- الإعلانات -

پاکستان اور ایران ، غلط فہمیاں دورکرنے کی ضرورت

پاکستان نے ایرانی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے ایرانی افواج کے چیف آف سٹاف کے سرحد پار کاروائی سے متعلق بیان پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات دونوں ملکوں کے برادرانہ تعلقات کے منافی ہیں ، اس طرح کے بیانات سے دوطرفہ تعلقات خراب ہونے کا اندیشہ ہے ، دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح کے تبادلوں سے تعلقات مضبوط ہوتے ہیں ۔ایران پاکستان کو دھمکیاں دینے سے باز نہ آیا،ایرانی فوج کے لیفٹیننٹ کمانڈر بریگیڈئر جنرل احمد رضا پوردستانی نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنا ایران کا ناقابل تنسیخ اور قانونی حق ہے، ایرانی سرحدی محافظوں کے خلاف دہشتگردوں کا اچانک حملہ سرحدوں کو کنٹرول کرنے میں پاکستان کی کمزوری کی طرف اشارہ کرتا ہے ،ایران کسی بھی وجہ یا کسی کیلئے بھی اپنی سیکورٹی پر سمجھوتہ نہیں کرتا۔ بریگیڈئر جنرل احمد رضا پوردستانی نے حالیہ دہشتگرد حملے میں 9سرحدی محافظوں کی ہلاکت کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں دہشتگردوں کے اڈوں کو تباہ کرنا ایران کا ناقابل تنسیخ حق ہے ۔انکا کہنا تھاکہ اگر پاکستانی حکومت کوئی سنجیدہ اقدام نہیں اٹھاتی تو اس صورت میں پڑوسی ملک کی سرزمین کے کسی بھی حصے میں قانون شکن عناصر اور دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنا ہمارا قانونی حق ہے ۔ بریگیڈئر جنرل احمد رضا پوردستانی نے کہا کہ ایرانی سرحدی محافظوں کے خلاف دہشتگردوں کا اچانک حملہ سرحدوں کو کنٹرول کرنے میں پاکستان کی کمزوری کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ایران کسی بھی وجہ یا کسی کیلئے بھی اپنی سیکورٹی پر سمجھوتہ نہیں کرتا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ایرانی فوج کے سربراہ میجرجنرل محمد حسین باقری نے پاکستان کو دھمکی دی تھی کہ ایران پاکستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کیلئے کاروائی کرے گا۔ ایرانی سفیر کی دھمکیوں پر پاکستان کا ردعمل اس امر کا عکاس ہے کہ پاکستان پڑوسی ملک کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا حامی ہے ۔ پاکستان اس وقت خود دہشت گردی کا شکار ہے اور اس کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے جس کی عالمی برادری بھی معترف ہے پاک ایران اسلامی برادر ملک ہیں ان کے درمیان کسی قسم کی خلیج و تفاوت خطے کیلئے سود مند قرار نہیں پاسکتی ۔ ایرانی سفیر کو اپنی دھمکیوں پر پاکستان سے معذرت خواہانہ رویہ اپنانے کی ضرورت ہے ۔ اسلامی ممالک کی یہ بدقسمتی ہے کہ یہ آپس میں الجھے رہے ہیں ۔ غیر مسلم ان پر غالب ہیں مسلمانوں میں نفاق ڈالنے کی سازش کو ناکام بنا کر ہی اسلامی ملکوں کے درمیان اتحاد کی فضا قائم کی جاسکتی ہے۔ پاکستان کو ایک طرف افغانستان نے دہشت گردی کا نشانہ بنائے ہوئے ہے اور افغان بھارت گٹھ جوڑ خطے کیلئے خطرے کا باعث بن رہا ہے جبکہ دوسری طرف پاک ایران تعلقات میں خوشگواریت کو ختم کرنے کی سازش کی جارہی ہے ایران ہوش کے ناخن لے ۔ دہشت گرد مشترکہ دشمن ہیں ان کے خلاف پاکستان میں آپریشن جاری ہے جس سے دہشت گردوں کا نیٹ ورک اور ان کے ٹھکانے تباہ و برباد ہوگئے ہیں۔ پاک ایران تعلقات میں ناخوشگواریت نہیں ہونی چاہیے ۔ دوطرفہ بہتر تعلقات ہی خطے کے امن کیلئے ضروری ہیں ۔ ایران دھمکیوں سے اجتناب کرے ۔ دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں ان کے خلاف پاکستان کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔اسلامی ممالک کی تنظیم کو چاہیے کہ وہ پاک ایران تعلقات کے حوالے سے اپنا بھرپور کردار ادا کرے اور دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے فاصلوں کو کم کرے اس وقت مسلمان دنیا میں جہاں کہیں بھی ہیں ان کا شیرازہ بکھرا ہوا دکھائی دیتا ہے اور یہ ظلم و ستم کے شکار ہیں جس کے محرکات ان کی نااتفاقی ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ باہمی اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کریں تاکہ دشمن کی سازشیں کامیاب نہ ہوں۔
