- الإعلانات -

انسان ،نیکی اور بدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے انواع اقسام کی مخلوق پیدا کی ہیں جن میں سے انسان کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف عطا کیا ہے پھر انسانوں میں بھی اللہ تعالی نے متنوع انسان بنائے الگ الگ شخصیات ڈھالیں ہر ایک کی الگ الگ نفسیاتی ساخت بنائی جب بچہ تھا تو والدین سے کسب فیض کیا ماں نے محبتیں نچھاور کیں آرام اور خوراک کا خیال رکھا اور باپ نے شفقت تحفظ اور ضروریات زندگی فراہم کیں اورخود کو بچے کے سامنے ایک رول ماڈل کے طور پر پیش کیا اسے دنیاوی اور دینی معاملات میں رہنمائی فراہم کی لوگوں میں بیٹھنا اٹھنا سکھایا آداب معاشرت کی تربیت دی رشتوں ناطوں سے متعارف کروایا نیکی اور بدی کا تعارف اور ان کے مابین فرق سمجھایا اساتذہ نے اس کی شخصیت تعمیر میں بذریعہ علم و آگہی اپنا اپنا حصہ ڈالا علم کی وسعتوں گہرائیوں اور انواع سے روشناس کرایا جس میں دین و دنیا شامل رہے اس کی فطری صلاحیتوں کو جانچا پرکھا مزید نکھارا اس کی رجحان شناسی کی اور اس کو صلاحیتوں کے استعمال کی درست سمت دی اور اس کی رہنمائی کی ایک بہتر انسان بننے میں اسکی مدد کی اور اس کو معاشرے کا مفید شہری بنانے میں کردار ادا کیا لیکن جب یہی بچہ اپنی بنیادی تربیت اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد عملی زندگی میں داخل ہوتا ہے تو زندگی کے تلخ حقائق چٹان کی طرح سامنے کھڑے ہوتے ہیں عملی زندگی کا پرمشقت اور نظم پر مبنی دور شروع ہوجاتا ہے جہاں وہ عملی زندگی کی دوڑ میں شامل ہوجاتا ہے زندگی کی منصوبہ بندی شروع ہوجاتی ہے جس میں شادی اور گھربسانے کے معاملات بھی ساتھ ساتھ منصوبہ بندی کاحصہ بنتے رہتے ہیں کیریئر کے معاملات اور ان کے تناظر میں منصوبہ بندی اور محنت کا ایک دور چل پڑتا ہے اور پھر چل سو چل لوگ ایک انجانے مستقبل اور سنہرے تصورات کے تعاقب میں چل پڑتے ہیں لیکن عموما ایک بہت بڑے بلکہ بہت ہی بڑے factor کو منہا کردیتے ہیں یا کم از کم اسے منصوبے کاحصہ نہیں بناتے جو موت ہے کہ یہ بھی کہیں ہمارے ہمارے منصوبوں میں مخل ہو سکتی ہے یعنی "سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں” اگر ہم غیر مسلموں کی بات کریں تو وہ اپنے اصل محور سے ہٹ چکے ہیں جس طرح ہم سے پہلے کی امتیں اللہ کے دین کی حقیقت کو بھول چکی ہیں اور ان کے پاس موجود صحائف مسخ شدہ ہیں اسی لئے ان کے پاس اصل تعلیمات تو رہیں نہیں اور نہ ہی مقصد حیات کے بارے کوئی واضح رہنمائی موجود ہے اگر کچھ ہے بھی تو اتنا غیر واضح کہ اس سے کما حقہ رہنمائی ملنا نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے ان کے پاس صحائف تو موجود ہیں لیکن ان میں اس قدر تحریف ہو چکی ہے۔ اصل باتیں باقی ہی نہیں رہیں اگر کچھ ہے بھی تو وہ اتنا غیر مربوط کہ اس کو درست تناظر میں سمجھنا ممکن ہی نہیں اگر ہم الہامی ادیان کی بات کریں تو صرف بائبل کو 66 الگ الگ مصنفوں نے تصنیف کیا ان میں سے 63 کو تو خود علمائے مسیحیت نے ہی رد کردیا باقی کی 3 پر بھی شدید اختلافات ہیں آج بے شمار تعداد میں مسیحی فرقے بن چکے ہیں جہاں چند عباداتی رسومات کے علاوہ کچھ نہیں رہ گیا لیکن ہم مسلمان اپنا سب کچھ واضح ہونے کے باوجود اس مقصد حیات بھول جاتے ہیں کہ جس کی وضاحت