- الإعلانات -

خیبر پختون خوا میں آئندہ کس کی حکومت؟

ء کے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ نواز نے ایک کروڑ 48لاکھ ، تحریک انصاف نے 80لاکھ کے قریب اور پاکستان پیپلز پا رٹی نے 68 لاکھ ووٹ لئے۔ ا ور اسی طر ح تحریک انصاف ، پاکستان مسلم لیگ نواز کے بعد دوسری بڑی سیاسی طاقت تھی۔ پیپلز پا رٹی تو نواز شریف کی دوستی میں اتنے آگے گئی کہ اپنی حیثیت کھو بیٹھی اورابھی تحریک انصاف کے حالات کچھ زیادہ بہتر نہیں۔گذشتہ دنوں خیبر پختون خوا کے مختلف حصوں سے جس میں مردان، چارسدہ، کوہاٹ صوابی، مانسہرہ، بنوں ، پشاور سے تحریک انصاف اے این پی ، جمیعت اسلام اور جماعت اسلامی کے ورکروں اور یاروں دوستوں سے کسی بڑے فنکشن میں ملنے کا مو قع اور صوبے اور ملک کے سیاسی صورت حال پر گُفت و شنید کا موقع ملا۔ مختلف سیاسی پا رٹیوں کے ان صائب رائے میڈیا اور سیاست سے وابستہ کا ر کنوں اور یا ر دوستوں کے ساتھ بات چیت سے میں اچھی طر ح سمجھ گیا کہ تحریک انصاف کی مقبولیت وہ نہ رہی جو 2013 ء کے الیکشن سے پہلے اوریاعام انتخابات کے کچھ عرصہ بعد رہی۔ میں شیخ رشید احمد کے اس بیان سے با لکل اتفاق کرتا ہوں کہ خیبر پختون خوا میں پٹھان کسی کو ایک دفعہ اقتدار میں آنے کا موقع دیتے ہیں اور ووٹ دیتے ہیں۔یہ لوگ بار بار کسی پا رٹی کو اقتدار میں آنے اور ووٹ نہیں دیتے۔ پاکستان عوامی مسلم لیگ کے قائد شیخ رشید احمد نے ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل کے پروگرام میں مزید کہا کہ میں خان صا حب کو کہا ہے کہ اگر آئندہ عام انتخابات میں کچھ کا ر کر دگی دکھانی یا ووٹ لینے ہیں تو اس وقت آپ کو جواقتدار ملا ہے اس سے بھر پور استفادہ کریں۔ مگر یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے پونے تین سال اقتدار میں رہنے کے با وجود بھی یہ پا رٹی کوئی خا ص قابل ذکر کا ر کر دگی نہیں دکھا سکی ۔ پاکستان تحریک انصاف نے جو اچھے کام کئے ہیں اُس میں بڑے شہروں میں ناجائز تجاوزات ہٹانا، مختلف سرکاری ادا روں میں خالی آسامیوں کو شفاف طریقے سے پُر کرنا، علاوہ ازیں پولیس کے نظام میں کسی حد تک تبدیلی لانا شامل ہے ۔ با قی حالات ایسے کے ویسے اور پُرانے ڈگر پر رواں دواں ہیں۔ اقتدار آنے کے بعد چند مہینوں تک ہسپتالوں میں مُفت دوائی دیجاتی تھی مگر اسکے بعد پھر وہی پرانی روش جاری ہے۔میرا تعلق چونکہ صوابی سے ہے جہاں سے صوبائی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر اور صحت کے سینئر وزیر شہرام خان ترہ کئی کابھی تعلق ہے ۔ مگر حکومت کے ا تنے بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے ان دو بڑے شخصیات نے صوابی کے لئے جو کچھ کرنا تھا وہ نہ کرسکے ۔سارے اضلاع کے ڈی ایچ کیو ہسپتال اور بالخصوص صوابی ضلعی ہسپتال کوسٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال ہونا چاہئے مگر بد قسمتی سے تین سال اقتدار میں گزرنے کے با وجود بھی ویسے کے ویسے گندہ، جہاں پر اندر جانے کو دل نہیں کرتا۔ بد قسمتی سے اس ہسپتال میں ڈاکٹروں کی غفلت اور ایم ایس کی کمزور اور لوز ایڈمنسٹریشن کی وجہ سے روزانہ صوابی سے تعلق رکھنے والے کئی مریض لُقمہ اجل بن جاتے ہیں ۔اور صوابی ضلع کے لوگ یہ تقاضا بھی کرتے ہیں کہ ہسپتال کو ٹھیک کیا جائے ۔ سنیر وزیر صحت شہرام ترہ کئی اور سپیکر اسد قیصر کے نو ٹس میں اس قسم کے غلط باتوں کی نشاندھی بھی کی گئی مگر سمجھ نہیں آتی کہ وہ کونسا جادو اور سحر گری ہے جس جادو گری اور سحر کے ذریعے اسد قیصر اور صحت کے وزیر شہرام ترہ کئی مفاد عامہ کی خاطر ایم ایس اور ہسپتال کے غفلت برتنے والے ڈاکٹروں کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیتے۔ اب تو عام تا ثر ہے کہ جو اپنے گھر کو ٹھیک نہیں کر سکتے وہ صوبے کو کیسے ٹھیک کریں گے۔ عام لوگوں کا خیال ہے کہ تحریک انصاف سے تو اے این پی کی حکومت ٹھیک تھی جنہوں نے پو رے صوبے اور خا ص طور پر صوابی میں روڈوں ، کالجوں اور دوسرے ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھا یا تھا اور وہی اے این پی جو2013ء کے عام انتخابات میں بُری شکایت سے دوچار ہوئی تھی اب ایک دفعہ دوبارہ تحریک انصاف کی نا قص کا ر کر دگی سے ایک نئی سیاسی قوت بن رہی ہے۔ اگر پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ دو سالوں میں کے پی کے میں ترقیاتی کام نہ کئے تو آئندہ الیکن میں عوام کا فیصلہ تحریک انصاف کے حق میں ہوگا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ باقی تین صوبوں میں تو ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ہیں مگر تحریک انصاف سے جوان اور پاکستان کے پسے ہوئے طبقات اُمیدیں وابستہ کئے ہوئے تھے ان کے اُمیدوں پر بھی پانی پھر گیا۔ میرے اندازے کے مطابق اس پا رٹی کے45 فی صد ورکرز اور عہدیدار اور 55 فی صد لوگ ، تحریک انصاف کی پا رٹی قیادت اور انکے آبائی علاقوں میں ترقیاتی کام نہ ہونے کی وجہ سے نالاں اور اُکھڑے اُکھڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ تحریک انصاف کی قیادت سے جب بھی صوبے میں بے تحا شا لوڈ شیڈنگ کے بارے میں کہا جاتا ہے تو تحریک انصاف کی قیادت کا کہنا ہوتا ہے کہ یہ وفاقی سبجیکٹ ہے، ہم اس میں کچھ نہیں کر سکتے مگر بات یہ ہے کہ اس صوبے کے لوگوں نے توووٹ تحریک انصاف کو ووٹ دئے ہیں اور یہ اس پا رٹی قیاد ت کی قیادت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے صوبے کے عوام کے حقوق کا پو چھیں۔اگر یہ پا رٹی صوبے کے عوام کے حقوق کا پوچھ نہیں پو چھ سکتی تو پھر آپکو اقتدار میں رہنے کاکوئی حق نہیں۔ تحریک انصاف کے سربراہ تو سندھ اور پنجاب جیتنے گئے گئے ہوئے ہیں مگر اُنکو پہلے اپنے صوبے کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ اُن کو صوبے کے عوام کے لئے بڑے اقدا مات اور ترقیاتی کام کرنے ہونگے ورنہ اب تک پاکستان تحریک انصاف کے نے کچھ نہیں کیا ہے۔سوشل میڈیا پر اکثر و بیشتر مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے ووٹر اپنے قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران کی گمشدگی کے اشتہارات دیتے رہتے ہیں۔ بلکہ میں تو ایک نتیجے پر پہنچا ہوں کہ تحریک انصاف پر لوگں نے جو اعتماد اور ٹرسٹ کا اظہار کیا تھا اسے وہ فائدہ اور استفادہ نہیں اُتھا سکے۔ ایسے مو قعے زندگی میں کبھی کبھی ملتے ہیں اور سمجھ دار وہ سیاست دار اور لیڈر ہوتے ہیں جو ان مواقع سے استفادہ اور فائدہ اُٹھا سکیں۔ پاکستان کے سب سے زیا دہ زیادہ جمہوریت پسند لوگوں نے تو تحریک انصاف کو تبدیلی کے لئے ووٹ دیا مگر اب تک کوئی قابل ذکر مُثبت تبدیلی سامنے نظر نہیں آئی۔بحر حال جوانوں کی ایک بڑی تعداد خان کے ساتھ ہے مگر اسکے بر عکس ایک بڑی تعداد حیران و پشیمان بھی ہیں۔

بے فکری۔۔۔ شوق موسوی
اگرچہ داغ وہ ماتھوں سے اپنے دھو نہیں سکتے
مگر جو کچھ انہیں حاصل ہوا ہے کھو نہیں سکتے
یہ قانونِ شہادت کے کرشمے ہیں ، یقین رکھیں
عدالت میں بہت سے جرم ثابت ہو نہیں سکتے ہیں