- الإعلانات -

بھارت کی قانونی واخلاقی حیثیت پرسوالیہ نشان

بھارتی زیرانتظام کشمیرمیں تحریکِ آزادی کی روزافزوں بڑھتی ہوئی مزاحمت دنیا بھرمیں اگرکہیں کسی کو کم ہوتی یا ماند پڑتی دکھائی دیتی ہے توسمجھ لیجئے کہ ایسے لوگ یا ایسے گروہ کے افراد یا عالمِ اسلام کے خلاف اپنے اندر نفرت کے آلاومیں سلگتے رہتے ہونگے’یا وہ بھارت کے طرفدار ہونگے اوربحیثیت عالمِ اسلام ایک واحدایٹمی مسلم ریاست ہونے کے ناطے ان کے اندر پاکستان کے خلاف بغض وعناد کے زہریلے اثرات کہیں نہ کہیں ضرورموجود ہو نگے چونکہ پاکستان ہی دنیا کا وہ تنہا ملک ہے جو بھارتی سامراجی عزائم کی راہ میں چٹان بنا ہوا ہے اوراقوامِ متحدہ میں حل طلب سنگین مسئلہِ کشمیرکا ایک فریق ملک بھی ہے 8 جولائی2016 مقبوضہ کشمیرکا وہ یادگار اور تاریخی دن تھاجب بھارتی فوج نے کشمیر کے شیروں کو جگا دیا تھا کشمیرمیں انتفادہ کی تحریک ایسی ابھری جوآج تک تھم نہ سکی’ اِن گزرے دنوں میں اور ہرنئے ابھرتے دنوں میں کوئی ایک بھی ایساروزنہیں گزر اجس روز مقبوضہ کشمیر کے ‘جرات مند دلیر اور شیر دل نڈر جوانوں کے ساتھ بھارتی فوج کے دوبدو ٹکراو اور تصادم کی کوئی خبر نہ آئی ہوبھارت میں جب سے آر ایس ایس کی حمایتِ یافتہ بی جے پی کا متشدد جنونی ونگ کھل کر سیاست کرنے لگا جس کے نتیجے میں ‘ہندوتوا’ کے فرقہ وارانہ نعرے پر ووٹ لینے کا رواج عام ہوا تو اِس کا یہی مکروہ نتیجہ برآمد ہونا تھا مودی نے عمومی طور پر بھارت کی سب سے بڑی مسلمان اقلیت کو پہلے نشانے پر رکھا اور پھر مقبوضہ کشمیر کے عالمی ‘اسٹیٹس کو’ چیلنج کرکے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ بھارت عالمی انسانی حقوق کو تسلیم نہیں کرئے گا جس کا مظاہرہ دنیا خود دیکھ رہی ہے ،جنوبی ایشیائی عوام چوکنا ہوگئے ہیں کہیں بھارت اور پاکستان کے مابین پانی یا پھر کشمیر کے مسئلے پرکہیں خدانخواستہ نیوکلیائی تصادم کی کوئی نوبت نہ آجائے؟پاکستان نے تو بارہا بھارت سے مسئلہِ کشمیر سمیت ہر دوطرفہ مسائل پر مذاکرات کرنے کی اپنی رضامندی کو ظاہرکیاہے، لیکن بھارتی جنونی قائدین نجانے کن خوابوں کے اسیر بنے خطہ کو مسلسل عدم استحکام کی کھائیوں میں دھکیلنا چاہ رہے ہیں، جبکہ کشمیری عوام اپنی بقا اور اپنا حقِ خود ارادیت ہر قیمت پر حاصل کرنے کی خاطر موت وحیات کی کشمکش کی جدوجہد میں جدید اسلحوں سے لیس بھارتی فوج کا مقبوضہ وادی کے ہر اندرونی محاذ پر بڑی بے جگری کے ساتھ مقابلہ کررہے ہیں، کشمیر کی سلگتی ہوئی آتش فشاں صورتحال نے بھارت کے اندر موجود متعدل و روشن خیال طبقات کو بھی اب یہ احساس دلادیا ہے کہ وہ کروڑوں اربوں ایشیائی عوام کے محفوظ اور پرامن مستقبل کو مودی جیسے انسانیت دشمن قصاب نما جنونیوں کے ہاتھوں تباہ و برباد نہیں ہونے یں گے اب ہم خاموش تماشائی نہیں بن سکتے مقبوضہ وادی میں جاری ‘انتفادہ تحریک’میں کشمیری نوجوانوں کی جانب سے آنے والے پتھروں کا جواب ‘ڈائریکٹ’ مشین گن کی گولیوں سے دینے کے حکم نے بھارتی فوجیوں کو بھی ‘جنونی متشدد اورکسی حد تک پاگل پن کی جھنجلاہٹ کی ایک خوفناکی علامت بنا دیا ہے’گزشتہ دنوں عالمی میڈیا نے یہ خبربمعہ ایک بہیمانہ تصویرکے ساتھ جاری کی تو دنیا مزید بھونچکا سی رہ گئی بھارتی متعدل دانشور طبقات دہل گئے’ایک فوجی جیپ کے سامنے ایک کشمیری نوجوان کی آنکھوں پرپٹی باندھ کراسے رسیوں سے جکڑ دیا گیا تھا،جیپ سرینگربھرمیں گھومائی گئی، تاکہ کشمیری نوجوان فوجی جیپ پر سنگباری نہ کرسکیں؟