- الإعلانات -

جمہوریت کے لئے ’زہرِ قاتل‘ کون ہے ؟

مقام تعجب کیا ہے ؟ وہ یہ کہ حکمران کلب کے امراء’ فکری وحدت ‘کو پسِ پشت ڈال کر’فکری مرکزیت ‘کی آڑمیں اپنی آستینوں میں اپنی خواہشات کے کئی بتوں کی پوجا پاٹ میں اِتنے منہمک اور محو ہیں’جنہیں اندازہ نہیں ہورہا کہ یہ ملکِ خداداد جسے ‘پاکستان’ کے نام سے دنیا جانتی مانتی ہے اِس کی اولین ضروریات میں سے ایسی وہ کون سی ‘خاص ضرورت’ ہے جسے بقیہ تمام ضروریات پر گزشتہ70 برسوں سے فوقیت حاصل رہی اِس کی وجہ جاننے کے لئے ہمیں قیامِ پاکستان کی تاریخ کے ابواب کی ورق گردانی کرنی پڑے گی، جس کے لئے یہاں وقت نہیں کالم کی طوالت کا خیال کرتے ہوئے ہم صرف اِتنا ہی کہنا چا ئیں گے کہ قائداعظم محمدعلی جناح نے یقیناًپاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانے کے لئے ایک مشکل راہ کا انتخاب کیا تھا، لیکن سب کچھ جاننے اور سمجھنے کے باوجود کچھ حلقے برصغیر کی تقسیم کی مخالفت میں بھول جاتے ہیں ’ انگریزسامراج اورکانگریسی قائدین سمیت تقریبا سبھی پاکستان مخالف طبقات جن میں آرایس ایس جیسی متشدد جنونی ہندو تنظیمیں بھی شامل ر ہیں اْنہوں نے بڑی گہری متعصبانہ منصوبہ بندی کی ہوئی تھی قیامِ پاکستان کے ابتدائی مراحل میں ہی کانگریس اوردیگربھارتی فرقہ وارانہ جنونی تنظیمیں سبھی نے ڈھکے چھپے لفظوں میں کسی نے کھلے عام بیانات دئیے تھے کہ ‘ابھی تو’تقسیم’ ہونے دیں، ہم بحیثیتِ ہندو قائدین’ ایک آزاد اورخود مختارپاکستان کو زیادہ عرصہ تک قائم نہیں رہنے دیں گے’پاکستان کے قیام کے 25 سال کے بعد پاکستان مخالف بھارتی فرقہ وارانہ قائدین کا بغض پوری طرح کھل کر سامنے آگیا پاکستان دولخت ہوگیا ریاست کی فلاح کے تمام پہلوؤں کا تعلق معیشت سے جڑاہوتا ہے پاکستان ایک زرعی سرزمین کا ملک تھا پاکستان کا پنجاب اور سندھ اِس خطہ کے دیگر ممالک میں سب سے زیادہ خوراک پیدا کرنے والا ملک تھا قیامِ پاکستان کے وقت پاکستانی پنجاب کے علاقہ میں دنیا کا بہترین نہری نظام موجود تھا کوئی ایک انصاف پسند اپنے دلوں پر ہاتھ رکھ کر ایمانداری سے جواب دے کہ دنیا کے بہترین نہری نظام کی موجودگی میں آخر ایسی کون سے رکاوٹیں پیدا ہوئیں کہ ‘نہری نظام’ تو موجود ہے، لیکن خشک اور بے آب نہری نظام سے کیسے کاشت کاری کی جاسکتی ہے ؟ پہلے مرحلے میں انتہائی ہوشیاری اور گہری منصوبہ بندی کی چالاکیوں سے پاکستان کی مخالف عالمی طاقتوں نے پہلا شب خون ملکی نہری نظام کی آبی سہولتوں کو ناکارہ بنانے کے لئے مارا جس میں یقیناًہمارے اْس وقت کے ملکی حکمرانوں کی بڑی’فاش غلطی’ بلکہ اگریوں کہا جائے توعین صحیح ہوگا کہ بڑی ہی احمقانہ اور کسی حد تک مجرمانہ غلطی تھی چاہے وہ سیاسی حکمران تھے یا فوجی حکمران؟