قرآن پاک کی سورہ الذاریات کی آیت 56 دیتی ہے کہ "ہم نے جنوں اور انسانوں کو نہیں پیدا کیا سوائے عبادت کے” جو مقصود ربانی ہے عبادات میں صرف نماز روزہ زکات حج اور دیگر فرائض ہی نہیں بلکہ آپ کا ہر معاملہ حسنہ عبادت ہی ہے حسن معاملگی میں اچھے اخلاق سر فہرست ہیں جھوٹ اور فریب سے پرہیز ہی اچھے مسلمان کی نشانی ہے دیانت داری اور لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ بھی نہایت اہم ہے جس میں لین دین کے معاملات پڑوسیوں کے حقوق اہل شہر کے حقوق آپ کے ماتحت لوگوں کے حقوق اپنے اہل و عیال کے حقوق اور آپ پر نادار رشتہ داروں کے حقوق بھی شامل ہیں جو سلہ رحمی کے زمرے میں آتے ہیں جب ہم اچھے اور ذمہ دار انسانوں کی بات کرتے ہیں جو انفاق فی سبیل اللہ کرتے ہیں تو ہمارا پیارا پاکستان سر فہرست ہے ہم دنیا میں سب سے بڑی خیرات دینے والی قوم ہیں اور بدترین دہشت گردی کا شکار ہونے کے باوجود ایک resilient قوم ہیں 70سال کی سرتوڑ کوششوں کے باوجود دشمنوں کو منہ میں خاک ہی نصیب ہوئی ہے ہم زندہ قوم ہیں ہمارا ہر فرد اس قوم و ملت کا ستارہ ہے اور ایسے افراد ہمیں اپنے آس پاس ہی مل جاتے ہیں ابھی ایک دن پہلے دبئی کے سینئر صحافی اور متحرک سماجی شخصیت طاہر منیر طاہر کی جانب ایک شاندار تقریب میں شرکت کی دعوت موصول ہوئی جو ایک ممتاز پاکستانی سماجی علمی ادبی اور سیاسی شخصیت جناب نور الحسن تنویر کی پاکستانی کمیونٹی کیلئے خدمات کے اعتراف میں سپاس گزاری کیلئے منعقد کی گئی تھی موصوف نوں لیگ گلف کے صدر بھی ہیں ان سے ہمارا تعارف تو محض چند ہفتوں کا ہی ہے لیکن زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھتے ہوئے ان کی شخصیت کو دیکھا اور خلق خدا کی باتوں پر یقین مزید پختہ ہو گیا ۔مقررین نے ان کی شخصیت کے بہت سے ایسے پہلووں کو درست طور پر اجاگر کیا جو انہوں نے اپنی کسر نفسی کے سبب لوگوں سے اوجھل کر رکھے تھے چوہدری الطاف صاحب نے ان سے تعلق کی ذاتی قصے سنائے اور ساتھ ہی پاکستانیوں کے لئے ان کی خدمات پر مفصل روشنی ڈالی مقررین میں APML کی محترمہ فرزانہ منصور نے خواتین کی نمائندگی کرتے ہوئے تقریب سے خطاب کیا اس تقریب کے ضمن میں محترمہ فرزانہ چغتائی صاحبہ کی کاوشوں پر انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا یہ تقریب غیر سیاسی تھی جس میں پیپلز پارٹی کے میاں منیر ہانس چوہدری محمد صدیق اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا راجہ اکرام الحق اور دیگر شرکا کی خاصی بڑی تعداد نے تنویر الحسن کی خدمات پر اپنے خیالات سے سامعین کو نوازا تقریب میں صحافیوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی جس میں سید مدثر ارشد محمود رانا سلیمان جازب روز ٹی وی کے جناب غلام مصطفی نہرہ اور روزنامہ پاکستان کی نمائندگی کی گئی۔ آخر میں نویدالحسن تنویر نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا نور الحسن تنویر کو شرکا کی جانب سے گلدستے پیش کئے گئے اور صحافیوں میں تحائف بھی تقسیم کئے گئے اللہ سے دعا ہے کہ تمام شرکا تقریب اور تمام پاکستانیوں کے اتفاق اتحاد اور برکت عطا فرمائے اور ایک دوسرے کی خوشیوں اور دکھ میں ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائے اللہ وطن اور اہل وطن کی حفاظت فرمائے ۔آمین