کی ہدایت کی گئی ہے رپورٹ کے مطابق آئی اے ایف کے سربراہ کی طرف سے فضائیہ کو دونوں ممالک سے ممکنہ جنگ کی تیاری فوجی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔ یہ ضروری ہدایات 19 سے21 اپریل کے دوران نئی دہلی میں منعقد بھارتی فوج کے کمانڈر کانفرنس کے دوران جاری کی گئی۔ان خصوصی ہدایات میں ایئر اسٹاف انسپکشن ڈائریکٹوریٹ کو تمام آپریشنل یونٹس کو تیار رکھنے کے علاوہ ریڈار نظام کو الرٹ رکھنے کے ساتھ ساتھ لڑاکا طیارے ہتھیاروں، میزائلوں سے مسلح رکھنے کا کہا گیا ہے۔اسی طرح چند دن قبل بھارتی فوج کی طرف سے بھی مسلح افواج کے مشترکہ اصول 2017 پر مشتمل ایک دستاویز جاری کی گئی جس میں کہا گیا کہ مستقبل کی جنگوں کا کردار مبہم ،غیر یقینی، مختصر، تیز رو، مہلک، شدید، ناقابل اعتبار اور غیر متوقع ہونے کا امکان ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارا پڑوسی اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کیلئے کسی بھی وقت مہم جوئی کرسکتا ہے۔اگرچہ بھارتی فضائیہ 33جنگی اسکوڈرن پر مشتمل چوتھی بڑی فورس ہے لیکن الحمد اللہ پاک فوج جذبہ ایمانی سے سرشار ہے اور وہ دشمن کا غرور خاک میں ملانے کی اہلیت اس وقت بھی رکھتی تھی جب اس نے آزادی کی صرف اٹھارہ بہاریں دیکھی تھی جبکہ آج تو وہ ایک ایٹمی پاور ہے اور اس کا دفاع ناقابل تسخیر ہے۔اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ فوج نے مادر وطن کے دفاع اور سیکیورٹی کو ناقابل تسخیر بنا دیا ہے۔ہمیں اپنی افواج پر کامل بھروسہ ہے کہ وہ ملک کی سالمیت پر کبھی آنچ نہیں آنے دے گی مگر قابل افسوس پہلو یہ ہے کہ ہماری سیاسی قیادت کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے بیٹھی ہے اور وہ در پردہ بھارت سے دوستی دوستی کھیل رہی ہے۔کشمیری مسلمانوں کے قاتل اعظم مودی کے دست راست اور سٹیل ٹائیکون سجن جندال کو وفاقی دارالحکومت کے پہلو مری میں خصوصی آؤ بھگت کے ساتھ بلا کر قوم کو کیا پیغام دیا گیا ہے۔اس کے باوجود کہ پاکستان پر دس روزہ جنگ مسلط کرنے کی تیاریوں کی مصدقہ اطلاعات سامنے آرہی ہیں حکومت ملکی مفادات کو پس پشت ڈالے ہوئے ہے.خدانخواستہ کل کلاں مودی ایسی کوئی مہم جوئی کرتا ہے اور ملکی سلامتی پر کوئی آنچ آتی ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ حکمرانوں پر عائد ہو گی۔
لاشیں مسخ کرنے کا بے بنیاد الزام
بھارت کے دماغ پر جب کبھی تبخیر کا حملہ ہوتا ہے یا کوئی شرارت سوجھتی ہے تو وہ پاکستان کی طرف منہ کر کے لایعنی الزام تراشی میں مصروف ہو جاتا ہے۔حسب عادت مودی سرکار نے گزشتہ روز الزام لگایا کہ پاک فوج نے اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں گشت کرنے والی فوجی پارٹی پر حملہ کر کے دو فوجیوں کو ہلاک اور ان کی لاشیں مسخ کر دی ہیں۔پاکستان نے اس دعوے کو جھوٹ پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے ایل او سی کے پار کوئی کارروائی نہیں کی ہے اور نہ ہی کوئی ‘بیٹ ایکشن’ کیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈین فوج کی جانب سے اس کے فوجیوں کی لاشیں مسخ کرنے کے الزامات قطعی جھوٹے ہیں۔ پاکستانی فوج ایک پیشہ ور فوج ہے اور کسی بھی فوجی کی چاہے وہ انڈین ہی کیوں نہ ہو، بے حرمتی نہیں کرے گی۔بھارت کی جانب سے پاکستان پر اپنے فوجیوں کی لاشوں کی بے حرمتی کے الزامات پہلے بھی لگائے جاتے رہے ہیں اور پاکستانی حکام ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔گذشتہ سال نومبر میں بھارت نے پاکستان پر کنٹرول لائن کے قریب ہی تین انڈین فوجیوں کو مارنے اور ان میں سے ایک کی لاش مسخ کرنے کا الزام لگایا تھا۔ اس سے قبل30 اکتوبر 2016 کو بھی مندیپ سنگھ نامی فوجی کی ہلاکت کے بعد ان کی لاش کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا گیا تھا۔لائن آف کنٹرول کے علاقے میں حملے کا یہ الزام ایک ایسے وقت میں لگایا گیا ہے جب ترکی کے صدر طیب اردوغان بھارت کے دورے پر ہیں۔جنہوں نے مودی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ بحال کرے. اس سلسلے میں انہوں نے ثالثی کی پیشکش بھی کی ہے۔ایسی الزام تراشی کامقصد طیب اردگان کو یہ باور کرانا ہے کہ وہ جس ملک کے ساتھ بات چیت پر زور دے رہے ہیں اس کی فوج غیر انسانی حرکت کی مرتکب ہوتی ہے۔حالانکہ خود بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں غیر انسانی حرکات کی مرتکب رہتی ہے.محبت اور جنگ میں سب جائز کا فلسفہ بھارتی رہنماوں کے نزدیک اہم ہے جس کا اظہار اگلے روز بی جے پی کے مرکزی لیڈر رام مادیو نے کشمیر میں بھارتی افواج کی بربریت کے جواز کے طور پر کیا ہے.پاک فوج نہ صرف عالمی قوانین کی پاسداری کرتی ہے بلکہ اسلامی تعلیمات پر کامل ایمان رکھتی ہے کہ جس میں حالت جنگ میں بھی دشمن کی فصلوں اور باغات کو بھی نقصان پہنچانے کی ممانت ہے۔