- الإعلانات -

سکھوں کی تحریک

سکھوں کی آزادی کیلئے جدوجہد کرنے والی عالمی تنظیموں کے مرکزی رہنما مقیم امریکہ سردار امرجیت سنگھ نے پاکستان کی حکومت اور عوام پاکستان سے اپیل کی ہے کہ سکھوں کی جدوجہد آزادی میں ان کی سفارتی اور اخلاقی مدد کی جائے۔اقوام متحدہ کے نئے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹریز جن کا تعلق پرتگال سے ہے جہاں یہ وزیراعظم کے منصب پر فائز رہ چکے ہیں ان سکھ لیڈران نے ان سے ملاقات کی جس میں ان سے اپیل کی ہے کہ سکھ ایک آزاد قوم ہے ہمارا ایک الگ ثقافتی تشخص اور جداگانہ اور منفرد مذہب ہے ہمارا پاکستان اور ہندوستان کے جھگڑے سے کوئی تعلق نہیں ہمیں انڈیا نے بزور غلام بنا رکھا ہے ہم چاہتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام مشرقی پنجاب میں ایک عوامی ریفرنڈم کرایا جائے اور اس کے نتائج کے مطابق اگر اکثریت انڈیا سے آزادی کا فیصلہ کرتی ہے تو ہمیں آزادی دلائی جائے اور ہم دونوں ملکوں کے درمیان ایک بفر اسٹیٹ کا کردار ادا کرنے کے خواہشمند ہیں سکھوں نے اپنی آزاد خالصتان ریاست کے قیام کے لئے 2020 کا ہدف مقرر کر رکھا ہے اس ضمن میں سکھوں کی کوششیں بام عروج پر ہیں ۔انڈیا سکھوں کی اس تحریک کی وجہ سے شدید دباؤ میں ہے انڈیا میں ایک پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے مجوزہ ریاست خالصتان عملی طور ہندوستان کے بغیر نہیں چل سکے گی کہ اس کے پاس سمندر نہیں ہوگا سکھوں کا کہنا ہے کہ ہم ایک پرامن ریاست ہونگے جس کے پڑوسیوں کے ساتھ نہایت اچھے تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کی بنیاد ہوگی علاوہ ازیں آزاد خالصتان کو انڈیا کی بندرگاہوں کے استعمال کی ضرورت نہیں پڑے گی جو انتہائی جنوب میں ہونے کی وجہ سے ہمارے لئے اقتصادی طور پر سودمند نہیں ہوں گی اور ہمارے لئے سی پیک کا بہترین آپشن موجود ہے جو خالصتان لئے نہایت مفید اور قابل عمل ہوگا ویسے بھی پوری دنیا میں 56 ایسے ممالک ہیں جن کی سمندر تک براہ راست رسائی نہ ہونے کے باوجود درآمدات و برآمدات کیلئے انہیں کبھی کوئی دقت نہیں ہوئی جس میں یورپ کے صنعتی ممالک بھی شامل ہیں دنیا بھر میں سکھ انتہائی مال دار کمیونٹی ہیں اور آزادی کے بعد وہ خالصتان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے اور یوں خالصتان ایک متمول اور خوش حال ریاست ہوگی جو امن عالم میں بھی معاون ثابت ہوگی عام سکھ انڈیا کی متعصب سیاسی قیادت سے سخت نالاں ہیں جنہوں نے 84 میں سکھوں پر ہونے والے انسانیت سوز مظالم کے رستے زخم اور ان تلخ ترین یادوں کی شمعیں اپنے دلوں میں جلائے بیٹھے ہیں جب ہندوستانی فوج نے دربار صاحب پر چڑھائی کی اور نہ صرف دربار صاحب کی بے حرمتی کی بلکہ اکال تخت(سکھ اللہ ہی کو اکال کہتے اور سمجھتے ہیں)جو سنہری گردوارے کے بعد سکھوں کیلئے مقدس ترین مقام ہے بمباری کرکے مکمل طور تباہ کردیا گیا تھا اور فوج جوتوں سمیت دربار صاحب میں گھسی اور سینکڑوں سکھوں کو ہلاک کردیا گیا اور اس آپریشن کو سکھوں کیلئے درس عبرت بنانے کیلئے کئی دنوں تک وہاں سے لاشیں