بھارتی وزیر داخلہ کی بڑھک
بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے بڑھک مارتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان 2016کی سرجیکل سٹرائیک کا پیغام پڑ ھ لے ، سرجیکل سٹرائیک پاکستان کیلئے ایک پیغام تھاکہ ضرورت پڑنے پر بھارت کسی بھی وقت سرحد پار کرسکتا ہے،بی ایس ایف کو پاکستا ن کی طرف سے کسی بھی جارحیت کی صورت میں منہ توڑ جواب دینے کا حکم دیا ہے ، پہلی گولی ہماری طرف سے نہیں چلنی چاہیے لیکن اگر پاکستا ن گولیاں چلائے تو پھر ہماری طرف سے چلائی جانے والی گولیوں کا شمار نہیں کیا جانا چاہیے ۔بارڈر سیکورٹی فورسز (بی ایس ایف )کو پاکستا ن کی طرف سے کسی بھی جارحیت کی صورت میں منہ توڑ جواب دینے کا حکم دیا ہے ۔ڈی جی بی ایس ایف کو میں نے حکم دیا ہے کہ پہلی گولی ہماری طرف سے نہیں چلنی چاہیے لیکن اگر پاکستا ن گولیاں چلائے تو پھر ہماری طرف سے چلائی جانے والی گولیوں کا شمار نہیں کیا جانا چاہیے۔اپنی حکومت کی کامیابیو ں کا ذکر کرتے ہوئے انکا کہنا تھاکہ ہم نے اپنے تین سالہ اقتدار میں ملک کا سر دنیا کے سامنے بلند کیا ہے کہ اب بھارت نریندر مودی کی قیادت میں کمزور ملک نہیں ہے ۔ پاکستان بھارت کی گیدڑ بھبکیوں سے مرعوب نہیں ہوتا پاکستان امن پسند ملک ہے اور اس کی خواہش ہے کہ بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام متنازعہ مسائل کا حل مذاکرات سے نکالا جائے لیکن بھارت پاکستان کی امن کاوشوں کو سبوتاژ کرتا چلا آرہا ہے ۔ بھارت ایک طرف کشمیریوں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ ڈھائے ہوئے ہے تو دوسری طرف سرحدی قوانین کی خلاف ورزی اور دہشت گردانہ کارروائیاں جس سے خطے کا امن خطرے میں ہے ۔پاکستان کی امن کوششوں کو بھارت کمزوری نہ گردانے پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا بخوبی جانتا ہے ۔ بھارت نے جارحیت کا مظاہرہ کیا تو اس کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا ۔ پاک فوج دشمن کے دانت کھٹے کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے ۔
دہشت گردوں کو پھانسی
فوجی عدالت سے سزا پانے والے چار دہشت گردوں قیصر خان،محمد عمر، قاری زبیر اور عزیز خان کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا یہ دہشت گرد مختلف وارداتوں میں ملوث تھے اور انہوں نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا ۔پھانسی پانے والے دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تحریک طالبان سے تھا ۔ فوجی عدالتوں سے دہشت گرد اپنے منطقی انجام کو پہنچ رہے ہیں۔ فوجی عدالتوں کی کارکردگی لائق تحسین ہے اور یہ دہشت گردی کے خاتمے میں ممدومعاون ثابت ہورہی ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اس وقت جو جنگ جاری رکھے ہوئے ہے اس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔پاک فوج دن رات دہشت گردوں کیخلاف برسرپیکار ہے اور دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے۔ دوسری طرف فوجی عدالتیں دہشت گردوں کو ان کے کیے کی سزا دے رہی ہیں جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پاک سرزمین سے دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ ہوکر رہے گا۔ دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں ان کا کوئی دین اور کوئی مذہب نہیں ۔ دنیا کا کوئی مذہب دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام تو ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہیں یہ کیسے طالبان ہیں جو معصوم شہریوں کو بموں اور دھماکوں سے اڑا رہے ہیں۔ فوجی عدالتیں جو فیصلہ دے رہی ہیں ان کے دوررس نتائج برآمد ہورہے ہیں اور ان کو سراہا جارہا ہے ۔ فوجی عدالتوں کا قیام وقت کی ضرورت تھی جس کو پورا کرنے کیلئے ان کا وجود دہشت گردی کے خاتمے کیلئے موثر ثابت ہورہا ہے ۔