- الإعلانات -

مملکت سعودی عریبیہ اور ایرانی جرنیل کی ہرزہ سرائی

ہمسایہ برادر ملک ایران کی افواج کے سالار جنرل محمد حسین باقری نے گزشتہ روز پاکستان اور سعودی عرب کو کھلے الفاظ میں دھمکی دیتے ہوئے متنبہ کیا کہ پاکستان کے اندر موجود دہشت گردوں کے کیمپوں کیخلاف کارروائی نہ کی گئی تو ان کے ٹھکانوں پر ایران پاکستان کے اندر گھس کر حملہ کرے گا جبکہ سعودی عرب کو دی جانے والی دھمکی پاکستان سے زیادہ سخت ہے اور اس کے الفاظ ہیں کہ اگر سعودی حکمرانوں نے ایران کیخلاف کارروائی کرنے کی بیوقوفی کی تو مکہ اور مدینہ کو چھوڑ کر سارا سعودی عرب تباہ کردیا جائے گا۔ مجھے یہ بیان پڑھ کر زیادہ تکلیف سعودی عرب کے حوالے سے ہوئی کیونکہ سعودی عرب مجھ سمیت اربوں مسلمانوں کا روحانی محور اور مرکز ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ سعودی عرب کو تباہ کرنے کی دھمکی دینے والے اپنے ایمان میں نہیں۔ قبل از اسلام جب یمن کے بادشاہ ابرہہ نے جب سرزمین حجاز پر چڑھائی کی خیال اس کا بھی یہ تھا کہ وہ بیت اللہ کو مسمار کرکے (نعوذبااللہ ) اپنے وطن واپس جائے گا اس نے آتے ہی آنحضورﷺ کے دادا جان حضرت ابو مطلب کے اونٹ اپنے قبضہ میں لے لئے وہ بے حد طاقت کے گھمنڈ میں مبتلا تھا اس کا خیال تھا کہ روے زمین پر اس کی طاقت کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔حضرت عبدالمطلبؓ ابرہہ کے پاس گئے اور اسے مخاطب کرکے کہا کہ میرے اونٹ جو تم نے اپنے قبضہ میں لئے ہیں مجھے واپس لوٹا دو اس پر ابرہہ نے کہا کہ تم تو بہت چھوٹے آدمی نکلے میرا خیال یہ تھا کہ تم مجھے بیت اللہ پر حملہ کرنے سے روکو گے ، التجا کرو گے مگر تم تو اپنے اونٹ واپس لینے آئے ہو جس پر حضرت عبدالمطلبؓ نے جواب دیا کہ اونٹ میری ملکیت ہیں اس لئے واپس لینے آیا ہوں، بیت اللہ جانے اور اس کا مالک جانے پھر دنیا نے دیکھا کہ ابرہہ کے ساتھ اللہ نے کیا سلوک کیا، قیامت تک وہ عبرتناک مثال بن کر رہ گیا۔ ایرانی حکام کی جانب سے دی جانے والی دھمکی کوئی نئی نہیں اس لئے کہ سعودی عرب میں مسلمانوں کا قبلہ اور آقائے دو عالمﷺ کا دربار واقع ہے اور غیر مسلم طاقتیں ہمیشہ سے اس کوشش میں رہی ہیں کہ کسی نہ کسی طریقے سے سعودی عرب پر حملہ کرکے اسے تباہ کردیا جائے مگر انشاء اللہ وہ یہ بات یاد رکھیں کہ سعودی عرب قیامت تک سلامت اور قائم دائم رہے گا اور جب قیامت قائم ہوگی تو وہ بھی سرزمین سعودی عریبیہ کے شہر مکہ کے میدان عرفات میں برپا ہوگی مجھ سمیت اربوں مسلمانوں کا یہ ایمان ہے کہ سعودی عرب کے حکمران شاہی خاندان نہ صرف حرمین شریفین کے خادم ہیں بلکہ وہ پوری ملت اسلامیہ کے خادم ہیں یہی وجہ ہے کہ اسلامی دنیا میں ان کو بھرپور عزت اور تکریم حاصل ہے ۔ شاہ سلمان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے مسلمانوں کے ایک دیرینہ خواب کی تکمیل کی اور ایک مشترکہ اسلامی فوج کے خواب کو حقیقت کا روپ دیا اور پھر ایرانی دوستوں کو شاید اس بات کی بھی تکلیف ہے کہ اس مسلم فوج کا سربراہ ایک بہادر پاکستانی جرنیل کو کیوں بنایا گیا اور اس تکلیف کے پیچھے اسرائیل اور کئی دیگر ممالک بھی سر اٹھائے کھڑے نظر آتے ہیں۔ ایرانی جرنیل کی یہ دھمکی کہ مکہ اور مدینہ کو چھوڑ کر وہ پورے سعودی عرب کو تباہ کردینگے ایک لایعنی بات ہے انشاء اللہ سعودی عرب کا ہر شہر تاابد اور قائم دائم رہے گا اور سرزمین سعودی عریبیہ کے دفاع کیلئے پاکستان کا بچہ بچہ اپنا سر کٹانے کیلئے تیار ہے ۔1979ء میں جب سرزمین ایران پر شاہ ایران کی حکومت کو ختم کرکے شیعہ انقلاب کی بنیاد رکھی گئی جسے بعد میں اسلامی انقلاب کا نام دیا گیا تو آغاز میں ہی آیت اللہ خمینی نے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس انقلاب کو وہ دنیا کے دیگر اسلامی ممالک میں بھی ایکسپورٹ کرینگے کیونکہ ایران اپنے آپ کودنیا بھر میں بسنے والے شیعوں کا سرپرست اور سربراہ سمجھتا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ دنیا کے تمام اسلامی ممالک میں بسنے والے شیعہ تہران سے رہنمائی حاصل کرے مگر زمین حقائق اس کے برعکس ہیں۔ آیت اللہ خمینی کی خواہش تھی کہ سعودی سرزمین پر بھی شیعہ انقلاب برپا کیا جائے اپنی اس خواہش کو وہ اپنی ایک کتاب میں اس طرح بیان کرتے ہیں‘‘ کہ جب ہمارا انقلاب سعودی عرب میں داخل ہوگا تو میں مدینہ میں حضور اکرمﷺ کے ہمراہ آرام فرما دو شخصیات کو ان کی قبروں سے نکال باہر کروں گا ‘‘اس سے ایرانی قیادت کے عزائم کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ کس حد تک سوچ رہے ہیں۔ ایران نے انہی عزائم کی کامیابی کیلئے یمن میں گڑ بڑ کرائی اور یمن کے بارڈر سے سعودی عرب میں داخل ہونے کی کوشش کی مگر آفرین ہے شاہ سلمان بن عبدالعزیز پر کہ جن کی دوررس نگاہوں میں شیطانی عزائم کو بھانپ لیا اور پھر پوری طاقت کے ساتھ یمن کے باغیوں کو ان کے انجام تک پہنچا دیا۔ اگر کوئی طاقت سعودی عرب کو دھمکی دے گی تو پھر پوری مسلم اُمہ سعودی عرب کے عوام اور ان کے حکمرانوں کے ساتھ کندھے کے ساتھ کندھا ملا کر کھڑی نظر آئے گی ۔ ایرانی دوستوں کیلئے بس اتنا عرض ہے کہ اگر پاکستان اپنی سرزمین کے اندر بلوچستان سے پٹرول نکالنا شروع کردے تو ایرانی دھرتی بنجر ہوکر رہ جائے گی کیا یہ ہماری قربانی ان کیلئے کافی نہیں۔ رہ گئی بات پاکستان کی تو پاکستان کوئی ترنوالہ نہیں کہ کوئی اس پر چڑھ دوڑے ، پاکستان پر قبضہ کی خواہش انڈیا بھی رکھتا ہے ، اسرائیل اور چند دیگر ممالک کی بھی یہ خواہش ہے کہ مگر الحمد اللہ پاکستان کی افواج اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر اپنی دھرتی کی حفاظت کرناجانتی ہیں۔ ان سطور کے ذریعے میں سعودی عرب کے عوام اور خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے نام ایک پیغام ہے کہ انہوں نے مشترکہ اسلامی فوج بنا کر عالم اسلام کو محفوظ بنانے کی کوشش کی ہے اور ان کی اس کاوش کو پاکستان کے کروڑوں عوام قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور پھر اس فوج کا سپہ سالار ایک پاکستانی جرنیل کو بنانابھی پاکستانی قوم کیلئے اعزاز ہے ۔