- الإعلانات -

دوگِدھوں کاطرز فکر

پاکستانی فوج کی دہشت گردی کو ختم کرنے کیلئے کی گئی کوششوں کااعتراف نہ صرف ملکی سطح پر جاری ہے بلکہ بیرونی ممالک کی انتظامیہ بھی تعریف جاری رکھے ہوئے ہے اس کی مثال 15دسمبر2015ء کو سعودی دفاعی وزیرمحمدبن سلمان السعود کے اعلان میں عیاں ہے۔ سعودی انتظامیہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ مسلم دنیا کو دہشت گردی کے ممکنہ درپیش خطرات اور داعش جیسی مشتدد تنظیم کے اقدامات کی روک تھام کیلئے ’’اسلامی فوج اتحاد‘‘ کاقیام عمل میں لایاجائے۔ اس اتحاد میں اب تک 41 مالک نے شمولیت کی حامی بھری ہے۔ کچھ نے انتظامی سطح پر اور بعض نے فوجی قوت کے ذریعے اتحاد کے نتائج سمیٹنے کی خواہش کااظہار کیا ہے۔ گوکہ اسلامی فوجی اتحاد کاتنظیم ڈھانچہ فعال تو نہیں ہوسکا البتہ جو بات زیر بحث تھی وہ پاکستان فوج کے سابق سپہ سالارجنرل(ر)راحیل شریف کی بحثیت چیف تعیناتی کامعاملہ۔
6 جنوری2017ء کو باضابطہ طورپر جنرل(ر)راحیل شریف کانام سربراہ کے طورپر پیش کردیا گیاتھا۔ اس کے بعد پاکستان میں راحیل شریف کے این او سی کے حوالے سے بحث چل نکلی او رچلتے چلتے کچھ روز قبل پاکستانی حکومت کی طرف سے جنرل(ر) راحیل شریف کو اسلامی فوجی اتحاد کے سربراہ کیلئے نامزد بھی کردیا گیا۔ جن ممالک نے اس اتحاد کاحصہ بننے کی خواہش ظاہر کی ان میں سے اکثریت’’ سُنی‘‘ ممالک کی ہے اور ایران کوکہ مسلکی اعتبار سے ’’شیعہ ‘‘ ہے وہ اس میں شامل نہیں۔ پاکستانی حکومت کی ترجمانی کہیں یا فوجی ادارے کی تین شرائط رکھی ہیں جن کاجواب تاحال موصول نہیں ہوسکا سوائے اخباری بیانات اور مفروضوں کے۔پہلی شرط ہے کہ ایران کواتحاد کاحصہ بنایاجائے ۔دوسری شرط جنرل(ر) راحیل شریف کسی کی کمانڈ کے ماتحت کام نہیں کرینگے۔تیسری شرط یہ ہے کہ جنرل (ر) راحیل شریف مسلم دنیا میں ہم آہنگی بڑھانے کیلئے ثالث کے طورپر کام کریں گے ۔اگرابھی تک ان شرائط پرپاکستانی حکومت سعودی حکومت کو اعتماد میں لے نہ سکی تو جنرل(ر)راحیل شریف کو بحثیت اسلامی فوجی اتحاد کاسربراہ کیسے نامزد کردیا۔ اگر ان شرائط پراندرون خانہ بات چیت ہوچکی ہے تو کیا ایران اور سعودی عرب ایک اتحاد کاحصہ ہوسکیں گے؟۔ اس مفروضے کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ پاکستان کسی بھی فرقہ واریت میں شامل نہیں ہوگا بلکہ فرقہ واریت کو کم کرنے کیلئے کوشاں رہے گا۔میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اس مفروضے کو عملی شکل دینا پاکستان کی مجبوری ہوگی۔ اس کی دو اہم وجوہات ہیں ایک یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ فرقہ وارانہ فسادات سے بھری پڑی ہے اور اگر بیرونی حکومتوں کی غیراعلانیہ پالیسیز کا دائرہ کار وسعت اختیار کرگیا تو نتیجہ عوامی سطح پر ہوگا اور مزید نفرتیں جنم لیں گی جو درحقیقت پاکستانی فوج کی ساکھ پر حرف آفرہوسکتی ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ سی پیک جیسے منصوبے کی تکمیل ایران کے ساتھ بہترین سفارتکاری کی متقاضی ہے ۔ اسلامی فوجی اتحاد میں اگر توسعودی حکومت یکطرفہ فیصلے کروانے کیلئے زوردے گی تو ایران بھی غیراعلانیہ طورپرایک ایسا اتحاد قائم کرسکتا ہے جس کے اثرات عرب ممالک سمیت پاکستان پر بھی آسکتے ہیں اور سی پیک جیسے تعمیری ذہن کے منصوبے وقت پر مکمل نہیں ہوں گے۔