منتقل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور اس کا تقدس یوں پامال کیا کہ دربار صاحب کی ٹوٹی پھوٹی عمارتوں کو فوجی دانستہ حوائج ضروریہ کیلئے استعمال کرتے رہے جو سکھوں کیلئے مذہبی طور نہایت تکلیف کا باعث بنا یاد رہے کہ اس آپریشن کا ماسٹر مائنڈ انڈیا کا موجودہ نام نہاد جیمز بانڈ اجیت دوول ہی تھا جس نے خود کو آئی ایس آئی کا افسر ظاہر کیا اور آپریشن کے دوران دربار صاحب کے اندر سکھوں کے درمیان موجود رہا اور اسی کی دی جانے والی معلومات پر فوج دربار صاحب پر بمباری کرتی رہی اور پاکستان کی تحویل میں موجود انڈین حاضر سروس کمانڈر اور جاسوس کلبھوشن یادو بھی اجیت دوول کا رشتے کا بھتیجا ہے جس کو جنرل فیلڈ کورٹ مارشل کے بعد سزائے موت سنائی جاچکی ہے اندراگاندھی کی ہلاکت کے موقع پر ہزاروں سکھوں کو سرعام زندہ جلا دیا گیا آج سکھوں کی انڈیا سے نفرت کایہ عالم ہے کہ سکھ خواتین پنجاب میں گھر گھر جاکر مہم چلا رہی ہیں کہ پاکستان اور مسلمان ہمارے دشمن نہیں بلکہ ہم ان ہی کی طرح توحید پرست ہیں پاکستان مذہبی لحاظ سے ہندوستان کے مقابلے میں ہم سے زیادہ قریب ہے اور ہمارے مقدس ترین مقامات پاکستان میں ہیں جس میں گرو نانک جی کا جنم استھان بھی شامل ہے ہندو جب بھی جنگ کرتا ہے تو نقصان یا تو سکھوں کا ہوتا ہے جن میں سکھ فوجی جنہیں جنگ کے دوران پورے انڈیا سے لاکر محاذ جنگ پر ڈال دیا جاتا ہے اور سکھوں ہی کے کھیت کھلیان جنگ کی نذر ہوتے ہیں جس سے ہندو نفسیاتی طور پر راحت محسوس کرتے ہیں یوں عام سکھوں کی مسلمانوں اور پاکستان کے درمیان غلط فہمیاں دور ہو رہی ہیں اور پاکستان کے بارے میں ان کی رائے تبدیل ہورہی ہے۔ کچھ عرصہ قبل جب سکھ فوجیوں کو پاکستان کی جانب فائرنگ کرنے کا حکم دیا جس پر ایک سکھ فوجی نے یہ کہ کر اپنی ہی رائفل سے خود کشی کرلی کہ پاکستان ہمارے لئے مقدس ترین ہے اور وہ اس جانب رخ کرکے فائر کرنا گناہ سمجھتا ہے مودی اعلانیہ اور خفیہ پاکستان پر حملہ اور ہے جو کبھی بھی راز نہیں تھا اور اب روز روشن کی طرح عیاں ہے اور پاکستان کی قیادت عملا تو چھوڑیئے زبانی کلامی لب کشائی کے لئے بھی تیار نہیں جب کہ واضح اصول ہے کہ لاتوں کے بھوتوں کو لاتوں ہی کی زبان سمجھ آتی ہے ہماری گزارش ہے کہ انڈیا کو کاؤنٹر کرنے کیلئے لانگ آرم اسٹریٹجی اپنائی جائے جو ماضی میں نہایت موثر ثابت ہو چکی ہے مشرقی پنجاب اور جنوب مشرقی ہندوستانی ریاستوں منی پور میگھالیہ ناگالینڈ آسام تریپورہ اور میزورام میں آزادی کی تحریکوں کی سیاسی اور اخلاقی حمایت سے ہندوستان کی طبیعت میں کافی بہتری کا امکان ہے جب کہ آج ہماری پالیسی معذرت خواہانہ ہے جس کی متکبر انڈیا کو کبھی سمجھ نہیں آئے گی ہم آج بھی جاگ جائیں تو بہتر ہے کہتے ہیں "جب جاگو تب سویرا ” اللہ ہمیں دشمن کو دشمن سمجھنے اور ان کو مناسب طور پر ڈیل کرنیکی توفیق عطا فرمائے اللہ پاکستان اور اہل پاکستان کی حفاظت فرمائے ۔آمین

بے چین۔۔۔ شوق موسوی
میاں کو جیل میں جب تک نہ قید کروا لوں
وہ کہہ رہے ہیں ابھی چین سے نہ بیٹھیں گے
یہ کام اس قدر آسان نہیں! تو کیا عمران
تمام عمر کبھی چین سے نہ بیٹھیں گے ؟