- الإعلانات -

ایک شہیدمیجرکااپنی اہلیہ کے نام۔۔۔آخری خط

مسز مائرہ عمران74/1 خیابانِ بحریہ لاہور کی رہائشی ایسے خوش قسمت خاندان کی فرد ہیں جس خاندان میں شہید میجر عمران احمد کا لختِ جگر زید عمران پرورش پارہا ہے، کتنی عظیم اور قابلِ احترام ہے یہ ماں جو پاکستان کے شہداکی صفحہ ِ تاریخ پر مستقبل کے ایک فخرِ سرزمینکو پال پوس کر جوان کررہی ہے یاد رہے کہ چند برس قبل میران شاہ کے ایک بڑے اسکول کو انسانیت کے سفاک دہشت گردوں نے ٹارگٹ کرکے معصوم بچوں کے خوبصورت اور نازک جسموں کے چیتھڑے اڑانے کا اپنا بہیمانہ منصوبہ بنایا، تو اس وقت انٹیلی جنس کی بنیاد پر’آپریشن میں شریک پنجاب رجمنٹ کے ایک دلیر نڈر اور بہادر میجرعمران احمد کی سربراہی میں سریع الحرکت ریسکیو ٹیم میران شاہ اسکول کی جانب روانہ کی گئی تھی اسکول میں اسمبلی شروع ہو چکی تھی لہذا کسی ممکنہ بھگڈر کے خدشات کے پیشِ نظر پاک فوج کی ٹیم نے تیار بم کی تلاشی شروع کردی اور بم مل گیا جس کا نتیجہ کیا نکلا ؟ ذرا اپنے دلوں پر ہاتھ رکھ کر قارئین خود یہ خط پڑھ لیں شہید میجر عمران احمد کا اپنی اہلیہ کے نام آخری خط جو آجکل سوشل میڈیا پر اہلِ وطن کے لہو کو گرما رہا ہے شہید میجر عمران لکھتے ہیں کیسی ہو مائرہ امید ہے کہ خیریت سے ہوگی مائرہ شاید یہ میرا آخری خط ہو اس لیے اِسے سنبھال کر رکھنا، کم از کم جب تک زید بڑا نہیں ہوجاتا، کل زید کی دوسری سالگرہ تھی میں نہیں آپا یا ، مگر کیسے آتا؟ تمہیں تو معلوم ہے کہ ہم اپنی فیملی کیلئے نہیں بلکہ بحیثیت پاکستان آرمی ہمیں ملک کے 17 کروڑ لوگوں کی فیملی کے لیے کام کرنا پڑتا ہے میری طرف سے زید کو بہت پیار کرنا اور ہماری اسٹڈی کے کیبنٹ کے سب سے آخری دراز میں ایک سبز رنگ کا لفافہ رکھا ہوا ہے وہ زید کو دے دینا میں نے اس لفافے کو کسی ایسے ہی اہم وقت کیلئے رکھ چھوڑا تھا، اس لفافے میں زید کیلئے ایک تحفہ اور ایک خط ہے، جو اسے اکیلے میں پڑھنے دینا اس وقت تک تو اس خط پرتمہارے دو آنسو گر چکے ہونگے، آخر تم عورتیں اتنی جذباتی کیوں ہوتی ہو میں آج تک نہیں سمجھ پایا؟ اپنے بیٹے زید کو میں اپنی ہی طرح کا عین ایسا ہی بہادردلیرنڈر اور جرات مند سپاہی بنانا چاہتا ہوں میں نے وہ تصویریں دیکھ لی ہیں ہاں میں نے پہلے کبھی نہیں کہا لیکن اب کہہ رہا ہوں وہ بالکل تم پر گیا ہے اسکی آنکھیں اسکا ماتھا اس کے بال بالکل تم پر ہیں پہلے شاید انا کی وجہ سے میں نہیں کہہ سکا اب سوچا کہہ ہی دوں مائرہ یہ جنگ بہت مشکل ہے کیونکہ اس میں دونوں جانب ہمارے اپنے لوگ ہیں اور یہ تو تم جانتی ہو جنگ کا اصل مرحلہ دشمنوں کو ٹارگٹ کرنا ہوتا ہے لیکن دہشت گردوں کے بھیس میں ہمارے ازلی د شمنوں کے آلہ ِ کار یہ سفاک دہشت گرد جب انسانی احترام کی حدیں پارکرلیں اور خود مسلح ہوکر اپنی ہی فوج کے سامنے آجائیں تو ایسے میں اکثر ہمیں سوچنا پڑتا ہے، لیکن جب پہلی گولی وہاں سے آتی ہے جواب میں ہمیں بھی گولی مارنا پڑتی ہے یہی سب کچھ سوچ کر یہاں رہنے والے ہم سبھی فوجی بہت تکلیف سے گزر رہے ہیں صرف اس لیے تا کہ ہم پرامن اور محبِ وطن افراد کو ان کے گھروں سے بحفاظت نکال کر دہشت گردوں کے خلاف اپنا’آپریشن’ مکمل کر سکیں سب کسی نہ کسی طرح اس ملک کیلئے قربانی دینے میں مصروفِ عمل ہیں آخر یہ ملک ہے ہی اتنا پیاراپرسوں جب میں یہ سب کچھ سوچ رہا تھا تو میرے کانوں میں