- الإعلانات -

زوال پذیر معاشرے کی علامتیں !

دو دنوں میں کراچی میں دو بڑے واقعات ہوئے (حالانکہ کہ اس قسم کے چھوٹے چھوٹے واقعات ملک بھر میں روز کا معمول ہیں) یہ واقعات اور سانحات ہماری ماخلاقی دیوالیہ پن کے ثبوت ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارا معاشرہ بگاڑ کا شکار ہو چکا ہے لالچ،ہوس اور حرص نے انسان کوحیوانیت کے درجے سے بھی گرادیا ہے انسان کے انسان کی غم گیری مفقود ہوگئی ہے اور اسکی جگہ خود غرضی نے لے لی ہے آخر ایسا کیوں ہے ؟اس کا صاف اور واضح جواب یہ ہے کہ ہماری طرز سیاست غلط ہے اور غلط ہاتوں میں ہے کوئی جاگیر کی بنیاد پر سیاست کرتا ہے اور کوئی اپنی سیاست کو دولت سے چمکاتا ہے اور کوئی مذہب کا نام لیکر اپنے لیئے سیاسی راستہ ہموار کرتا ہے ۔سب جھوٹ بولتے ہیں ،پر، پروپگنڈے کرتے ہیں ،عوام کو سبز باغ دیکھا کر انھیں قائل کرتے ہے اور ان کی جیب کاٹ کر ان کا سکون غارت کرتے ہیں اور محض نعرے لگا کر من موجی ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔ظلم اور تشدد کی سیاست ،سرمایہ داری اور سرمایہ داریت کی سیاست اور منافقت اور فرقہ واریت کی سیاست نے کبھی دانشوری اور روشن خیالی کا ڈھول پیٹ کر ،کبھی فلسفی کے روپ میں آ کر کبھی عقیدے اور مسلک کا جھگڑا لیکر کبھی زمیندار کی شکل میں کبھی مذہب کی آڑ لیکر کبھی روحانیت کاجبہ اوڑھ کر کبھی بے دینی کا پرچار کرکے کبھی سائنسی ترقیات کے نام پر کبھی تاجر کی شکل اختیار کرکے چہرے آ تے ہیں اور چہرے جاتے ہیں اور بیچارے عوام محو تماشہ ہیں۔انسان کا بدترین المیہ یہ ہے کہ اسر آزادی سے محروم رکھ کر ہر دور میں انسان کا غلام بنایاگیا ہے اور اسر مجبور کیا گیا ہے کہ وہ جانوروں کی طرح لاچار کی حیثیت سے زندگی گزارے اور اسے ایک قسم کی افیوم دیکر یہ پٹی پڑھائی گئی ہے کہ یہاں کی پروقار ذندگی کے بارے میں سوچو بھی نہ ۔تمہارے لیئے معاشی اور معاشرتی جدوجہد عبث ہے اگر تم بھوک سے مرتے ہو تو مرجاؤ ،یہی مرجانا تمہارے لیئے بہتر ہے لیکن صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دو ،تمہارے یہا کی تکلیف ہی میں وہاں کی عیش ہے مالداروں مالداروں سے لڑ کر اپنی عاقبت مت خراب کرو ۔صبر کا جو فلسفہ یہاں پیش کیا جاتا ہے اسکے رموز بڑے نرالے ہیں کہا جاتا ہے کہ اپنی اور افلاس کی شکایت اور ظلم اور زیادتی کے خلاف آ واز اٹھانا ایک ایسا عمل ہے جس سے اجر ضائع ہوجاتا ہے اور دوسروں کو ظالم کہنے سے پہلے اپنا محاسبہ ضروری ہے اور اپنے گریبان میں دیکھنا چائیے کہ ہم خود کتنے پانی میں ہیں ،اگر یہاں انصاف نہیں ملتا تو نہ ملے وہاں ضرور انصاف ہوگا ،غریب غربت لیکر پیدا ہوتا ہے ،یہ اسکی اپنی قسمت ہے اور یہی غربت اسے آخرت نعمت بھی ہے اور مالدار بھی اپنی قسمت کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں،اور بعض دانشور اور فلسفی یہ اپنے دانش کدے سے یہ فلسفہ بکھیرتے ہیں کہ دنیا نصیب سے ہے اور آخرت محنت سے ،جمود کا یہ فلسفہ بڑا نرالہ ہے اور یہی وہ نظریہ ہے جو قنوطیت کی عکاسی کرتا ہے ان کی دانست میں اقبال نے یوں ہی کہ دہا ہے کہ
