- الإعلانات -

بھارت کاکلبھوشن کیس عالمی عدالت لے جانا اپنے کرتوتوں کو چھپانے کی ناکام کوشش ہے

بھارت اپنے کرتوتوں کو چھپانے اور جاسوس کلبھوشن یادیو کی پھانسی رکوانے کیلئے کیس عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں لے گیا تھا جس پر پیر کے روز سماعت ہوئی۔فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے جو جلد سنا دیا جائے گا۔کیس کی سماعت کے پہلے مرحلے میں بھارت نے دلائل پیش کئے جبکہ پاکستانی ٹیم نے دوسرے مرحلے میں اپنے دلائل پیش کئے۔ پاکستان نے عدالت کے دائرہ سماعت کو بھی چیلنج کردیا ہے کہ کسی ملک کے داخلی سیکیورٹی کے معاملات کو عالمی عدالت میں نہیں سنا جا سکتا۔پاکستانی وکلا کی ٹیم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی جاسوس کو تمام متعلقہ قانونی کارروائی مکمل کیے جانے کے بعد سزائے موت سنائی گئی اور اسے خود پر موجود الزامات کے دفاع کیلئے وکیل بھی فراہم کیا گیا تھا۔اس موقع پر کلبھوشن یادیو کے پاسپورٹ کی کاپی بھی پیش کی اور بتایا کہ یہ پاسپورٹ بھارتی جاسوس سے برآمد کیا گیا ہے جس میں اس کا مسلم نام درج ہے اور بھارت مذکورہ پاسپورٹ کی وضاحت پیش کرنے سے قاصر ہے یا اس حوالے سے تفصیلات فراہم کرنا نہیں چاہتا جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ گرفتار جاسوس غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھا۔عدالت کو یہ بھی بتا گیا کہ جاسوس پر ویانا کنونشن لاگو نہیں ہوتا۔عالمی عدالت کریمنل کورٹ نہیں ہے اور قومی سلامتی سے متعلق ایسے مقدمات کی سماعت نہیں کرسکتی۔لہٰذا درخواست خارج کردی جائے۔اس سے قبل سماعت کے آغاز میں بھارت نے عالمی عدالت انصاف سے اپیل کی کہ پاکستان کو کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کو معطل کرنے کی ہدایات جاری کی جائیں کیونکہ اس فیصلے سے کلبھوشن کے بنیادی حقوق مجروح ہوئے ہیں۔دلائل کے دوران بھارتی وکلا کی ٹیم نے توجہ پاکستان کے کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی کے انکار پر ہی مرکوز رکھی کہ مارچ 2016 سے اب تک متعدد مرتبہ کلبھوشن یادیو تک کونسلر رسائی دینے کی درخواست دے چکا ہے۔پاکستان تمام بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ کمانڈر کلبھوشن کا جبری اعتراف کا بھارتی الزام بے بنیاد ہے۔ عالمی عدالت انصاف کو کلبھوشن یادیو کی اعترافی ویڈیو دیکھنی چاہئے۔کلبھوشن نے دہشت گردی کرکے پاکستان کو نقصان پہنچانے کا اعتراف کیا ہے اور وہ اپنے جرائم کا اعتراف کرچکا ہے۔ ہمیں عالمی عدالت میں کھینچا گیا ہے ہم خوشی سے پیش ہوئے۔ پاکستان نے کلبھوشن کی گرفتاری پر بھارت کو بھی آگاہ کیا تھا۔ کلبھوشن کے پاس اپنی صفائی کیلئے 150 دن تھے۔یہ معاملہ اس نوعیت کا نہیں تھا لیکن مودی سرکار پاکستان کیخلاف سفارتی پوائنٹ سکورنگ سے پاکستان کی ساکھ کو مجروح کرنے کی کوشش میں ہے کلبھوشن یادیو کو پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے گرفتار کیا گیا۔ بھارت کے پیش کردہ دلائل نامکمل اور تضاد سے بھرپور ہیں۔ وہ آئی سی جے سے حد سے زیادہ ریلیف چاہتا ہے۔ بھارت نے عالمی عدالت کو سیاسی تھیٹر کے طور پر استعمال کیا۔اقوام متحدہ میں سب سے بڑا جرم دہشت گردی سمجھا جاتا ہے۔ کلبھوشن کو معدنی دولت سے مالامال بلوچستان سے گرفتار کیا گیا۔ عالمی عدالت کو بھارتی درخواست مسترد کردینی چاہیئے۔بھارت کو یاد رکھنا چاہیئے کہ یہی عدالت قرار دے چکی ہے کہ قونصلر رسائی ریاست کا اپنا معاملہ ہوتا ہے بھارت نے اگست 1999 میں رن آف کچھ میں پاکستان کا طیارہ گرایا تھا۔ پاکستان یہ معاملہ عالمی عدالت انصاف میں لے گیا تھا لیکن بھارت نے کہا کہ یہ کیس عالمی عدالت انصاف کے اختیار میں نہیں۔اب وہ کس منہ سے اسی عدالت میں پیش ہے۔تاہم اگر عدالت یہ فیصلہ پاکستان کے خلاف دیتی ہے کہ جس کی توقع کی جا رہی پاکستان اس فیصلے کا پابند نہیں ہے اور نہ یہ عدالت عمل درآمد کروا سکتی ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ عالمی عدالت انصاف دنیا کے ممالک کے درمیان تنازعات طے کرنے کیلئے اقوام متحدہ کی ایک کورٹ ہے جس کے فیصلے حتمی ہوتے ہیں تاہم وہ اپنے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں کرواسکتی اور اکثر و بیشتر اس کے فیصلے نظر انداز کر دیئے جاتے ہیں۔یہ 1999 کی بات ہے کہ اسی عدالت نے امریکا کو جرمن باشندے کو سزائے موت نہ دینے کا حکم دیا تھا جسے مناسب قونصلر رسائی نہیں دی گئی تھی لیکن اس کے باوجود بھی اس شخص کو موت کی سزا دی گئی ۔اسی طرح 2004 میں میکسیکو کی جانب سے دائر ایک مقدمے میں امریکا کیخلاف فیصلے کے بعد اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی انتظامیہ نے امریکا کے سزائے موت دینے کے تنازع کے حوالے سے میکسیکو کے ان درجنوں باشندوں کے مقدمات پر نظر ثانی کا حکم دیا جنہیں قونصلر رسائی نہیں دی گئی تھی۔بعد ازاں امریکی سپریم کورٹ نے یہ قرار دیا کہ امریکی فیڈرل سسٹم کے تحت انفرادی ریاستیں اس بات کی پابند نہیں کہ وہ عالمی معاہدوں پر عملدرآمد کریں۔اس لیے پاکستانی عوام کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کہ اس فیصلے سے کوئی قیامت ٹوٹ پڑے گی۔یہ بھارت کا ایک ہتھیار ہے جو صرف وہ اپنی عوام کو مطمئن کرنے کیلئے استعمال کررہا ہے۔مودی حکومت نے دعویٰ کررکھا ہے کہ وہ یادیو کو چھڑانے کیلئے ہر حد تک جائے گی۔پاکستان کو یہ جنگ ضرور لڑنی ہے چاہے فیصلہ جو بھی آئے۔کوئی بھی ملک اپنے وقار اور سالمیت پر سودے بازی نہیں کرسکتا۔
پاک چین معاہدے خوشحالی کے ضامن
ون بیلٹ ون روڈ فورم میں شرکت کر کے پاکستان نے جہاں دنیا کو اپنے پُرامن ہونے کا پیغام دیا ہے وہاں اس نے معاشی ترقی کے حصول کیلئے چین سے معاہدے کئے ہیں۔اس موقع پرچین اور پاکستان نے گوادر ماسٹر پلان سمیت اربوں ڈالر کے مختلف معاہدوں پر دستخط کیے ہیں ۔ منصوبوں میں پاکستان اورچینی ریلوے کے مابین ایم ایل ون منصوبے اور اپ گریڈیشن کے ڈیزائن کے کمرشل معاہدے ،گوادر ایسٹ بے کی تعمیر اور گوادر سمارٹ سٹی شامل ہیں ۔وزیراعظم نوازشریف کے دورہ چین کے موقع پر پیر کو طے پانے والے ایم ایل ون منصوبے کے معاہدیپر پاکستان کی جانب سے سعد رفیق اور چین کے وزیر ٹرانسپورٹ لی ژیا پنگ نے وفود کی قیادت کی جبکہ گوادر سمارٹ سٹی معاہدے پر جی ڈی اے کے چیئرمین ثنا اللہ زہری اور سیکرٹری شہریار نے دستخط کئے۔ گوادر ایسٹ بے 6 رویہ شاہراہ ہوگی جس کے ساتھ ریلوے ٹریک بھی ہوگا، گوادر ایسٹ بے بندر گاہ کے ایک طرف سے شروع ہو کر دوسری جانب سے باہر جائے گی جس کے باعث بندرگاہ پر سامان کی نقل و حمل تیز ہو جائے گی۔نئے معاہدوں سے بلوچستان اور ملک کی ترقی کی نئی راہ متعین ہو گی جبکہ ایسٹ بے کی تعمیر سے بندرگاہ مکمل آپریشن کیلئے تیار ہو جائے گی۔چینی ماہرین سمارٹ سٹی گوادر کیلئے ماسٹر پلان بنا رہے ہیں جس سے سرمایہ کاری کی نئی فضا قائم ہوگی جس میں پوری دنیا دلچسپی لے رہی ہے جبکہ دشمن اسی لئے گوادر اور بلوچستان میں امن و امان کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہاہے۔اپنے بڑے فورم پر پاکستان کی موجودگی خوش آئند ہے۔امید ہے اس کے ثمرات جلد عوام تک منتقل ہونا شروع ہو جائیں گے۔