- الإعلانات -

سی پیک خطے کی ترقی اورخوشحالی کامنصوبہ

وزیراعظم محمد نواز شریف نے بیجنگ فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری سرحدوں کی پابند نہیں‘ منصوبے سے خطے کے تمام ممالک مستفید ہو سکتے ہیں‘ دنیا بھر سے سرمایہ کار پاکستان کی طرف متوجہ ہورہے ہیں‘ پاکستان علاقائی روابط کیلئے وژن 2025 پر عمل پیرا ہے‘ پاکستان کی 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے‘ پاکستان نوجوان نسل کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنا چاہتا ہے‘ علاقائی روابط کیلئے چین کی قیادت کے وژن کا معترف ہے‘ چائنہ ریلوے ایکسپریس ٹرین منصوبہ باہمی روابط کیلئے پل ہے‘ ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ تین براعظموں کو ملائے گا‘ منصوبہ شاہراہ ریشم جیسے منصوبے کی یاد تازہ کرتا ہے‘ ممالک کے درمیان تنازعات کی بجائے تعاون فروغ پانا چاہیے ‘ معاشی خوشحالی دہشتگردی اور انتہا پسندی پر قابو پانے میں ممدومعاون ثابت ہوگی۔ چین میں بیلٹ اینڈ روڈ فورم کا انعقاد ایک تاریخی موقع ہے ، بیجنگ میں ون بیلٹ ون روڈ کی کامیابیوں کا اعتراف کرنے کے لیے جمع ہیں، علاقائی روابط کیلئے چینی قیادت کے ویژن کے معترف ہیں۔ علاقائی روابط کے منصوبوں میں بے مثال سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبے سے بین البراعظمی تعاون کا نیا دور شروع ہو گا۔ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ تین براعظموں کو ملا رہا ہے، منصوبے سے ایشیا، افریقا اور یورپ کو آپس میں ایک دوسرے سے ملانے میں مدد ملے گی اوراس منصوبے سے دنیا کے 65 ممالک مستفید ہوسکتے ہیں۔ ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ شاہراہ ریشم کی یاد تازہ کرتا ہے، اس میگا پراجیکٹ کے تحت منصوبے نہ صرف غربت کے خاتمہ کا باعث بنیں گے بلکہ ان منصوبوں سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔ ہمیں آپس کے تنازعات کو جنم دینے کے بجائے تعاون کو فروغ دینا چاہیئے جب کہ یہ فورم رکن ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا بہترین موقع ہے چائنا ریلوے ایکسپریس منصوبہ باہمی روابط کیلئے پل ہے۔ سی پیک ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کا سب سے اہم حصہ ہے، پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ سرحدوں کا پابند نہیں ہے، یہ منصوبہ تمام ممالک کیلئے کھلا ہے اور اس سے خطے کے تمام ممالک مستفید ہوسکتے ہیں۔ سی پیک منصوبے کے باعث دنیا بھر سے سرمایہ کار پاکستان کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ہم ان منصوبوں کی مدد سے نوجوان نسل کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں جبکہ دوسری طرف چینی صدر نے کہا ہے کہ چا ر سال قبل ون بیلٹ ون روڈ کا تصور پیش کیا گیا ، انتہا ئی قلیل مد ت میں تیس سے زا ئد مما لک فورم کا حصہ بن چکے ہیں جبکہ مستقبل میں مز ید مما لک بھی اس اہم فورم میں شا مل ہو نے کے خوا ہشمند ہیں،ان کا کہنا تھا کہ ون بیلٹ ون روڈ منصو بہ با ہمی مفادات، ایک دوسرے کی تہذیب و ثقا فت کے احترام اور سب کو سا تھ لیکر چلنے کا نا م ہے، منصو بہ کے بنیا دی اصو لوں میں مشتر کہ پا لیسی سا زی، تجا رتی شرا کت داری،ما لیا تی را بطہ سا زی اور بنیا دی ڈ ھا نچے کی تعمیر نو شا مل ہے،100سے زا ئد مما لک اور بین الاقوا می ادارے اس منصو بے کی حما یت کر چکے ہیں،چا لیس سے زا ئد مما لک اور بین الاقوا می ادا رو ں کے سا تھ معا ہدے ہو چکے ہیں، ما لیا تی را بطہ سا زی کو فرو غ د ینے کیلئے چین متعدد مما لک اور ادا رو ں کے ساتھ تعا ون کر رہا ہے،ایشین انفرا اسٹر کچر انو سٹمنٹ بینک نے بیلٹ و روڈ مما لک میں 9منصو بو ں کیلئیے ایک ارب 70کروڑ ڈا لرز فرا ہم کر دیئے ہیں،شا ہرا ہ را یشم فنڈ کی جا نب سے بھی 4ارب ڈالرز کی سر ما یہ کا ری کی جا رہی ہے۔بیجنگ میں فورم سے خطاب میں کہا ہے کہ وہ برموقع و برمحل ہے ۔ چینی منصوبہ تین براعظم ملائے گا ۔ اقتصادی راہداری سرحدوں کی پابند نہیں ۔ دنیا کی آدھی آبادی آپس میں جڑ جائے گی ۔ ہمیں آپس میں تنازعات کو جنم دینے کے بجائے تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت ہے ۔بلا شبہ دنیا کا مفاد اس منصوبے سے وابستہ ہے ۔ سی پیک منصوبے کو مکار دشمن ناکام بنانے کی سازش کررہا ہے جس کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے اس منصوبے کی تکمیل سے خطے میں ترقی اور خوشحالی کا دور دورہ ہوگا اور معاشی ترقی کی راہیں ہموار ہوں گی ۔ پاکستان کو تنہا کرنے والا بھارت اپنے مذموم عزائم میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوگا ۔ دنیا اس کے کردار سے آشنائے محض نہیں ہے۔ بھارت کی دہشت گردانہ کارروائیاں دراصل سی پیک کو ناکام بنانے کی سازش ہیں لیکن یہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہو پائیں گی۔ چین کا پاکستان سمیت مختلف ممالک میں 124 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان ترقی و خوشحالی کا باعث قرار پائے گا۔ سی پیک تمام ملکوں کیلئے ہے اس پر سیاست سے گریز کیا جائے اس وقت ملک کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے ان سے نمٹنے کیلئے سیاسی استحکام اورازحد ضروری ہے ۔ موجودہ حالات میں سیاسی رواداری تدبر اور بصیرت کی ضرورت ہے پاکستان کسی ملک کے اندرونی معاملات میں دخل نہیں دیتا اور نہ اپنے معاملات میں کسی کی دخل اندازی کو پسندکرتا ہے پاک چین دوستی لازوال ہے۔ دونوں کا مل جل کر کام کرنا اور چینی سرمایہ کاری کے سود مند نتائج برآمد ہونگے ۔بلاشبہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ آئندہ نسلوں کیلئے تحفہ ہے۔
پی ایس پی کے ملین مارچ پر پولیس کا لاٹھی چارج
پی ایس پی کے ملین مارچ پر پولیس کا وحشیانہ لاٹھی چارج جمہوریت کیلئے سوالیہ نشان بن کر رہ گیا۔ یہ لاٹھی چارج اس وقت شروع ہوا جب پی ایس پی کے کارکن حکومت کیخلاف احتجاج کررہے تھے ۔پی ایس پی نے 16مطالبات کئے تھے جو پورے نہ ہونے پر احتجاج کرنے اور وزیراعلیٰ ہاؤس تک مارچ کی کال دی گئی،مصطفی کمال اور پولیس کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے جس پر پی ایس پی کے کارکنوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس کی طرف پیش قدمی جاری رکھی ۔ ریلی کے شرکاء کو ریڈ زون میں نہ آنے کی وارننگ دی گئی مگر مصطفی کمال نہ مانے جس پر کراچی پولیس نے شیلنگ شروع کر دی، پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور واٹر کینن اس استعمال کی ، مظاہرین پانی کی تیز دھار اور آنسو گیس کی شیلنگ برداشت نہ کر پائے اور شیل لگنے کے بعد نڈھال نظر آئے۔ مظاہرے میں شامل خواتین اور بچوں کو بھی نہ بخشا گیا۔ آنسو گیس کی شیلنگ نے پرامن مظاہرین کو نڈھال کر دیا۔ پولیس کی جانب سے ریڈ زون میں داخل ہونے سے قبل ہی مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے شیلنگ شروع کر دی گئی تھی جس پر گرفتاری سے قبل مصطفی کمال نہایت برہم نظر آئے۔ انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے میرا کام آسان کر دیا ہے، میرے بچوں اور خواتین پر پانی مانگنے کے جرم میں شیلنگ کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب یہ احتجاج گلی گلی پھیل جائے گا۔ جموری دور میں جمہور پر لاٹھی چارج اور شیلنگ کسی بھی لحاظ سے درست نہیں حکومت سندھ مذاکرات سے مسائل کا حل نکالے۔ مظاہرین پر اس طرح کا رویہ جمہوریت پر کاری ضرب ہے ۔ ہر مسئلے کا حل ہوا کرتا ہے۔ حکومت ان مسائل پرسنجیدگی سے غور کرے جن کے خلاف عوام سراپا احتجاج ہیں۔ حکومت کا یہ فرض قرار پاتا ہے کہ وہ لوگوں کے احتجاج پر کان دھرے اور ان کے مطالبات تسلیم کرے ۔ حکومت عوام کے سامنے جوابدہ ہوا کرتی ہے۔ اس طرح کا رویہ آمرانہ ہے جس کو جمہوریت میں پسند نہیں کیا جاتا۔ پولیس کا مظاہرین پر لاٹھی چارج کی جتنی مذمت کی جائے اتنی کم ہے۔