چونکہ یہ اتحاد دہشت گردی کاقلع قمع کرنے کیلئے ترتیب دیا گیا ہے اس لئے سعودی عرب اور ایران کے ہاں تعریف کے اعتبار سے نہیں بلکہ وضاحت کی نوعیت کو مدنظر رکھ کر دہشت گردی کاعنوان مختلف ہے ۔اگر یہ عنوان اور اس کی وضاحت کچھ کچھ قریب بھی ہوتی تو ایران بھی اسلامی فوجی اتحاد کاحصہ ہوتا۔ تاریخ کے اوراق پلٹ کردیکھئے پہلی جنگ عظیم میں سوویت یونین نے ’’ وار سا پیکٹ ‘‘ترتیب دیا اوردوسری جنگ عظیم میں امریکہ نے نیٹو بناڈالی۔
مقصد بظاہر انسانیت کی تعظیم تھا لیکن عملی طورپر دوسپرپاورز کی اپنی جنگ اور’’گِدھ‘‘ جیسا کردارتھا ایک گدھ کانام ’’امریکہ‘‘ اور دوسری کانام ’’سوویت یونین‘‘جتنی انسانی جانوں کاضیاع ہوا وہ بھی دہشت گردی کی ایک نوعیت تھی۔ دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے اسلامی فوجی اتحاد کیا مسلم نیٹو اتحاد ہوسکتا ہے جس طرح دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ نے یہ تاثر دینا چاہا کہ وہ اپنی ذہنی اختراع کومدنظر رکھ کر انسانوں کو جنگوں سے بچائے گا بالکل بھی سوویت یونین سے قدرمختلف نہیں تھا اسی طرح اگر سعودی عرب کا یہ مسلم نیٹو ہے تو ایران کوبھی سابقہ لاحقہ لگاکر وارسابنانا چاہے گا۔
حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے جس طرح دوگِدھوں نے شام کوخون بہانے کاتخت مشق بنایا ہوا ہے ۔ ایک امریکہ اور دوسرا رشیاء۔ امریکہ اتحادی سعودی عرب اور رشیا اتحاد ایران ایسی صورت میں دہشت گردی ختم نہیں مزید بڑھے گی۔
اس پس منظر میں اسلامی فوجی اتحاد ’’گدھ‘‘ نہ بنے تو پوری مسلم امہ کیلئے ایک اچھا پیغام ہوگا نہیں تو یہ خون کاکھیل انسانیت کے قتل اور بے پردگی میں واضح ہوگا۔
اگر ہم پاکستان کے انفرادی فوائد کومدنظر رکھیں تو جنرل (ر)راحیل شریف بحثیت سربراہ اسلامی فوجی اتحاد ایک احسان کردیں پاکستانی قوم پر جو ہمارے لوگ سعودی عرب میں بالخصوص جیلوں میں بندہیں ان کی رہائی کیلئے کردارادا کریں جن افراد کو سعودی حکومت نے دیوالیہ ہونے کے خدشہ سے ملک بدر کیاہے ان کے خاندانوں کیلئے مناسب رقم کااہتمام کروائیں کیونکہ پاکستانی حکومت کو یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ زرمبادلہ کی کثیررقم ہمارے بھائی حضرات عرب ممالک سے بھیجتے ہیں ہم سب کو اجتماعی طورپر بھی ان کااحسان نہیں بولنا چاہیے۔ بہرحال پاکستان کی دانشمندانہ فیصلوں کا انتظار رہے گا۔
*****
دوٹوک بات۔۔۔ شوق موسوی
یہ میرا حق ہے کہ عوام کی خدمت کرلُوں
منتخب ہوں، کوئی اعزاز نہیں لے سکتا
جو بھی اُٹھتا ہے وہ کہتا ہے کہ استعفیٰ دوں
اُن کو خوش کرنے کو استعفیٰ نہیں دے سکتا