- الإعلانات -

فورتھ جنریشن وار

معروف صحافی محترم عبدالودود قریشی نے وٹس اپ پر گریٹ فرینڈز کے نام سے ایک گروپ بنا رکھا ہے جسکے بلاشبہ اپنے اپنے شعبے کے کئی عظیم دوست ممبر ہیں۔ان میں سے ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو بیرون ملک مقیم ہے مگر اپنے ملک کے حالات پر دلگرفتہ بھی رہتے اور اس کا اظہار گریٹ فرینڈز کے پلیٹ فارم پر بھی کرتے رہتے ہیں۔چونکہ سوشل میڈیا ہی اس دور کی ایک ایسی غنیمت ہے جس پر اظہار کی مکمل آزادی ہے بلکہ بعض اوقات تو بات آوارگی کی حدود میں چلی جاتی ہے.خیر اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں.بات ہورہی تھی گروپ میں اظہار خیال کی تو اگلے روز امریکہ میں مقیم ایک محترم ممبر سید علی سلمان نے ڈان لیکس کے پس منظر لکھا کہ”ڈان لیکس پر واویلا نے ثابت کیا کہ قوم اخلاقی گراوٹ اور منافقت کی انتہاں کو چھو رہی ہے۔ ہر کوئی جانتا ہے شدت پسندوں کی سرپرستی فوج کرتی ہے۔آئی ایس آئی اور دیگر شعبوں کے بعض فوجی افسران کو ریٹائر ہوتے ہی نیا کنٹریکٹ ملتا ہے شدت پسندوں کو ٹریننگ دینے اور منصوبہ سازی کیلئے۔براہ راست فنڈنگ بھی ہوتی ہے۔ٹرینگ کیمپ بھی فوج کے خفیہ انتظام کے تحت چل رہے ہیں۔یہ دفاع پاکستان کونسل بھی اسی کی کڑی ہے۔دراصل اصل یہ حکمت عملی ملکی دفاع کا حصہ ہے،درست یا غلط کی بحث الگ ہے۔جن دہشت گردوں کومخالف ملک پاکستان کے خلاف استعمال کرتے ہیں فوج ان سے لڑرہی ہے اور قربانی بھی دے رہی ہے۔یہی سچ ہے۔ ڈان نے کوئی من گھڑت خبر شائع نہیں کی وہ ہی چھاپا جو سچ تھا۔تکلیف یہ ہے کہ فوج کے افسران کو جوابدہ دکھایا گیا اور حکومت نے شدت پسندی سے خود کو بری الذمہ کہنے کی کوشش کی۔
منافقت برقرار نہ رکھنا جرم بن گیا ہے”.
جن دوست نے یہ سب لکھا سچ بات یہ ہے کہ میں ان کے بارے نہیں جانتا.اس سے قبل بھی ان سے اسی ذریعے سے نوک جھوک چلتی رہتی ہے۔تاہم مذکورہ اظہاریے سے محترم دوست بارے جو امیج بنا ہے اس پر اظہار کرنا مقصود نہیں ہے.چونکہ امریکہ میں مقیم ہیں اور حسین حقانی صاحب بھی امریکہ میں ہی سکونت پذیر ہیں لہٰذا امید ہے واثق ہے کہ ان کے حلقہ احباب میں ہونگے اور عین ممکن ہے کہ ان کے حلقہ اثر میں بھی ہوں.جب انکا درج بالا خیال نظر سے گزرا تو جوابا”صرف اتنا لکھا کہ آپ کی جملہ سوچ سے کوئی ذی ہوش اتفاق نہیں کرسکتا۔اس پر ان کا جواب آیا کہ’’ممکن ہے میرا انداز بیان ناقص ہو مگر اینٹی انڈیا شدت پسند ہماری فوج کے خفیہ انتظام کے تحت ہیں۔افغانستان میں حقانی گروپ اور دیگر فریڈم فائٹرہماری فوج کے حمائت یافتہ ہیں۔وزیراعظم کو اس پالیسی سے اختلاف اتفاق یا اسے تبدیل کرنے کا مکمل حق ہے‘‘
اس سے پہلے کہ میں اس پر کوئی جواب دیتا دفاعی امور کے ماہر جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب صاحب نے ان کے اس موقف کو رد کرتے ہو جواب دیا کہ
Reality is much different than what you are saying. There is no difference between what you are saying and what India is propagating. India is sworn enemy and one can understand the reason for Indian propaganda but your stance is quite surprising.
اس پر ایک محترم دوست جاوید اقبال نے بھی حمایت کرتے ہوئے کھا کہ
fully agreed. This is what our enemy desires and he has cultivated such minds successfully.
جنرل امجد صاحب کے موقف کی حمایت گروپ ممبر نصیر گیلانی نے بھی کی۔یقینا” کئی دیگر دوستوں کا بھی یہی موقف ہوگا تاہم میں نے انہیں پاکستانی بچوں کی ہندوستان سے جبری واپسی کی خبر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے لکھا ،جناب آپ کے محبوب ملک نے کل ہی ہمارے بچوں کو واپس پاکستان دھکیل دیا ہے۔۔۔اس پر ہم بھارت کی اس اوچھی حرکت پر نفرت نہ کریں تو کیا مٹھائی بانٹیں۔۔۔ویسے بھی عام زندگی میں بھی آپ کا کوئی پڑوسی کمینہ ہو تو گھر کے بڑے ہوشیار اور محتاط رہنے کی تلقین کرتے رہتے ہیں۔۔۔اگر آپکو پرسنلی پاک فوج سے ایشو ہے تو بھلے رہے۔۔۔مگر ہمیں اپنے جوانوں سے پیار ہے۔
جواب ملا:جوانوں سے ان سب کو محبت ہے جو ان کی ڈالی ہوئی کمندوں کے ذریعے اقتدار کی مسند پر جا بیٹھتے ہیں۔حیرت ہے کہ ذات پر رائے زنی فوری شروع ہوجاتی ہے لیکن سادہ سی بات کا جواب نہیں بن پڑتا۔کیا پاکستانی فوج انڈیا مخالف شدت پسندوں کو ٹریننگ دیتی ہے یا نہیں۔پاکستان فوج کے افغان حکومت مخالف پشتون شدت پسندوں سے رابطے ہیں یا نہیں؟ کیا وزیراعظم کو مذکورہ دو سوال پوچھنے اور اس پالیسی پر نظر ثانی کا حق ہے یا نہیں؟.
