- الإعلانات -

یہ اندازگفتگو کیاہے۔۔۔؟

بھارتی حکمران وطنِ عزیز کی بابت کس قدر زہریلی سوچ رکھتے ہیں ۔ اس امر کے شواہد آئے روز کسی نہ کسی طور سامنے آتے رہتے ہیں ۔ دہلی کی اسی غیر انسانی روش کا ایک اور مظاہرہ تب سامنے آیا جب بھارت کے ٹکڑوں پر پلنے والے نام نہاد بلوچستان لبریشن آرمی کے مٹھی بھر عناصر نے یومِ تکبیر کو سیاہ دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا اور اسی ضمن میں پاکستان کی بابت خاصی ہرزہ سرائی کی ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ را کے پروردہ ان حلقوں کی بابت سب بخوبی جانتے ہیں کہ وہ کس کی زبان بولتے ہیں اور یہ ساری دھما چوکڑی انھوں نے کس کے ایما پر برپا کر رکھی ہے ۔
حالانکہ یہ امر کسی سے بھی پوشیدہ نہیں کہ اٹھارہ مئی 1974 کو ہندوستان نے سمائلنگ بدھا کے نام سے اپنا پہلا ایٹمی دھماکہ کیا تھا اور اس کے بعد 1998 میں بالترتیب گیارہ اور تیرہ مئی کو بھارت نے پوکھران کے مقام پر اپنے اسی عمل کو دہرایا اور اس کے فورا بعد اس وقت کے بھارتی نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ لعل کرشن ایڈوانی اور بھارتی وزیر دفاع جارج فرنانڈس نے کہا تھا کہ پاکستان کو اب بھارت کے ساتھ بدلے ہوئے حالات کو مدِ نظر رکھ کر بات کرنا ہو گی ۔ اس کے ساتھ ساتھ جارج فرنانڈس نے چین اور پاکستان کو بھارت کا دشمن نمبر 1 بھی ڈیکلیئر کیا تھا ۔دوسری جانب مبصرین نے مقبوضہ کشمیرمیں دہلی سرکار کی جانب سے کئی ٹی وی چینلوں اور سوشل میڈیا سائٹس پر پابندی کو افسوسناک اور قابل مذمت قراردیتے ہوئے کہاہے کہ یہ اظہار رائے کی آزادی اورصحافت پر شب خون مارنے کے مترادف ہے۔ بلکہ یہ کشمیر کو ہندو راشٹر بنانے کا بھی ایک عملی نمونہ ہے، جس کا آغاز مسلم اکثریت والے خطے مقبوضہ جموں و کشمیر سے کیا گیا ہے ۔ یا د رہے کہ RSS کے سربراہ موہن بھاگوت نے ایک بار پھر کہا کہ RSS کے قیام کے سو سال یعنی 2025 تک ہندو راشٹر کے قیام کا خواب اپنی عملی تعبیر پا لے گا اور اس ضمن میں تمام ہوم ورک مکمل کر لیا گیا ہے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ بھارت میں اگلی مردم شماری یعنی 2021 تک بھارت میں کوئی غیر ہندو نہیں رہے گا ، تمام مسلمانوں ، عیسائیوں اور سکھوں کی گھر واپسی ہو چکی ہو گی وگرنہ ایسے لوگوں کو بھارت میں نہیں رہنے دیا جائے گا ۔ انسان دوست حلقوں نے اس صور تحال کا جائزہ لیتے کہا ہے کہ دہلی سرکار کی ان دھمکیوں اور دعووں کو محض غیر سنجیدہ قرار دینا بھی کسی طور مناسب نہیں کیونکہ یوگی اور مودی جیسے جنونی لوگوں کا اتنی واضح اکثریت کے ساتھ ان کلیدی مناصب پر فائز ہونا عالمِ عالم کے لئے کسی طور نیک شگون قرار نہیں دیا جا سکتا ۔
ایسے میں توقع کی جانی چاہیے کہ اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی ادارے اس حوالے سے اپنی انسانی ذمہ دارایاں نبھائیں گے اور بھارت میں خطرناک حد تک بڑھتی اس ہندو انتہا پسندی کو نکیل ڈالنے کی جانب ٹھوس پیشرفت کرینگے ۔
****

آخر۔۔۔ شوکت کاظمی
گر گردشِ دوراں یونہی رہی حالات کا آخر کیا ہوگا
یہ ظلمتِ شب گر یونہی رہی اس رات کا آخر کیا ہوگا
کیوں معرکہءِ خیر و شر میں کچھ بے بس انسان ڈال دیئے
آغاز میں جو انجام بنی اس بات کا آخر کیا ہوگا