تقدیر کے پابند ہیں نباتات وجمادات
مومن فقط احکام الٰہی کا ہے پابند
اگر دیکھا جائے تو عجیب فلسفوں اور نظریات نے انسانی مزاج کا جنازہ نکال دیاہے ،بزدلی کو صبر کے معنی دیدیئے گئے ہیں شاید ایسے ہی فلسفیوں کے لیئے اقبال زاغوں کے تصرف میں عقاب کا نشیمن والی پھبتی کسی ہے ، انفرادیت پسندی کو ایمان کی پختگی کی علامت اور گروہیت اور فرقہ واریت کو مسلمان کی پہچان قرار دیا گیا ہے ،اسکا نتیجہ یہ ہے کہ مسجدوں میں سنگینوں کے سایہ میں نمازادا کی جاتی ہے ،رواداری کے سارے دروازے بند کردئے گئے ہیں ذاتی مفاد ات اور امفرادیت پسندی کی تسکین کیلئے اسلام کے زریں اصولوں کو بھی اپنے تابع بنا کر اس سبق کوبھلا دیا گیا ہے کہ اسلام کل انسانیت کی بھلائی چاہتا ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اجتماعی سوسائٹی کو مخاطب کیا ہے ۔اللہ تعالٰی کو انسانیت کی ارتقاء مطلوب ہے اور اللہ تعالیٰ انسان تنزلی سے نکال کر ترقی اور فلاح کا راستہ دیکھاتا ہے اور یہی راستہ انسان کیلئے قرآن نے متعین کیا ہے اور اجتماعیت کے ذریعے اس راستے کو حاصل کیا جاسکتا ہے ۔اجتماعیت اللہ تعالیٰ کو اتنی پسند ہے کہ اپنا تعارف بھی اللہ تعالیٰ نے اجتماعی حوالے سے کرایا ہے ’’رب العالمین،،کے الفاظ کہ کر بیان کیا گیا ہے کہ وہ اللہ کی ذات پوری اجتماع کو پالنی والی ہے پیغمبر اسلام ﷺ نے بھی اپنی دعوت کے حوالے سے ہمیشہ اجتماعیت کی بات کی ہے کسی جگہ فرمایا گیا ہے کہ تمام انبیاء ایک دعوت لیکر آئے ہیں کہیں فرمایا ہے کہ میں جو اصول لایا ہوں وہ ابراہیمی اصول ہیں کسی مقام پر آپﷺ پچھلی امتوں کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ اجتماعیت ہی سے معاشرت کی روح قائم ہوتی ہے ۔آج ہمارے معاشرے میں اخلاقی دیوالیہ پن کا دور دورہ ہے سرمایہ داریت اور حرص نے انسانیت پر پردے ڈالے ہوئے ہیں اور حیوانیت کو غلبہ حاصل ہوگیا ہے ۔انسان خواہشات کا تاابع ہوگیا ہے دولت کی پوجا نے آج کے کو صرف روٹی کا کیڑا بنادیا ہے ،سارا دن وہ روٹی کی تلاش میں وہ مارا مارا پھیرتا اور پھر بھی قلاش ہے یہ سب کچھ کیا ہے ؟اسکا جواب یہ ہے کہ یہ سب افرادیت پسندی کا شاخسانہ ہے نیک بننے کا جزبہ تو ہم میں ہے لیکن انفرادیپسندی کا نشہ اسکے راستے میں رکاوٹ ہے ۔کیا حرام کی کمائی پر پلنے والے اور حرام کی کمائی کو شیر مادر کی طرح حلال سمجھنے والوں کے حج اور عمرے انہیں بچاسکیں گے؟ کیا ٹیکس چھپانے والے اور دو نمبر کا مال تیار کرکے بیچنے والوں کے صدقے اور خیرات اور نیکیاں ان کو بچاسکیں گی؟۔
****