- الإعلانات -

کرپشن او ر وزیراعظم

اس ملک میں بہت گھپلے ہیں ! کرپشن کے اتنے بڑے بڑے سکینڈلز ہیں تحقیقات ہونی چاہئے ! لیکن ہم اگر ان ہیں لگ گئے تو ترقیاتی کام کون کریگا؟ وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف اسلام آباد ائرپورٹ تک میڑو بس سروس کے منصوبے کا آغاز یعنی سنگ بنیاد کی تقریب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہہ رہے تھے انہوں نے کہا کہ لوآری ٹنل ، نیلم جہلم جیسے منصوبے برسوں سے تعمیر نہ ہوئے انہوں نے اداروں کی کارکرگی پرعدم اعتماد کا بھی اظہار کیا! یہ سچ ہے کرپشن ملک کے ہر کونے میں اور ہر ادارے میں زور شور سے جاری ہے بقول وزیر اعظم کرپشن کے سکینڈلز کاشمار مشکل ہے گویا قدم قدم پر یہ بیماری قوم اور ملک کو چاٹ رہی ہے وزیراعظم جہلم نیلم یا لوآری ٹنل کے منصوبے مکمل کرائیں!یا نیو اسلام آباد ائیر پورٹ کے منصوبے کو مکمل کرائیں!جب تک کرپشن کے خلاف جنگ نہیں کرتے یہ منصوبے مکمل ہو بھی جائیں سڑکیں ،سکول، ہسپتال، موٹرویز میٹروبس سب کچھ بھی بن جائے اور کرپشن کے خلاف جنگ نہ کی جائے ملک اور قوم غریب پریشان او ر مسائل مشکلات کا شکار رہیں گے۔!امن نہیں آئے گا خوشحالی نہیں آئے گی بڑے بڑے منصوبے حکمران بروقت مکمل کرنے کے عزم تو کر کررہے ہیں اور کچھ برُے منصوبے جو ترقیاتی ہیں جن کی تعمیر میں حکمرانوں پر کرپشن کے الزامات بھی ہیں!تعمیرو مکمل ضرور ہو رہے ہیں مگر ترقی کا عمل ملک میں ہوتا نہیں دکھائی نہیں دے رہا! کیوں کہ ترقی ہوتی تو ملک میں صنعت یعنی مل فیکٹریوں کے کارخانے لگ رہے ہوتے عام لوگوں کو روز گار میسر ہوتا!پڑھے لکھے نوجوان یونیوورسٹیوں سے فارغ ہونے کے بعد روز گار کے لیے دربدردھکے کھا رہے ہیں ! زرعت کی ترقی کے لئے زرعی رقبوں اورکھیتوں کے لیے نہری پانی کی فراہمی ۔بجلی اور کھاد کی بیج کی اعلیٰ اقسام کی فراہمی زرعی مشینری زرعی ادویات کی معیاری ترسیل نا ممکن بنی ہوئی ہے سرکاری تعلیمی نظام بر باد ہو گیا ہے ۔استاذا اور پروفیسر اپنے بچوں کو سرکاری تعلیمی اداروں میں داخل کرانے سے انکاری ہیں۔ کیو ں کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں تمام سہولتیں ہونے کے باوجود تسلی بخش نتائج نکلنے مشکل ہو گئے ہیں محکمہ صحت تعلیم سے بھی زیادہ اہم محکمہ ہے ! جس میں حکومت کے اربوں روپیہ سالانہ خرچ کررہی ہے ! سالانہ اربوں روپے کی تنخوائیں محکمہ صحت کے ملازمین کو ادا کی جاتی ہیں اسی طرح اربوں روپے کی مشینری ٹرانسپورٹ اور آلات خریدے جاتے ہیں مگر اتنا کچھ خرچ کرنے کے باوجود پرائیوٹ کلینکوں اورپرائیویٹ ہسپتالوں کا کام عروج پر ہے! پرائیویٹ ڈاکٹر اور سرکاری ڈاکٹر عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصرف ہیں سرکاری اور پرائیویٹ ڈاکٹر جعلی ادویات اور مہنگے آپریشنوں کے ذریعے مریضوں کا خون چوس رہے ہیں۔ محکمہ مال ہو کہ پولیس محکمہ معدنیات کہ ہائی وے لوٹ سیل لگی ہوئی ہے۔وزیراعظم نے کرپشن کا اقرار کرکے کم از کم سچ بولا ہے اور یہ یہی کرپشن ملک اور قوم کی جڑئیں کھوکھلی کررہی ہے!ملک کے اندر کرپشن اور لوٹ مار کے مخالف ادارے بھی خود ان بیماریوں کے خلاف لڑنے کی بجائے کرپشن اور لوٹ مار میں مصروف ہوگئے ہیں لالچ خود غرضی اور حرص نے ساری قوم کو بیماری کررکھا ہے ۔اس ساری صورت حال سے قوم کا ہر فرداشناہے ۔ مگر یقیناًوزیراعظم نواز شریف نے صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے سچ بولا ہے ۔ مگر کرپشن کے ذمہ دارن کے خلاف کاروائی کی بجائے خاموشی قوم کیلئے مایوس کن صورت حال پیش کرتی ہے ۔ میاں صاحب کرپشن کے خلاف کارروائی اور تحقیقات ہی ترقی ہے !جب تک کرپشن مافیا کا خاتمہ نہیں ہوتانہ روڈ زکام آئیں گے اور نہ بڑی بڑی عمارات نہ بندرگاہ ہیں قوم کی ترقی رہ ہموار کریں گی نہ تعلیمی ادارے ہیں۔میاں صاحب آپ روزانہ سابقہ حکومت کی کرپشن کے قصے کرتے ہیں بات قصے کہانیاں کرنے سے نہیں بنے گی۔اور اگر آپ کرپٹ لوگوں کے خلاف کام کرنے کی ہمت نہیں رکھتے تو پھر عوام آپ پر ہی کرپشن کے الزام لگائیں گے۔ اورممکن ہے کہ آپ کے آس پاس کے لوگ بھی کرپشن کے ذمہ دار ہوں آپ کرپشن کے خلاف جنگ کریں ورنہ آپ کی ہر بات جھوٹی اور غیر میعاری ہوگی لوگ آپ کو کرپشن کا معاون قرار دیں گے۔اگر آ پ کرپشن کی تحقیقات نہیں کریں گے تو کرپٹ ٹولے کو کیسے پکڑ کر سزاوار کریں گے۔؟
ماہرین اُمور خارجہ سے۔۔۔ شوکت کاظمی
کسی کو زُعم کسی کو غرور بھی ہوگا
اگرچہ اُن کے دلوں میں فتور بھی ہوگا
ہمارے سارے ہی ہمسائے ہم سے بگڑے ہیں
کوئی تو اس میں ہمارا قصور بھی ہوگا