- الإعلانات -

پاکستان اور اس کے پڑوسی

خطے میں جس قدر تیزی سے تبدیلیاں واقع ہورہی ہیں اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ہر ریاست اپنے مفاد کے تابع تیزی سے اپنے آپ کو پوزیشن کر رہی ہے خاص طور پر انڈیا کی پھرتیاں نہایت قابل دید ہیں ایران بمباری کی دھمکیاں دینے لگ گیا ہے افغانستان کی لیڈر شپ نے تو لگتا ہے سبھی کچھ بیچ کھایا ہے دیکھیں کہ کون کہاں کھڑا ہے پہلے تو اپنے پیارے پڑوسی افغانستان کو دیکھیں کہ وہ ہمارے سلوک کے بدلے میں ہم سے کیا نیکی کر رہا ہے اور ہم سے کیسی دوستی نبھارہا ہے نہیں لگتا کہ یہ ان افغانوں کا افغانستان ہے جن کو بد ترین وقت میں پاکستان نے سہارا دیا در اور دل وا کردئیے انہیں کیمپوں میں باعزت اور مستقل رہائشیں فراہم کیں دیکھ بھال کی تمام تر ممکنہ سہولتیں فراہم کیں کاروبار کی کھلی اجازت دی خاص کر ٹرانسپورٹ کے کاروبار میں ان سے کسی قسم کا کوئی ٹیکس نہیں لیا جاتا تھا ان کے مقابلے میں پاکستانیوں کا ٹرانسپورٹ کا کاروبار بالکل ٹھپ ہو گیا اور کئی بڑے ٹرانسپورٹر یک بیک کنگال ہو گئے لیکن اہل پاکستان نے انصار مدینہ کی سنت کو جاری و ساری رکھا دیگر تمام کاروباروں میں بھی افغان پاکستانیوں کے مقابلے میں زیادہ سے زیادہ سہولیات سمیٹنے کی وجہ سے پاکستانیوں کو پیچھے چھوڑ گئے بلکہ پاکستان کے کاروبار پر چھا گئے جو پیسہ یہ پاکستان لائے تھے وہ بھی پاکستان کا چوری کیا ہوا ٹیکس تھا جو انہوں نے مقامی استعمال کے بہانے ٹرانزٹ ٹریڈ کے طور پر مال منگواتے جو پاکستان ان افغانوں کو بغیر کسی ٹرانزٹ فیس کے افغانستان لے جانے کی اجازت دیتا لیکن اگلے ہی روز یہ سامان تعیش پاکستان میں موجود باڑہ مارکیٹوں کی زینت ہوتا یوں جو ڈیوٹی اور ٹیکس ریاست پاکستان کو ملنے چاہئے تھے وہ ان افغانوں کی جیب مین چلے جاتے لیکن عوام اور تمام پاکستانی حکومتوں نے یہ سب کچھ پڑوسی ہونے کے ناطے برداشت کئے رکھا ظاہر ہے ہماری اپنی کالی بھیڑیں بھی اس میں شریک تھیں آج بھی 35لاکھ افغانوں کا ہماری معیشت پر ناقابل برداشت بوجھ ہے اور پاکستان ہمیشہ کی طرح اسے برداشت کر رہا ہے لیکن افغانستان کی کسی بھی حکومت کی جانب سے پاکستان کے حق میں کبھی کلمہ خیر نہیں کہا گیا اور ہندو کی سازش کا شکار ہو ا اور پاکستانی عہدیداروں کی جانب سے دی گئی اس واضح ترین اطلاع کے باوجود کہ ہم پاکستانی علاقے میں مردم شماری کریں گے لیکن اپنی سکت اور اہلیت نہ ہونے کے باوجود داانستہ پاکستانی علاقے پر حملہ کردیا گیا جس سے 9 پاکستانی شہید ہو گئے اور متعدد پاکستانی زخمی ہو ئے اور پاکستان کو اپنے دفاع میں مجبورا کارروائی کرنی پڑی اور افغانستان کی فوج کا بھاری مالی اور جانی نقصان ہو گیا جس پر عوام اور حکومت پاکستان کو کوئی خوشی نہیں بلکہ تمام پاکستانی حلقوں کی جانب سے اسے بدقسمتی قراردیا اور اس پر دکھ کااظہار کیا گیا کہ سانحہ نہیں ہونا چاہیے تھا جب سے مردم شماری کا اعلان ہوا ہے تو یہ بات متوقع تھی کہ مودی اور اس کا پالتو کابل تک محدود حکومت کو استعمال کرتے ہوئے کوئی کوئی نہ کوئی گند ڈالیں گے ہوا یہی 3 ہفتے پہلے اجیت دوول نے کابل کا خفیہ دورہ کیا جس میں اس حملے کی تمام تفصیلات طے کی گئیں جس میں پاکستان دشمن اور ہمارے ایک نام نہاد قوم پرست لیڈر کا رشتہ دار عبدالرزاق اور را کا افغانستان کے لئے انڈین کمانڈر بھی شامل تھا یہ سوچا سمجھا منصوبہ تھا کوئی وقتی اشتعال نہیں تھا اور اسکی اطلاع پاکستان میں موجود کچھ عناصر کو تھی جو اقتدار کے جھولے بھی جھول رہے ہیں جن کی وفاؤں کے مرکز بھی بیرون ملک ہیں اب آئیے اپنے پڑوسی اور برادر ملک ایران کی جانب جس نے اعتراض کیا کہ جنرل راحیل شریف کی تقرری میں ہماری رضامندی کیوں