- الإعلانات -

احسان فراموشی کی انتہا

خانہ جنگی اور دہشت گردی کے شکارافغانستان نے اپنے اقدامات سے یہ ثابت کردیا ہے کہ اس کا دہشت گردی کے عفریت سے نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اس میں شاید سب سے بڑا مسئلہ قیادت کا ہے۔ افغانستان کے پاس کوئی باشعور اور سلجھی ہوئی قیادت ہوتی اور اس کی کوئی مضبوط پارلیمنٹ ہوتی تو شاید وہ لوگ مل بیٹھ کر کوئی ایسا راستہ نکال لیتے کہ ملک کو دہشت گردی اور شدت پسندی سے کیسے نکالا جائے۔ سیاسی طور پر تو افغانستان بہت کمزور ہے ہی اوپر سے اس کے ساتھ یہ مسئلہ بھی ہے کہ اس کی افواج غیر منظم اور غیر پیشہ ور ہیں۔ جن میں اتنی صلاحیت ہی نہیں کہ وہ افغانستان سے شدت پسندی کا خاتمہ کرسکے۔ افغان فوج کے آرمی چیف نے تو حال ہی میں استعفی بھی دے دیا ہے اور جمہوری نظام کی یہ حالت ہے کہ وہ خالصتا امریکہ اور بھارت کے تیار کردہ سٹریکچر کے مطابق چلائی جارہی ہے۔ وہاں کہنے کو تو صدارتی نظام ہے اور اشرف غنی صدر ہیں لیکن ساتھ ہی عبداللہ عبداللہ چیف ایگزیکٹو۔ اس طرح نہ تو صدر کھل کر اپنے اختیارات استعمال کرسکتا ہے اور نہ ہی چیف ایگزیکٹو۔ گویا افغانستان ایک عجیب تماشہ کا شکار ہے۔حال ہی میں پاکستان کے عسکری حکام نے پہل کرتے ہوئے افغانستان کے ساتھ معاملات کو معمول پر لانے کے لئے وہاں کا دوہ کیا اور صدر اشرف غنی کو دورے کی دعوت دی۔ اشرف غنی نے پاکستان کا تو دورہ خیر کیا کرنا تھاالٹا اس کی فورسز نے چمن بارڈر سے ملحقہ دیہات میں مردم شماری کا فریضہ انجام دینے والی مردم شماری ٹیم پر حملہ کرکے ٹیم کے اراکین اور قریبی دیہات کے معصوم شہریوں کو ہلاک اور زخمی کردیا۔ اس سے قبل مردم شماری ٹیم پر لاہور میں بھارتی سرحد کے قریب حملہ کرکے مردم شماری کرنے والی ٹیم کونشانہ بنایا گیا جس میں پاکستان کے پڑوسی دشمن ملک بھارت کے ملوث ہونے کے امکان کو رد نہیں کیاجاسکتا۔ اب چمن میں افغان فورسز نے جس انداز سے مردم شماری ٹیم کو نشانہ بنایا ہے تو اس میں ان شرارتی ممالک اور عناصر کے عمل دخل کو رد نہیں کیا جاسکتا جو افغانستان میں سرگرم عمل ہیں۔نجانے افغانستان اس قسم کی حرکات کرتے ہوئے یہ کیوں فراموش کردیتا ہے کہ اس کا پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات رکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ لیکن وہ امریکہ اور بھارت کی جانب سے ملنے والی امداد اور معاونت کے نشے میں اس قدر دھت ہے کہ وہ بارڈر پارسے مغربی سرحد کے قریبی دیہات پر حملے کرنے سے نہیں چوکتا۔ حالانکہ یہ وہ دیہات ہیں جو افغانی شہریوں کو بہت احترام دیتے ہیں۔ روس کے حملے کے بعد جو لوگ افغانستان سے مہاجر بن کر آئے ان لوگوں نے ان کی بہت خاطر مدارت کی اور آج تک ان مہاجرین کی دلجوئی کرتے ہیں۔ افغانستان نے کبھی اپنے ان مہاجرین کی واپسی کے لئے سنجیدگی سے غور نہیں کیا۔ افغانستان کی ساری تجارت طور خم بارڈر اور چمن بارڈر جیسے راستوں کی مرہون منت ہے۔ لیکن افغانستان نے کم ازکم پاکستان کی خدمات کا جواب جس احسان فراموشی سے دیا ہے اس سے ہی اندازہ لگایا جاسکتا کہ افغانستان جس پلیٹ میں کھاتا ہے اسی میں چھید کرتا ہے۔ افغانستان کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ کوئی قوم اس کے لئے خود شدت پسندی اور انتشار کا شکار ہوگئی اور گزشتہ 15 سالوں سے اسے دہشت گردی کے عفریت کا سامنا ہے۔ شرارت اور سازش افغانستان کی سرشت میں شامل ہے۔ جب افغانستان میں داد صدر افغانستان تھا وہ بھی بھارت اور دیگر عناصر کے ساتھ ملک کر پاکستان کو کمزور کرنے کی سازشوں میں شریک تھا۔ اسی لئے ذوالفقار علی بھٹو نے افغانستان میں پاکستانی سفارتخانہ بند کردیا تھا اور اس کے بعد کی حکومتیں بھی پاکستان میں موجود لالچی عناصر کو خرید کر انہیں پاکستان کے خلاف استعمال کرتی رہی ہیں۔ اے این پی کے ایک سابق رہنما جمعہ خان صوفی کی کتابفریبِ ناتمام پڑھ کر بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ افغانستان پاکستان دشمنی میں کب سے جل رہا ہے۔ جبکہ جوابا پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کی خیرخواہی چاہی ہے اور افغانستان کے دفاع کے لئے یہاں کے نوجوان روس کی جارح افواج کے خلاف لڑتے رہے ہیں۔ بہر طور جو کچھ افغانستان کررہا ہے وہ اس میں تنہا نہیں ہے آج جو اس خطے میں صورتحال پید ا ہوچکی ہے۔ اس کے پیدا کرنے میں بیرونی طاقتوں کا بہت عمل دخل ہے اور یہ حالات تو ظاہر ہے بھارت کے لئے سنہری موقع بن کر آئے کہ اسے پہلی مرتبہ افغانستان کے اندر بیٹھ کر پاکستان کے خلاف کھل کر کام کرنے کا موقع ملا لیکن اس میں اتناقصور بھارت کا نہیں جتنا افغانستان کا ہے۔ بھارت تو ہے ہی پاکستان دشمن ملک وہ تو پاکستان دشمنی میں کسی بھی حد تک جاسکتا ہے لیکن افسوس اگر ہے تو وہ افغانستان کی پاکستان دشمن پالیسیوں کا ہے کہ افغانستان بھی بھارت کی طرح منہ میں رام رام اور بغل میں چھری کی پالیسی پر گامزن ہے جو یقیناًافغانستان کے لئے بھی مناسب نہیں کیونکہ اس طرح سے وہ ایک ایسی قوم کی ہمدردیاں کھو دے گا جس نے خود کو عدمِ استحکام کا شکار کرکے افغانستان اور اس کے عوام کیلئے کردار ادا کیا۔ افغانستان کو اپنے رویے پر نظر ثانی کرکے خطے کو عدمِ استحکام سے دوچار کرنے سے روکنا ہوگا۔