- الإعلانات -

گرمی اوربجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ

اپریل میں موسم اس قدر ٹھنڈا تھاکہ قلات میں درجہ حرات دو ڈگری سینٹی گریڈ تھا! میانوالی جیسے کا علاقہ کے لوگ بھی رات کو اندر سورہے تھے ! یقیناًملک کے بعض علاقوں میں موسم کچھ گرم بھی ہوگا! گرمی کی آمد آمد ہے گرمی آہستہ آہستہ ضرور بڑھے گی۔ ابھی موسم معتدل تو کہا جا سکتا ہے مگراس معتدل موسم میں بھی بجلی کو لوڈ شیڈنگ یا بجلی کی آنکھ مچولی آنے والے دنوں کی بڑی خطر ناک تصویر بنا کر پیش کر رہی ہے ! چاہیے تو یوں تھا کہ ملک بجلی کی پیدا وار ضرورت سے زیادہ کر رہا ہوتا ! بلکہ ستی بجلی پیدا کرکے اشیاء ضرورت کو بھی سستا تیار کرنے کو ممکن بنایا جاتا ! فیکٹریاں کارخانوں کو چو بیس گھنٹے چلا کر ملکی پیداوار بڑھائی جاتی ۔ جس سے قیمتی زرمبادلہ بھی کمایا جاتا249 لوگوں کو ضروریات زندگی سستے دامی میسرہوتیں! فیکٹریاں کارخانے بھر پور انداز میں چلتے تو جہاں مالکان کو بہتر پیداور میسر ہوتی ان کو منافع زیادہ ملتا تو دوسری طرف مزدوروں کی آمدن بھی بڑھتی ۔ مگر جس طرح سابقہ حکومت بقیہ خرابیوں کی طرح توانائی کے بحران سے دوچار تھی موجودہ حکومت نے بھی سابقہ حکومت کی طرح اپنی ترجیحات پر توجہ دی اور تو انائی کے بحران پر گزشتہ چار سالوں میں بھی قابو نہ پاسکی ۔ یوں حکمرانوں نے اپنی آپ کو مطمئن کرنا ہے تو وہ یہ کہ سکتے ہیں ۔ بجلی کی کمی وہ صورت حال اب نہ ہے جو سابقہ حکومت کے دور میں تھی ۔ خواجہ آصف صاحب عوام کو بیوقوف بنا نا ہر حکمران کا شیوارہا ہے اور عوام بیچارے ہر جھوٹے کو سچا سمجھ کر دھوکہ کھاتے رہے ہیں۔ اگر لوگوں نے ووٹ دیکر موجودہ حکومت کو حکمرانی کا موقع دیا ہے تو یہ عوام کا موجودہ حکمرانوں پر احسان تھا کہ انہوں نے ان کو حکمرانی کے مزے لوٹنے کا مواقع فراہم کیئے ہیں اور عوام حکمرانوں سے پوچھ سکتے ہیں کہ کیا آپ کو حکمران اسلئے بنایا تھا کہ آپ اقرباء پروری کرتے ہوئے صرف ان لوگوں کو وزیر مشیر بنائیں جو آپ کی اچھی خوشامد کر سکیں یا جو آپ کے عزیز وشتہ دار ہوں ۔ وزارتیں ان کا حق بنتا ہے ! عوام آپ سے پوچھ سکتے ہیں کہ بجلی ضرورت کی آپ پیدا کرنے میں کیوں ناکام رہے ہیں؟سستی بجلی کے پیداکرنے میں آپ کو کامیابی کیوں نہ ملی؟ ضرورت کا پانی آپ سٹور کرنے میں کیوں ناکام ہوئے؟ دریا ؤں کا پانی سمندر میں گرنے دینے کی بجائے ذخیرہ کیوں نہ کیا گیا؟ فصلوں کی ضرروت کا پانی کسانوں کو کیوں نہ فراہم کیا گیا؟ کار خانوں کو بجلی کی فراہمی ضرورت کے مطابق کیو ں نہ کی گئی ؟ گرمیوں میں عوام کو گھر ضرورت کی بجلی کیوں فراہم نہ کی گئی ؟ خواجہ صاحب عوام کو پیچیدہ جواب کی ضرورت نہ ہے عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے جواب نہ دئے جائیں جب آپ کہیں گے اچانک گرمی شروع ہوجانے کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ کرنا پڑی تو عوام اس طرح کے بیانات سے اب بیوقوف نہیں بنیں گے ! بلکہ ایسے بیانات سے عوام حکمرانوں کو احمق اور بیوقوف قرار دیتے ہیں ۔ بجلی کے بحران پر قابو نہ پانے پر آپ اقوم سے معافی مانگ لیں اور صدق دل سے بجلی کی کمی پرقابو پانے کی کوشش کریں تو عوام آپ سے متعلق اچھے جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ مگر عوام کو دھوکہ دینے والے جھوٹے بیانات حکمرانوں کیلئے گلے کی ہڈی ثابت ہو سکتے ہیں جو کام آپ سے نہیں ہو سکتا اس کو کرنے کاا علان کرکے آپ نئی مصیبت میں گرفتار ہو سکتے ہیں آپ کی کام اور خدمت کرنے کی کوشش سے ضرور بہتر نتائج نکلیں گے ۔ اگر آپ بہانے نہ بنائیں۔ بجلی کو پورا کرنے کی ذمہ داری پر آپ قوم سے معافی مانگیں! اور بجلی کو ضرورت کے مطابق پیدا کرنے کی کوشش کرکے اپنے گلے سے پھندا نکلوانے کی راہ نکالیں۔ ورنہ اچانک گرمی بڑھنے سے لوڈ شیڈنگ کو جواز بنا کر پیش کرنے سے آپ کی جان نہیں چھوٹے گی۔ بلکہ آنے والے دنوں میں ادھر گرمی کا زور ہوگا تو ادھر عوام حکمرانوں کے گلے ہاتھ ڈال رہے ہونگے تب کوئی بہانہ آپ کے اور کے بڑوں کے کام نہیں آئے گا۔ صرف حکمرانوں کی چاپلوسی اور خوشامد سے حکمران بھی اپنا اقتدار کھو بیٹھے ہیں اور چاپلوس بھی جلد برے انجام سے دوچار ہو جاتے ہیں۔
*****