نہیں لی گئی تو حضور کی ہم یہ پوچھنے کی جسارت کر سکتے ہیں کہ جب انڈیا اور ایران کے درمیان ہونے والے اسٹریٹجک معاہدہ جو صرف اور صرف پاکستان کے خلاف ہے کیا آپ نے پاکستان کے تحفظات کاخیال رکھا کیا اس معاہدے پر بعد میں بھی کبھی پاکستان کو اعتماد میں لیا،کل بھوشن یادو کو آپ نے 8 سال سے چاہ بہار میں پال رکھا تھا کیا آپ کی بھولی بھالی انٹیلیجنس کو پتہ نہیں تھا کہ وہ پاکستان کے اندر کیا کر رہا ہے جب کہ ہماری اطلاع کے مطابق آپ کے ایک انٹیلیجنس افسر نے کل بھوشن یادو کو اس وقت پاکستان میں داخل نہ ہونے کا مشورہ دیا تھا اسکی بنیاد بھی شاید آپ کا بھولپن ہی ہو ایران کے علم میں ہوگا کہ کل بھوشن کہاں سے آتے ہوئے کہاں سے پکڑا گیا اب یہ مت کہ دیجیئے گا کہ ایران سے سیر کرنے پاکستان گیا تھا ایرانی بلوچستان میں بیٹھا حاجی بلوچ اور عزیر بلوچ کا کیا کنکشن ہے اور اس کو چاہ بہار میں دئے جانے والا گھر اور پاسپورٹ کس خوشی میں دیا گیا جب کہ عزیر بلوچ تمام تفصیلات بتا چکا ہے تو اس کے بارے میں کیا فرمائیں گے جو ایک پڑوسی کے لئے شرم ناک بات ہے ایران ہی کی فرمائش پر پاکستان میں موجود کئی مبینہ (بقول ایران)تشدد پسند ہلاک کردیئے گئے انڈیا کی جانب سے پاکستان کو کل بھوشن یادیو کو کونسلر رسائی دینے کی ہندوستانی درخواست مسترد کیے جانے بعد ایران اس تک رسائی کیوں مانگ رہا ہے کیا ایران نے نام نہاد پاکستانی اجمل قصاب کو پاکستان کی کونسلر رسائی کی حمایت کی تھی ایران کو یاد رکھنا چاہئے کہ پاکستان نے کس طرح 30 سال سے زیادہ عرصے تک دنیا بھر میں ایرانی مفادات کا تحفظ کیا اور ایرانیوں کو قونصلر خدمات مہیا کیں تھیں تب انڈیا کہاں تھا کیا اب آپ کے جرنیل پاکستان کو یوں دھمکیاں دے رہے ہیں کہ پاکستان شاید ایران کی کوئی کالونی ہے آپ تعلقات بنانے میں حس طرح آزاد ہیں اسی طرح ہم بھی ایک خود مختار ریاست ہیں ایران اور امریکہ کے تعلقات اب راز نہیں رہے شیطان بزرگ اب دوست بزرگ ہے ایران میں جس طرح افغان مہاجرین کو تشدد کے ذریعے شام میں لڑنے کیلئے مجبور کرنے کی ویڈیو منظر عام پر آ چکی ہیں جو ان افغانیوں کیلئے لمحہ فکریہ ہیں پاکستان کے محب وطن شیعہ بچوں کو جذباتیت کو ابھار کرشام میں لڑنے کیلئے ایرانی سرمائے سے بھرتی کیا جارہا ہے حکومت پاکستان ان کو روکے جس طرح چند روز قبل پیارا چنار میں چلنے والے ایرانی فوجی تربیت کے مراکز کو تباہ کیا گیا یہ ہمارے لئے سنجیدہ مسئلہ ہے ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ اس سب کے پیچھے انڈیا ہی ہے جو پاکستان کو مجبور کرنا چاہتا ہے کہ وہ کشمیریوں کی اخلاقی اور سفارتی امداد بند کردے ایران اور افغانستان سے گزارش ہے کہ ہم دوست بدل سکتے ہیں پڑوسی نہیں پاکستان دینی جغرافیائی ثقافتی اور دین تعلق کے باعث ایران اور افغانستان کے قریب اور فطری حلیف ہے ہر اچھے بڑے دور کا ساتھی رہا ہے جو پاکستان کے تعاون بہت فائدے اٹھا سکتے ہیں جب کہ انڈیا اپ سے ہزاروں کلومیٹر ایک مشرک اور مسلمان دشمن ملک یے افغانستان کی آبادی کا بڑا حصہ پاکستان میں مقیم ہے اور اس کا مستقبل بھی پاکستان ہی سے جڑا ہے جس طرح پاکستان کا افغانستان سے تعاون رہا ہے یہ دست تعاون دراز رہے گا آپ کو اسکا اہل ثابت کرنا ہوگا ایران اور افغانستان سے گزارش ہے کہ پاکستان اللہ کے فضل سے بہت حد تک مشکلات سے نکل آیا ہے اور مستحکم ہے ایک آدھ سال میں بین الاقوامی منظرنامہ پر اپنا لوہا منوالے گا اور بہت جلد، آئیے سازشوں کے چکر میں مت پڑئیے دوست بن کر ایک دوسرے کے بہت کام آ سکتے ہیں اللہ ہم مسلمانوں کو عقل سلیم دے کفار کی سازشوں کو سمجھیں اور ایک دوسرے کا دست و بازو بنیں اللہ وطن اور اہل وطن کی حفاطت فرمائے ۔آمین
*****