- الإعلانات -

چین کا کشیدگی کم کرنے پر زور اور عبداللہ عبداللہ کا اعتراف

پاک افغان جاری حالیہ کشدگی کو کم کرنے پر چین نے بھی زور دیا ہے۔افغان فورسز کی جانب سے پاکستان کے سرحدی علاقے چمن میں مردم شماری ٹیم پر فائرنگ کے واقعے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ‘اس حوالے سے متعلقہ رپورٹس چینی حکام کے نوٹس میں آئی ہیں۔تاہم چین نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان مناسب انداز میں حالیہ جاری سرحدی تنازع کو حل کرلیں گے اور خطے میں امن و امان کیلئے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔ترجمان نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ دونوں ممالک خطے میں امن و امان کے قیام کیلئے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔گزشتہ چند دن سے بلوچستان کے علاقے چمن میں مردم شماری ٹیم کو تحفظ فراہم کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں پر افغان بارڈر فورسز کی فائرنگ سے ہونے والے جانی نقصان پر پاک افغان کشیدگی ایک بار پھر عروج پر ہے۔تاہم معاملات باہمی بات چیت سے طے کرنیکی کوششیں بھی ہورہی ہیں۔ایسے میں چین کی طرف سے سرحدی تنازع کو حل کرنے پر زور دینا خوش آئند ہے۔جس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ جلد جاری کوششیں بار آور ثابت ہونگی۔ادھر افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے کابل میں پاکستانی صحافیوں کے وفد سے بات چیت کے دوران دونوں ممالک میں اعتماد کے فقدان کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان، پاکستان سے جنگ کا خواہشمند نہیں بلکہ استحکام کیلئے پاکستان کی مدد کا طالب ہے۔انھوں نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی افغانستان میں موجودگی کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔عبداللہ عبداللہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ نہ تو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور نہ ہی افغانستان ایسا کوئی ارادہ رکھتا ہے۔ لہٰذا پاکستان کے مفادات کے خلاف کبھی کوئی ہدایات جاری نہیں کیں۔اس موقع پر افغان چیف ایگزیکٹو نے پاکستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں کا اعتراف بھی کیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ افغان مفاہمتی عمل کیلئے پاکستان سے زیادہ کوئی ملک اہم کردار ادا نہیں کرسکتا تاہم باہمی تعلقات کی موجودہ صورتحال کچھ اطمینان بخش نہیں جبکہ یہ تاثر بھی غلط ہے کہ افغانستان میں ہونے والی ہر کارروائی کا الزام پاکستان پر لگایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاک افغان جنگ کا امکان نہیں ہے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ پھر اس شرارت کا مقصد کیا تھا۔افغان حکام کو سوچنا چاہیے کہ ایک طرف آپ اعتراف کرتے ہیں کہ افغانستان پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے اہلیت رکھتا ہے اور نہ پاکستان سے جنگ کا خواہشمند ہے بلکہ استحکام کیلئے پاکستان کی مدد کا طلب گار ہے تو پھر چمن جیسے واقعات کے کیا محرکات ہیں۔یہ کیسے ہو سکتا ہے آپ پاکستان سے مدد کے طلب گار ہوں پاکستان پیچھے ہٹا ہے۔درحقیقت طالبان کے حوالے سے افغانستان اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ طالبان پاکستان کی کٹھ پتلی ہیں۔جبکہ ایسا قطعا” نہیں ہے طالبان پاکستان کے کنٹرول میں نہیں رہے وہ افغانستان کی ایک بڑی حقیقت ہیں غنی حکومت کو ان سے براہ راست بات چیت کرنا ہوگی۔