- الإعلانات -

پاک افغان سرحد کے جغرافیائی تعین پر اتفاق

پاکستان اور افغانستان کے ملٹری حکام نے فلیگ میٹنگ کے دوران مشترکہ جیولوجیکل سروے کے بعد جغرافیائی حدود کے تعین پر اتفاق کیا ہے۔ فلیگ میٹنگ میں پاکستانی وفد کی قیادت نارتھ سیکٹر بریگیڈیئر ندیم سہیل نے کی جبکہ افغانستان کی جانب سے کرنل شریف نے وفد کی قیادت کی میٹنگ میں سرحدی علاقے میں فائرنگ اور سرحدی تنازع کو حل کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فلیگ میٹنگ کے دوران دونوں ملکوں کی طرف سے سرحدی علاقے گلی لقمان اور گلی جہانگیر کا مشترکہ جیولوجیکل ماہرین کی طرف سے سروے کرانے کا فیصلہ کیا گیا جس میں گوگل اور جیولوجیکل نقشوں سے سروے میں مدد لینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔چمن پاک افغان سرحد باب دوستی پر پیدل آمدروفت میں مقامی تاجروں اور مسافروں کو مشکلات کے حوالے سے سیکورٹی فورسز کے اعلیٰ آفیسران اور قبائلی عمائدین پر مشتمل جرگے کے اراکین کو مکمل بریفنگ دی گئی بریفنگ فرنٹیئرکو ر ایف سی کے باب دوستی قلعہ کے کرنل چنگیز نے دی جنہوں نے پاک افغان سرحد پر ایگزٹ پوائنٹ پر مختلف مقاما ت پر دی اس موقع پر انہوں نے قبائلی عمائدین کے جرگے کو فرنٹیئر کور کی جانب سے قائم ایمرجنسی ہسپتال اور دیگر سہولیات کے ساتھ ساتھ نئے کاغذات کی مکمل جانچ پڑتال کیلئے سہولیات بھی دی گئی ہیں جو شام پاک افغان سرحد کے بندش کے بعد بھی ڈیڑھ گھنٹے تک کھلا رکھا جاتاہیں۔پاک افغان سرحد پر پاکستان کی طرف سے مسافروں اور تاجروں کیلئے ہرقسم کی سہولیا ت دی جارہی ہے اور پینے کے صاف پانی اور دیگر ہرطرح کے سہولیات دی گئی ہیں جبکہ پاک افغان سرحد پر پیدل آمدروفت کیلئے دخول اور اخراج تنگ راستے کے باعث عورتوں اور مردوں کے ایک ہی راستے کے باعث تاجروں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جس کیلئے پاک افغان سرحد پر کئی بار فلیگ میٹنگ میں اس ایشو کو افغان حکام کے سامنے اٹھایاگیا ہے اور ان سے درخواست کی گئی ہیں کہ راستے کو وسعت دی جا ئے تاکہ عوام اور مسافروں کو آنے جانے میں سہولیات میسر ہو پاک افغان سرحد باب دوستی کے مقام پر کئی مقامات پر بریفنگ دینے کے بعد پاک افغان سرحد پر باب دوستی گیٹ قلعے میں قبائلی عمائدین کے جرگے اور چیمبر آف کامرس کے وفد کو کمانڈنٹ کرنل عثمان نے پاک افغان بارڈر کے صورتحال پر بھی مکمل بریفنگ دی انہوں نے اس موقع پر کہاکہ سرحد پر غیر قانونی نقل وحمل کو روکنے کیلئے سخت اقدامات اٹھائے گئے ہیں جس میں جدید بائیومیٹرک سسٹم کی تنصیب بھی شامل ہے اور ہم افغانستان کے حکومت سے بھی اسطرح کے اقدامات اٹھانے کی درخواست کرتے ہیں تاکہ پاک افغان سرحد پر ہرقسم کی غیر قانونی نقل وحمل کو روکنے میں آسانی ہو اور باہمی تعاون سے ہی دہشت گردی کی روک تھام ممکن ہے۔ جدید بائیومیٹرک سسٹم شام کے چھ بجکر تیس منٹ تک کھلا رہتاہے جو کہ مسافروں اور تاجروں کی سہولت کیلئے کھلا رکھاگیاہے جبکہ صبح کے آٹھ بجے کے وقت تاجروں کیلئے باب دوستی کھول دیاجاتا ہے اور ان کو پہلے جانے دیاجاتاہے جبکہ دس بجے کے بعد سے فیملیز کو جانے دیاجاتاہے تاکہ ان کوپاکستان جانے میں آسانی ہو کیونکہ ان کے کاغذات کی چیکنگ بھی مکمل طریقے سے کی جاتی ہے اس موقع پر پاک افغان سرحد زیرو پوائنٹ پر قائم دیہات مکینوں نے سوال اٹھایاکہ آئندہ مردم شماری میں ہمارے علاقوں کے مکینوں کوسہولیات دی جائے اور ہمارے علاقے کی خانہ ومردم شماری میں حائل رکاؤٹوں کو دور کرنے کیلئے اقدامات اٹھایاجائے جس پر کمانڈنٹ کرنل عثمان نے کہاکہ مردم شماری وخانہ شماری میں بارڈر زیروپوائنٹ پر قائم دیہات جس کے پا س بھی قومی دستاویزات ہو ان کو ہرقسم کی سہولیات دی جائے گی ۔اور جو پاکستان کے ایریا کے رہائشی ہے ان کی مردم شماری و خانہ شماری ہوگی اس حوالے سے دیگر ضروری اقدامات بھی اٹھائے جائیں گے ۔ پاک افغان بارڈر پر پاکستان وافغانستان کے سیکورٹی فورسز کے درمیان فلیگ میٹنگ کے بعد پاک افغان بارڈر کے دورانیہ کو بڑھایاگیا جس کے مطابق پاک افغان بارڈر صبح سات بجکر تیس منٹ سے لیکر شام چھ بجے تک کھلا رہے گا ۔ آئی جی ایف سی میجر جنرل ندیم احمد نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ مردم شماری کے دوران اس طرح کا کوئی واقعہ پیش آئے۔ مردم شماری ہونے سے پہلے ہم نے افغان حکام کو آگاہ کیا افغان بارڈر فورسز کے اہلکاروں نے مردم شماری میں رکاوٹ ڈالی۔ افغان فورسز نے پاکستانی علاقے میں گھس کر گھروں پر قبضے کئے اور پوزیشن سنبھال لی افغان فورسز نے لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔ ہم چاہتے تو زیادہ فورسز سے علاقے کو بہت جلد خالی کراسکتے تھے دونوں جانب شہری آبادی کی وجہ سے بھاری ہتھیار استعمال نہیں کئے۔پانچ مئی کی صبح ہم نے افغان فورسز سے اپنے علاقوں کا کنٹرول حاصل کرلیا افغان فورسز نے بلا اشتعال پاکستانی شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔ ہمارے دو جوان شہید اور نو زخمی ہوئے۔ افغان فورسز کی فائرنگ کے جواب میں پاکستان نے بھرپور جواب دیا۔ پاکستان نے جواب میں پانچ افغان پوسٹیں مکمل تباہ کیں جوابی کارروائی میں افغانستان کی پچاس سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔ افغانستان کا بھاری نقصان کرکے ہمیں کوئی خوشی نہیں ہوئی واقعہ کی تمام ذمہ داری افغان بارڈر سکیورٹی فورس کی ہے۔ آئی جی ایف سی نے کہا کہ پاکستان کی جغرافیائی خودمختاری ہماری اولین ترجیح ہے۔ آئندہ بھی کسی نے خلاف ورزی کی تو اس سے بڑھ کر جواب دیں گے۔ سیاسی قیادت نے واضح بیان دیا ہے کہ دہلی اور کابل میں گٹھ جوڑ ہے۔ پاکستان کے بین الاقوامی بارڈر پر بحث نہیں ہوسکتی۔ سرحد کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دیں گے۔ جنگ پاکستان اور افغانستان کے مفاد میں نہیں۔ پاک افغان سرحدی تنازع حل ہونے سے دونوں ملکوں کے درمیان فاصلے کم ہونگے۔پاکستان افغانستان کو مستحکم دیکھنا چاہتا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ سرحدی تنازع کا حل بھی خوش اسلوبی سے نکالا جائے۔
کراچی آپریشن امن بحالی تک جاری رہنا چاہیے
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کور ہیڈ کوارٹر کراچی کا دورہ کیا‘ آرمی چیف کو کراچی کی سکیورٹی صورتحال اور سندھ میں مردم شماری کے دوران پاک افواج کے تعاون پر بریفنگ دی گئی جبکہ آپریشن ردالفساد میں پیش رفت سے آگاہ کیا گیا‘ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان کے استحکام کے لئے کراچی میں امن ضروری ہے‘ صوبے بھر میں امن کی مکمل بحالی تک کوششیں جاری رکھی جائیں۔ کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔ ڈی جی رینجرز سندھ بھی آرمی چیف کے استقبال کے لئے موجود تھے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کو آپریشن رد الفساد میں پیش رفت سے آگاہ کیا گیا جبکہ سندھ میں مردم شماری کے دوران پاک فوج کے تعاون پر بھی بریفنگ دی گئی۔ آرمی چیف نے پاک فوج اور سندھ رینجرز کی کارکردگی کو سراہا۔ آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان کے استحکام کے لئے کراچی میں امن ضروری ہے صوبے بھر میں امن کی مکمل بحالی تک کوششیں جاری رکھی جائیں۔ آرمی چیف نے قوم پرستوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی کوششوں کو سراہا۔ آرمی چیف نے بجا فرمایا ہے کراچی امن کی بحالی وقت کی ضرورت ہے اس کے بغیر استحکام نہیں آسکتا۔ آپریشن کے ذریعے ہی دہشت گردی ، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر جرائم میں واضح کمی آئی ہے اور لوگوں میں احساس تحفظ دکھائی دینے لگا ہے۔ کراچی میں امن کی مکمل بحالی تک آپریشن جاری رہنا چاہیے یہی وقت کا تقاضا ہے۔