ہے نا بھارتی فوج انسانیت کے احترام سے گری ہوئی وحشت ودہشت کی علامت اِس سے قبل3 جنوری2017 کوباسط ڈارنامی ایک طالبِ علم نوجوان جس کا تعلق بیج بہاڑہ کے ا یک گاوں سے تھا ،اسے نہایت بیدردی سے شہید کیا گیا پہلے اسے تفتیش کے نام پرگھرسے اٹھایا صبح اسکی لاش گاوں کے چوراہے پر رکھ دی گئی، محمد باسط ڈارانجینئرنگ کا طالبِ علم تھا اور مظفراحمد وانی شہید کے بچپن کے ساتھیوں میں سے تھا، اسے بھارتی ظلم واستبداد کے خلاف ہتھیار اٹھائے ابھی صرف دوماہ ہوئے تھے’بپھرے ہوئے کشمیری نوجوانوں میں ‘باسط ڈار’ بھی مقبولیت کی بلندیوں پرتھا، جبھی تو اِس کی نمازِ جنازہ میں کئی ہزار کشمیری مسلمانوں نے شرکت کرکے دنیا پر ثابت کردیا کہ وہ بھارتی حکمرانوں کے جبروستم کے سامنے کبھی اپنا سرنہیں جھکائیں گے’اب توخود نیشنل کانفرنس کے رہنماوں نے بھارتی قائدین کو للکار ا ہے کہ کشمیر بھارت کے ہاتھوں میں سے ریت کی مانند نکلتا جارہا ہے’دوسری جانب ایک بہت توانا آوازسیکولربھارتی طبقات کی طرف اٹھی ہے، جن میں بی جے پی کے سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا سابق خارجہ سیکرٹریزنر سما راو اورسلمان حیدر’ جبکہ صحا فیوں میں پریم شنکرجھا’ جان دیال، شیکھرگپتا’ اوربھارت بھوشن جیسی نامور شخصیات کے علاوہ سابق جسٹس اے پی شاہ’ وجاہت حبیب اللہ’ارونارائے’رام چندرگہا’ایس عرفان حبیب اللہ کے ساتھ کیل کاک بدری اورشوبہا بروے جیسی ممتاز سماجی افراد بھی اب کھل کرکشمیر میں جاری انسانیت کشی کے مجرمانہ اقدامات پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرنے لگے ہیں، جس سے کوئی بھی دردمند اور صاحبِ انصاف انسان یکسر صرفِ نظرنہیں کرسکتا اب ذرا ہم ان عالمی منصفوں سے مخاطب ہوکر پوچھنا چاہتے ہیں کہ کل ان کے نزدیک انسانیت کے احترام کا پیمانہ کیا تھا ؟جب انہوں نے مشرقی تیمور میں انڈونیشیا کی فوج کواپنے ہی ایک صوبے میں انتظامی کنٹرول کرنے پر اسے نہ صرف ‘تنبیہہ’ کی تھی بلکہ اقوامِ متحدہ نے امریکی فوج کی سرپرستی میں کئی مغربی ممالک کی افواج کو مشرقی تیمور میں اتارنے کا ‘عالمی اجازت نامہ’ بھی تھمادیا تھا اور یہی نہیں بلکہ یہ کہا گیا تھا کہ ‘یہ بات اب صاف عیاں ہے کہ انڈونیشیا کی فوج مشرقی تیمور میں تشدد کی کارروائیوں سے فورا باز آجائے؟’اقوامِ متحدہ مشرقی تیمورمیں جاری انسانیت کی تباہی کا تماشا مزید نہیں دیکھ سکتی’تیمور میں تو انسان بستے تھے جن کی بقا اور تحفظ کیلئے عالمی ادارہ فورا حرکت میں آگیا؟ جواب دے عالمی ادارہ کہ کشمیر میں کیا انسانوں کی تذلیل نہیں کی جارہی ہے؟مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے انسانی حقوق غصب نہیں کیئے جارہے؟تیمور میں عیسائیوں کے حقوق کے نام پر عالمی ادارے کی فعالیت کو تاریخ انسانیت میں کیا نام دیا جائے گا؟ افسوس صدیا افسوس! عالمی ادارہ بھی اب اپنی غیر جانبداری کی جائز سطح سے کتنا نیچے گرتا جارہا ہے، اب تو دنیا کوتسلیم کرنا ہی ہوگا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی قانونی واخلاقی حیثیت ہے ہی نہیں ۔
****

تلاش۔۔۔ شوق موسوی
مشکل ہے بہت سی منصفوں کو
وہ رازوں کو فاش کر رہے ہیں
فہرستیں منگا کے افسروں کی
ہیروں کی تلاش کر رہے ہیں