جہاں پاکستان کی ممکنہ مدد ہو گی وہ ضرور کرے۔سارا ملبہ پاکستان پر ڈال دینا کہ وہ ہی طالبان کو مجبور کرے تو اس سے مسائل بڑھیں گے۔گزشتہ روز بھی دفتر خارجہ کے ترجمان محمد نفیس زکریا نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن کے قیام کیلئے مدد گار کا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے۔ ہم کوشش کرینگے کہ جنگجو دھڑے مذاکرات کی میز پر آئیں،افغان حکومت مذاکرات کیلئے ماحول پیدا کرے تاکہ لوگ بات کرنے پر راضی ہوں، گزشتہ 40 سال کے دوران افغانستان میں خلا پیدا ہوا ہے وہ خلا رہے گا،اتنی جلدی اس کی ریکوری نہیں ہو گی۔نفیس زکریا نے سرکاری ٹی وی سے انٹرویو میں کہا کہ چمن واقعہ کو کئی پہلوؤں سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔افغانستان میں امن دیکھنا چاہتے اوربہتر تعلقات چاہتے ہیں۔افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات حکومت کی سطح پر ہی نہیں بلکہ لوگوں کے ساتھ ہیں اور یہ برسوں پرانے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے ڈی جی ایم اوز کی بات ہوئی، پھر فلیگ میٹنگ ہوئی اس میں ایک چیز واضح سامنے آئی ہے،سب کو اس پر زیادہ سوچنا ہو گا اور افغانستان خود بھی مانتا ہے کہ بارڈر مینجمنٹ بہت ضروری ہے۔ ہماری یہ شکایت ہے کہ افغانستان سے لوگ آ کر پاکستان میں دہشت گردی کرتے ہیں افغانستان میں بیٹھی دہشت گرد تنظیموں نے باقاعدہ اس کا اعلان کیا۔ جماعت الاحرار نے لاہور اور سیہون شریف حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ جب تک پاکستان اور افغانستان بات چیت نہیں کرینگے۔ دونوں ملکوں کے درمیان غلط فہمیاں دور نہیں ہوں گی،پاکستان اور افغانستان کے درمیان کوئی جنگ نہیں، افغان عوام کی بڑی تعداد پاکستان کے ساتھ دوستی کی خواہاں ہے۔
حکومت فوری نوٹس لیکر معاملے کی تہہ تک پہنچے
پاکستان الیکٹرانک میڈیا اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین ابصار عالم نے ایک پریس کانفرنس میں وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے انہیں موصول ہونے والی دھمکی آمیز فون کال کی تحقیقات کی درخواست اور اپنی ٹیم کی حفاظت کی اپیل کی ہے۔پریس کانفرنس کے دوران فون کال بھی سنوائی گئی جس میں کال کرنے والا شخص دھمکیاں دے رہا ہے۔ابصار عالم نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کو خط لکھا ہے کہ پیمرا کے قانون کی دفعہ 33 اے کے تحت وفاقی حکومت اور اس کے تمام ادارے پیمرا کی مدد کرنے کے پابند ہیں اور وفاقی حکومت سے مدد اس لیے مانگی ہے تاکہ ہم اپنا کام بہتر طریقے سے انجام دے سکیں۔یہ ایک انتہائی افسوسناک صورتحال ہے کہ کوئی ایک اہم ریاستی ادارے کو اس طرح کھلے عام دھمکیاں دے۔اس انتہائی سنجیدہ معاملے کا حکومت کو فوری نوٹس لینا چاہیے۔اول تو ایک اہم ریاستی ادارے کو اس طرح پریس کانفرنس کی نوبت نہیں آنی چاہیئے تھی اگر اعلیٰ سطح پر اس کا نوٹس پہلے ہی لے لیا گیا ہوتا کہ جس کا شکوہ چیئرمین پیمرا نے بھی کیا کہ وزیراعظم آفس سے ریسپانس نہ ملنے کے انہیں یہ اقدام اٹھانا پڑا۔میڈیا اور پیمرا کی ایک دوسرے کے حوالے شکایت کوئی نئی بات نہیں لیکن اس نوبت تک معاملات کا چلے جانا انتہائی خطرناک اور ملکی ساکھ کو بٹا لگانے کے مترادف ہے۔وزیراعظم فوری طور پر سارے معاملے کی تحقیقات کرائیں تاکہ آئندہ ایسی صورتحال پیدا نہ ہو اور دھمکی دینے والے عناصر کو ڈھونڈ کر کڑی سزا دلوائیں۔