- الإعلانات -

Mother of all evils

اگلے روز افغانستان کے صدر اشرف غنی نے دعوی کیا ہے کہ افغانستان میں بین الاقوامی دہشتگرد تنظیم داعش کے سربراہ عبدالحسیب صوبہ ننگرہار میں ایک خصوصی آپریشن کے دوران مارا گیا ہے۔اچھی بات ہے کہ افغان سیکیورٹی فورسز کو ایک اہم کامیابی ملی ہے.عبدالحسیب کو گذشتہ سال حافظ سعید خان کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد افغانستان میں داعش کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔عبدالحسیب کابل کے مرکزی ملٹری ہسپتال سمیت افغانستان میں ہونے والے کئی ہائی پروفائل حملوں میں ملوث تھا.افغانستان میں داعش کا یہ مقامی گروہ جسے داعش خراسان کا نام بھی دیا جاتا ہے، 2015 سے افغان سرزمین پر فعال ہے اور طالبان کے ساتھ ساتھ افغانی اور امریکی فورسز سے بھی لڑ کر اپنی جگہ بنانے میں مصروف ہے۔داعش خراسان کے بتایا جاتا ہے کہ اس نے عراق اور شام میں موجود گروہ سے بھی روابط جوڑ رکھے ہیں ہے تاہم بیشتر ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان یا افغانستان میں موجود ایسے گروہوں نے اپنی دہشت اور دھاک کو نمایاں کرنے کے لیے از خود یہ نام رکھ لیا ہے جبکہ حقیقت میں عراق اور شام والی داعش ان کو کنٹرول کرتی ہے نہ ہی فنانس۔ہاں البتہ یہ جس نام سے بھی کام کریں ان سب کا مدعا اور مقصد ایک ہی ہے.افغانستان میں چونکہ پہلے ہی طالبان کی وجہ سے نیٹو اور افغان فورسز کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اس لیے وہاں ان کے خلاف کارروائیاں بے حد ضروری ہیں.ڈرون اور فضائی حملوں کے ذریعے امریکی اور افغان اسپیشل فورسز داعش خراسان کے خلاف متعدد آپریشنز کرچکی ہیں اور کربھی رہی ہے.امریکہ کا دعوی ہے کہ افغانستان سے اس گروہ کا صفایا اس کی اہم ترجیحات میں شامل ہے، اسی مقصد کے لییگذشتہ ماہ ننگرہار میں سب سے بڑا غیر جوہری بم کے ذریعے داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں 94 داعشی دہشتگردوں سمیت 4 کمانڈر ہلاک ہوئے۔ننگرہار کو داعش کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، جہاں داعش کے 600 سے 800 دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں۔ان چندسودہشتگردوں کے خاتمے کی خاطر امریکہ نے کسی بھی ملک میں پہلی بارسب سے بڑا غیر جوہری بم استعمال کیا۔اس بم کی ہولناکی کے قصے تو بہت سامنے آئے لیکن مارے جانے والی تعداد کا دعوی 94ہے.تاہم اہم بات جو سامنے آئی وہ مارے جانے والوں میں درجن بھر بھارتی شہری تھے.جس پر چپ سادھ لی گئی.بھارتی میڈیا کو تو سانپ سونگھنا ہی تھا کہ اس کی اپنی را کا بھانڈا پھونٹا تھا بین الاقوامی میڈیا بھی اس معاملے کو گول کر گیا کہ آخر داعش کے ٹھکانے پر ایک بڑی تعداد بھارتیوں کی کیا کررہی تھی.اگر خدانخواستہ اتنی بڑی تعداد پاکستانیوں کی نکل آتی تو اب تک کہرام مچا ہوا ہوتا.مادر آف آل بم کا اور کوئی فائدہ ہوا یا نہیں مگر مادر آف آل ایولز بھارتی ایجنسی را اور اس کے سرپرست مودی کا چہرہ ضرور بے نقاب ہوا. پاکستان ایک عرصہ سے دہائی دے رہا ہے کہ ڈیورنڈ لائن کے اس پار پاکستان سے ملحقہ علاقوں میں را دہشت گردوں تربیت بھی دے رہی ہے اور فناس بھی کررہی ہے.ٹی ٹی پی ہو یا خراسان گروپ ہو ان سب کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے.اس کی گواہی سرنڈر کر جانے والے احسان اللہ احسان نے بھی دی ہے جبکہ بم حملے میں مارے جانے والے بھارتی زندہ ثبوت ہیں جنہیں بھارت عام شہری قرار دے رہا ہے وہ دراصل را کے ہی کارندے تھے جنہیں اجیت دوول نے داعش میں بھیس بدل کر داخل کروا رکھا تھا.یہ الگ بات ہے کہ نواز حکومت نے کلبھوشن یادیو کی طرح اس ایشو سے سفارتی محاذ پر فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی ورنہ مودی منہ دکھانے کے قابل نہ رہتا.بات ہورہی تھی اشرف غنی کے دعوے کی کہ داعش کے سربراہ عبدالحسیب مارا گیا ہے.جیسے کہ اوپر لکھا کہ یہ ایک اہم کامیابی ہے جسکی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی تاہم اگر خود افغان صدر دعوی کررہے ہیں تو ماننا پڑے گا.لیکن سوال یہ ہے کہ ایک کمانڈر کو مارنے سے کیا فائدہ.سیانے کہتے ہیں کہ پاگل نہ مارو بلکہ پاگلوں کی ماں کو مارو کہ وہ اور پاگل نہ جنے.محترم اشرف غنی کو کوئی بتائے کہ ایک ایک کمانڈر مارنے کی بجائے ان کو جنم دینے والی ماں را کو اپنے گھر سے مار بھگائے جو ایسے دہشتگردوں کو جنم بھی دے رہی بلکہ پال پوس کر جوان بھی کررہی ہے.جب تک دہشتگرد بنانے والی فیکٹری کو آپ کے ہاں کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے امن اور استحکام آپکو بھی نصیب نہیں ہونے والا اور پاکستان تو اس کا ویسے ٹارگٹ ہے.گزشتہ روز چمن کے علاقوں میں جو کچھ ہوا اس پر مسٹر غنی آپکو کوئی پچتاوا یا افسوس ہو یا نہ تاہم پاکستان کو دکھ اور افسوس ہے کہ ایک برادر اسلامی ملک کی فورسز کو کڑا جواب دینا پڑا. جیسے کہ انسسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور بلوچستان میجر جنرل ندیم انجم کا میڈیا کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم ان (افغانستان) کے ہونے والے نقصان سے خوش نہیں کیونکہ وہ ہمارے مسلمان بھائی ہیں، لیکن پاکستان کی سالمیت ہمارے لیے اولین ترجیح ہے، پاکستانی سرحد کی خلاف ورزی قبول نہیں کریں گے اور اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے.آئی جی ایف سی نے باورکرایا کہ اگر کسی نے دوبارہ یہ کارروائی کرنے کی کوشش کی تو اس سے بھی زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹننٹ جنرل عامر ریاض نے بھی واضح کیا کہ افغان جارحیت کا جواب دینا پاکستان کی مجبوری تھی۔ہمیں افغانستان کے نقصان پر خوشی نہیں تاہم جو بھی پاکستانی علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا اسے ایسا ہی جواب ملے گا۔مگر اس پار کے دماغوں میں شرارت کے سوا کچھ نہیں سوجتا.اس پار کے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار واضح کرتا ہے کہ پاکستان افغان عوام کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتا ہے.مگر کسی کی شہ پر شرارت کو نظر انداز کرسکتا ہے نہ سمجھوتا کرے گا۔
****