پاکستان کے پانی کا بٹوارہ بھارت کے ساتھ بالکل نہیں کیا جانا چاہیئے تھا پاکستان جو ‘جنوبی ایشیا کا خوراک گھر’تھا 60 اور61 کی دہائی میں یہ ‘خوراک کی تمام ضروریات پوری کرنے والا ملک آہستہ آہستہ خود خوراک کا محتاج ہونے لگا پاکستان جیسے زرعی ملک کوصنعتی ملک بنانے والوں نے زرعی معیشت کا جنازہ نکال دیا تاریخِ پاکستان کبھی اْن حکمرانوں اور فیصلہ سازوں کو معاف نہیں کرئے گی چاہے وہ فوجی جرنیل ہوں یا سیاسی بزرجمہرے؟قائداعظم محمد علی جناح کی سیاسی وڑن اور فکری شعور کی آگہی کو قوم سلامِ عقیدت پیش کرتی ہے ‘مقبوضہ کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دینے کے پس منظرمیں کتنی اہم حقیقت پوشیدہ تھی آج کے’ بونے‘ ملکی قائدین سمجھ نہیں سکتے وہ تو صرف قائداعظم کا نام ‘مسلم لیگ کا نام لے کرمسندِاقتدارتک پہنچنے کے آسان ذرائع استعمال کرنا جانتے ہیں، بین السطور عرض ہوا ہے کہ ‘مضبوط اورمستحکم معیشت’ کے بغیر’سیاست اورجمہوریت’ کوئی معنی نہیں رکھتے’ بھارت نے اپنے قیام کے فورا بعد ملک سے’جاگیرداری سسٹم’ کی جڑبیخ اْکھیڑکررکھ دی تھی’ہمارے یہاں عجب تماشا ہوا’جاگیرداری سسٹم’ کو پلا پوسا گیا لیکن ملک کے پانی کابھارت کے ہاتھوں بٹوارہ کرکے کاشتکاری کے بنیادی نظام کو تہہ وبالا کرکے رکھ دیا گیا،آج ملکی زرعی نظام کا کوئی والی وارث نہیں ‘’70 برس قبل پاکستان کو نہ چلنے دینے کا عہد باندھنے والے بھارتی سیاسی قائدین اور دیگرسرکاری اداروں نہ صرف ہماری زراعت کو ملکی آلہ کاروں کی ملی بھگت سے زمین بوس کیا بلکہ جب ملک میں کچھ صنعتیں قائم ہونے لگیں توبھارت نے عالمی مسلم دشمن طاقتوں سے گٹھ جوڑ کیا ملکی صنعتوں کا پہیہ جام کرنے کے لئے مختلف حربے اورتجارتی ناکہ بندی کے ہتھکنڈے استعمال کیئے، مثلا 70 کی دہائی کے بعدجب ذوالفقارعلی بھٹو کی حکومت بنی تو’پرائیوٹائزیشن’ کی ملک گیرپالیسی نے ‘ابھرتے ہوئے صنعتی نظام کی بھی رہی سہی لوٹیا ہی ڈوبودی’ وہ دن ہے آج کا یہ دن’نہ ملک سیاسی طور پرسنبھل سکا اور نہ ہی ملکی معیشت کو سانس آسکا ،عوام معاشی طور پربدحال سے بدحال ہونے لگے خوراک’ صحت اورتعلیم کی بات تو کیا کریں؟ یہاں تواب ملک کے کروڑوں عوام کوپینے کا صاف پانی تک میسرنہیں ہے! ملکی زرمبادلہ کے ذخائربرائے نام سمجھیں’معیشتی اعداد وشمار کے ماہرین کہتے ہیں گزشتہ 45۔40 برسوں میں حکومتی حکمران کلب نے عوام کو خوشحالی سے ہمکنارکرنے کے نام پرآج کے پاکستان کی تیسری چوتھی نسلوں کوعالمی بنک میں گروی رکھ دیا ہے مستقبل قریب میں بھی ایک خوشحال اور نئے امکانات کا پیغام دیتی ہوئی معیشت کی نئی کرن کسی کو دکھائی دیتی ہو تو دکھائی دے ہمیں زیادہ خوش فہمی میں مبتلا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے؟ایسی سیاست اورایسی جمہوریت نے گزشتہ بیس بائیس برسوں میں سوائے دکھوں اورغموں کے پہاڑوں کے علاوہ پاکستانی قوم اور کیا دیا ہے؟ جی ہاں کیا یہ ہی وہ جمہوریت جو آج چوہدری نثار کو آئی ایس پی آر کے ایک جائز اور برحق ‘ٹویٹ’ سے قتل ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے بڑی تمہیدی گفتگو ہوگء جی ہاں! ریاست ہوگئی تو جمہوریت ہوگی نا’اور ریاست بھی ایسی جہاں ایک بہت مضبوط’دیرپا اور مستحکم معیشت ہر ایک پاکستانی کو روزافزوں ترقی کرتی ہوئی نظربھی آئے صرف خالی نعروں سے ‘معیشت’نہیں چلا کرتی یاد رہے کہ پاکستانی معیشت کی راہوں میں اگردنیا کی کوئی منحوس طاقت رکاوٹ بنی ہوئی ہے تووہ سوائے بھارت کے اوردنیا کا کوئی اورملک نہیں ہوسکتا،دنیا بھرمیں پاکستان کا قومی وقار مجروح کرنے’ پاکستان کو دہشت گردی سے جوڑنے اور پاکستان کے کھیت کھلیانوں کو صحراؤں میں بدلنے کی گیدڑ بھبکیاں کون دیتا ہے کل مودی چیخ رہا تھا ‘ہم پاکستان کا پانی بند کردیں گے’ہم بلوچستان میں دہشت گردی کو کھل کر سپورٹ کریں گے ملکی سیاست نے اعلیٰ ذمہ داروں نے بھارت کی گیدڑبھبکیوں کو ایک جواب بھی دیا بھارت ہماری معیشت کوتباہ کردئے ہماری زراعت کا ناطقہ بند کردئے ہمارا پانی بند کردے مشرقی اورمغربی سرحدوں پرکھلی دہشت گردی کروائے’قوم پوچھ رہی ہے کہا ں گئی سیاست اور کہاں گئی ہماری پارلیمنٹس؟کیا ایک فلاحی ریاست کا ایسا ہی چہرہ ہوا کرتا ہے؟کیا طرفہ تماشا ہے سیاست دان ہی جب ملک کے دفاعی اداروں کی ساکھ پر سوالیہ انگلیاں اْٹھا دیں پھر کیا باقی رہ جائے گا ‘ڈان نیوز لیکس’ اِسی نوع کی بے توقیری کا ایک شاخسانہ ہے ‘ڈان نیوز لیکس’کے حساس معاملے پرحکومتی رویے نے ثابت نہیں کردیا کہ ملکی دفاعی امورکودرپیش عالمی سطح پراْٹھنے والے سنگین سوالات کے بارے میں اورافواجِ پاکستان کے آئینی کردار کوکسی خاطرمیں نہ لانے پرحکومتی کلب میں کتنی جھنجلاہٹ طاری ہے کس قدراکتاہٹ میں ہمیں یہ حکومت مبتلا دکھائی دیتی ہے رہی سہی کسروفاقی وزیرِ خارجہ کے اِس متنازعہ بیان نے اورنکال دی ‘ ملکی معاملات میں ‘ٹویٹربیانات’ کی کوئی حقیقت نہیں ہواکرتی’ ٹویٹ بیانات بازی جمہوریت کے لئے’ زہرِ قاتل‘ ہوتے ہیں ڈان لیکس نیوز کا معاملہ کیا ہے؟ اِس کی حساس نوعیت کیا ہے؟ یہ کوئی خبر تھی یا فوج اورآئی ایس آئی کو موضوعِ نکات بناکریہ خبر گھڑی گئی ان تمام تفصیلات سے باخبرملکی حلقے بخوبی آگاہ یہاں ہمارا نکتہِ بحث یہاں پر یہ ہے کہ اگر تھوڑی دیر کے لئے وفاقی وزیر داخلہ کے اِس طرزانداز کی جملہ باری کو صحیح تسلیم کرلیا جائے تو کیا وہ یہ فرمانا چاہ رہے ہیں کہ ملکی ا فوا ج کے ترجمان آئی ایس پی کے’ٹویٹ’ کے بعد فی الوقت ملک میں رائج جمہوریت پرخدانخواستہ بہت بڑا ہی اور زہریلا بم گرادیا گیا ہے؟ وفاقی وزیرِ داخلہ جیسی سوچ اور اندازِ فکر رکھنے والے اور جتنے بھی وزراء یا دیگرحکومتی افراد ہوں اْن کا وجود ‘ اْن کے یہ اعلیٰ عہدے اور اْن کی گزشتہ برسوں کی لگاتارحکمرانی کے طورطریقے ‘اختیارات’ ہرقیمت پراختیارت کی دیوانہ وار بھگدڑ نے (معاف کیجئے گا) اْنہیں نیک نامی کا کہیں سے کوئی سرٹیفیکٹ نہیں دیا مگرا ختیارات کی اِسی بھگدڑ نے اِنہیں ‘بدعنوانی’ اور ‘خائن’ ہونے کا عدالتی ‘گیٹ اَپ’ ضرور دیدیا ہے اب بتائیے’ ملک میں رائج موجودہ جمہوری نظام پر شکوک شبہات کے لگنے والے یہ بدنما داغ دھبے کون دھوئے گا ؟‘ ۔