اسکول کی اسمبلی کیلئے جمع ہونے والے تقریباً300 بچوں کی قومی ترانہ پڑھنے کی گونج دار صدا آئی تو بس سمجھ لو ساراغصہ پگھل گیا ہو، ان بچوں کوقومی ترانہ پڑھتا دیکھ کر بہت خوشی محسوس اور اطمینان محسوس ہوا وہ سبھی بچے اس بات سے مطمئن تھے کہ ان کے محافظ (پاکستان آرمی کے جوان اسکول کے باہر موجود ہیں) انہیں یقین تھا کہ ان کے ساتھ کچھ نہیں ہوگا ہمیں اطلاع تھی کہ ایک دہشت گرد نے اسکول کے گراونڈ میں کہیں ایک بم نصب کیا ہوا ہے جس کی سرچنگ جاری تھی اگر ہم اس خوفناک اطلاع پر اسکول خالی کرواتے تو بہت سا جانی نقصانی ہو سکتا تھا، میں اپنی پلاٹون کا کمانڈر ہونے کے ناطے سب سے آگے تھا اس لیے میں نے وہی کیا جو ایک فرض شناس فوجی افسر کا فرض تھا، اچانک یہ بم ڈیڈکٹ ہوگیا میں نے کسی خطرے کی پرواہ کئے بنااس بم کو اپنے ہاتھ میں اٹھا لیا اوراسکول سے بہت دوربھاگ نکلا جیسے ہی میں اسکول کی حدود سے باہر نکلا تو دھماکہ ہوا وہ بم پھٹ گیا میں زخمی ہوکراسپتال یعنی یہاں پہنچ گیا ہوں جہاں سے تمہیں خط لکھ رہا ہوں’مجھے اس سب کا کوئی افسوس نہیں مائرہ کیونکہ اسکول کے وہ سبھی بچے محفوظ رہے ہمارے بیٹے زید سے کہنا وہ بھی فخرسے بتائے کہ اسکا باپ پاکستان کی حفاظت کرتا ہوااپنے فرائض کی ادائیگی میں شہید ہوا ہے زید بہت پیارا بچہ ہے مائرہ اب تمہیں اسے اکیلے پالنا ہوگا، آج آخری سانس کے جا ں کنی لمحات میں وصیت کر رہا ہوں اس کو بھی فوجی بنانا مائرہ اس کام میں ایک عجیب سانشہ ہے شہادت کا نشہ ہے ملک کیلئے اپنی جان قربان کرنے کا نشہ اس نشے کے آگے دنیا کا ہر کام پھیکا لگتا ہے’ ہاں! مری موت پرافسوس نہ منانا، کیونکہ میں تین سو بچوں کی جان بچا کر شہید ہورہا ہوں اور ویسے بھی شہیدوں کی موت پر رویا نہیں کرتے بلکہ فخر کرتے ہیں مائرہ جذبوں کواسی عمرمیں محسوس کیا جاتا ہے بس میں اتنا ہی کہہ سکتا ہوں مجھے اب انتظار ہے اپنے ملک کے ‘سبز ہلالی پرچم’ میں لپٹ کر شہید کہلائے جانے کا، میں ضرور آوں گا یہ دیکھنے کیلئے کہ شہید کی موت پر کتنی رونق ہوتی ہے اب میرے اعزاز میں اسکواڈ ہوئی فائرنگ کر کے جب اعزازی سلامی د ے گا تبھی میری روح کو سکون پہنچے گا اب الوداع کہتا ہوں کیونکہ یہ سب کہنے کے بعد نہ تم میں پڑھنے کی طاقت ہوگی نہ ہی مجھ میں مزید کچھ لکھنے کی طاقت اس لیے اب الوداع! اپنا اور زید کا بہت خیال رکھنا، تمہارے پاس ہما را بیٹا زید اس ملک کی قیمتی امانت ہے امانت کو ایک دن واپس لو نا ہی ہوتا ہے میں زید کی شہادت کا انتظار کروں گا، خیال رکھنا محبت کے ساتھ میجر عمران احمد(شہید) شہید میجر عمران کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کیا یہاں کہنا ضروری نہیں ہوگیا ہماری فوج اور ہمارے سیکورٹی ادارے دہشت گردوں کی مکمل طور پر سرکوبی کرنے میں کس اعلیٰ پیمانے پر اپنے آئینی فرائض نبھا رہے ہیں تو دہشت گردوں ان کے سہولت کاروں اور انہیں مختلف حیلے بہانوں سے مددواعانت کرنے والوں کا سوشل بائیکاٹ کیوں نہ کیا جائے کچھ فرائض بحیثیت قوم ہم پر بھی عائد ہوتے ہیں، حکومتی اداروں کی یہ اولین ذمہ داری بنتی ہے وہ یہ ہے کہِ شعبان اور رمضان المبارک کے مقدس مہینوں ہمیں ہر حال میں ان کالعدم عسکریت پسندتنظیموں کی مبینہ سرگرمیوں پر نظر رکھی جائے کالعدم مسلح گروہوں تک زکواۃ وصدقات کی آڑ میں کسی بھی نوع کی کوئی مالی مدد نہ پہنچ پائے ۔