ان سوالات کے کیا جواب ہو سکتے ہیں۔سوائے اس کے کہ یہ سب لغو پروپیگنڈا ہے۔ہر پی ایم کو اسکا حق ہے کہ ملکی مفاد میں جاری پالیسیوں کو مزید بہتر اور موثر بنائے۔رہ گئے ہمارے پی ایم تو انہیں تو شاید ملک کی نظریاتی اساس سے بھی پوری طرح آگاہی نہیں.ورنہ وہ کبھی بھارتی سرزمین پر کھڑے ہو کر یہ نہ کہتے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی فرق نہیں.خیر یہ ایک لمبی بحث ہے۔جنرل امجد اور جاوید اقبال صاحب نے جس نکتے کی طرف توجہ دلائی وہ فورتھ جنریشن وار کہلاتی ہے جس کا مقصد پاک فوج اور ہمارے دیگر سکیورٹی اداروں کے خلاف بدگمانی کو ہوا دینا ہے۔ڈان لیکس کے خالق ہوں یا کوئی اور اس قبیل کی سوچ کے دھارے آخر بنیے سے جا جڑتے ہیں۔اب علی سلمان صاحب سے سوال ہے کہ جن بچوں کو واپس بجھوایا گیا ہے وہ کونسے دہشتگرد گروپ سے تعلق رکھتے ہیں یا ان کی پیچھے پاکستان کے کس سکیورٹی ادارے کا ہاتھ تھا۔ پاکستانی طلبا کو نئی دہلی کی ایک این جی او راٹس ٹو روٹس کی طرف سے ایکسچینج فار چینج پروگرام کے تحت بھارت مدعو کیا گیا تھا۔پاکستانی طلبا کو بدھ چار مئی کے روز آگرا جانا تھا اور جمعرات کو نئی دہلی میں واقع پاکستانی سفارتخانے میں بھارتی طلبا سے ملاقات اور ان سے اپنے تجربات کے تبادلے کی تقریب میں شرکت کرنا تھی۔بچوں کی جبری بے دخلی کا جواز یہ تراشہ گیا کہ پاک فوج نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے میں گھس کر دوہندوستانی فوجی مار ڈالے اور ان کی لاشوں کی بے حرمتی کی ہے۔لہٰذا انہیں واپس بھجوایا گیا۔گزشتہ برس اکتوبر میں بھی این جی او کے اسی طرح کے پروگرام کو بھارت کی طرف سے پاکستان کے سرحدی علاقے میں سرجیکل اسٹرائیک کے اعلان کے بعد منسوخ کردیا گیا تھا۔جب بنیے کے ہاں ایسی قابل نفریں سوچ پنپ رہی ہو توپھر پاکستان یا ایک عام پاکستانی کیا کرے۔چپ رہے چاہے اس پار سے جتنا مرضی ہے زہر پھیلایا جارہا ہو۔حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ اگر بنیے کو آئینہ دکھایا جائے تو ہمارے بعض مہربانوں کی جبینوں پر بل پڑ جاتے اور ان کی تان پھر پاک فوج پر جا ٹوٹتی ہے۔اس انوکھی منطق کی مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی۔میں بھارت کو یا مودی کو کمینہ یا دہشت گرد سمجھوں یا لکھوں تو اس میں پاک فوج کا کیا عمل دخل ہے۔میں اس لیے بھارت سے نفرت کرتا ہوں کہ مودی سینے پر ہاتھ مار کر کہتا ہے کہ ہاں میں نے پاکستان توڑنے میں مکتی بانی کی مدد کی تھی۔اس کے کئی وزرا کہتے ہیں کہ ہم پاکستان کے مزید چار ٹکڑے کریں گے۔بھارت اس لیے قابل نفریں ہے کہ کشمیر میں پاکستان کے نام لیواوں کو وہ چھلنی کررہا ہے۔مجھ جیسے ہزاروں کی وہ نفرت کا اس لیے شکار ٹھہرتا ہے کہ بھارت کے چپے چپے میں بسنے والے مسلمانوں پر جینے کے دروازے بند کیے جا رہے ہیں۔گوشت کھانا زنا سے بھی بڑا جرم بن چکا ہے۔ابھی گزشتہ ماہ ہی ریاست اترپردیش کے وزیراعلی اور مودی ثانی یوگی آدتیہ ناتھ نے جمع الوداع اور عید میلادالنبیؐ کی چھٹیاں بھی منسوخ کردی ہیں۔اس بھارتی ریاست میں چار کروڑ مسلمان آباد ہیں۔اگر ایساکام پاکستان میں ہوا ہوتا تو نجانے کیا قیامت اٹھا دی جاتی۔سندھ میں ہندووں کی ایک مختصر تعداد آباد ہے اگر سندھ حکومت ہولی پر پابندی لگائے یا ان کی کسی مذہبی چھٹی کو منسوخ کرے تو کیا تماشہ ہو۔ایک آہ و بکا ہوگی حتی کہ واشنگٹن کے درودیوار بھی بین کرتے دکھائی دیں گے۔
*****