- الإعلانات -

اسلامی تعلیمات میں سفارتی عملے کے تحفظ کی ذمہ داری

نام نہاد ’دولتِ اسلامیہ‘ جسے عرفِ عام میں ’آئی ایس آئی ایس‘ کہتے ہیںیہ ’گروہِ ظالمان‘ عراق سے اُٹھا دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے مختلف خطوں میں پھیل گیا تاحال یہ علم شائد ہی کسی کو ہو گا کہ انسانیت کے لئے ’زہرِ قاتل‘ اِس ظالم وسفاک گروہوں کو جدید اسلحہ کون فراہم کرتا ہے؟ اِس ’گروہِ ظالمان‘ کے دنیا میں سہولت کار کون ہیں؟ آج تک جن کی کوئی شناخت نہ ہوسکی، کسی کو علم نہیں ہوسکا کہ انسانیت کو تباہ وبرباد کرنے میں اِن کی مالی ومادّی مددواعانت کون کرتے ہیں؟ بحیثیتِ مسلم امت کے ہمیں بہت زیادہ تشویش اِس امر پر ہے کہ نام نہاد’دولتِ اسلامیہ‘ کے علمبردار انسانیت کے انتہائی شرمناک اور اندوہناک قتل وغارت گری میں ملوث یہ گروہ گزشتہ چند برسوں میں مسلم ممالک سمیت کئی مغربی ممالک میں بھی اپنی مذموم دہشت گردی کی کارروائیوں کا ارتکاب کرتے پا ئے گئے ہیں جن کاکوئی حتمی سراغ تادمِ تحریر نہیں مل سکا ہے مسلسل فساد انگیزی ‘پے در پے انسانی اجتماعی قتل و غارت گری کی بڑی قبیح حرکات کی بڑھتی ہوئی لہر نے دنیا بھر کے امن پسندوں بالخصوص مسلم دنیا کے انتہائی اہم ملکوں کو سخت تشویش کے دورہائے پر لاکھڑا کیا ہے ‘پاکستانی ریاست کوجوعالمِ اسلام کی واحد ایٹمی ڈیٹرنس کی حامل اہم ریاست ہے پاکستان میں بیس بائیس کروڑمسلمان بستے ہیں، دنیا کا کون سا ایسا ملک ہے جسے یہ علم نہیں کہ پاکستانی عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنے وقت کی بدترین دہشت گردی کا شکار ہیں، پاکستان کی افواج ملک کے اندر اور اپنی تینوں سرحدوں پر بھی بیرونِ ملک سے درآمد ہونے والی دہشت گردی کے خلاف کئی برس گزر گئے حالتِ جنگ میں ہے، پاکستان کی مغربی سرحدوں کے پار افغانستان اورادھربلوچستان سے ملنے والی پاک ایران سرحدوں پربھی پاکستان کے ازلی دشمن ملک بھارت کی مسلط کردہ خفیہ اور کھلی دہشت گردی سے نمٹنے میں پاکستانی فوج اپناآئینی فریضہ بخوبی ادا کررہی ہے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں چاہے کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں ہوں یا داعش کے دہشت گرد ہزاروں پاکستانیوں کو وہ کتنی اذیت ناک سفاکیت سے قتل کرچکے ہیں، اْن کے گلے کاٹے گئے، معصوم بچوں کا بھی ذرا خیال نہیں کیا گیا بزرگوں اور عورتوں کی بھی خونریزتوہین کی گئی وہیں یہ بھی نہ بھلایا جائے کہ دہشت گردوں کی غیراخلاقی’غیرانسانی حرکات اورآئینِ پاکستان کی اتھارٹی کو تسلیم نہ کرنے پر افواجِ پاکستان نے بھی بڑی ہی جواں مردی اور پامردگی سے اِن دہشت گردوں کا میدان میں اتر کر مقابلہ کیا ہے دہشت گردوں کے گروہوں کے گروہوں کا سرکچل کررکھ دیا گیا اِس دوبدوجنگ میں ملکی افواج کے بھی ہزاروں جوان اور افسر اب تک شہید ہوچکے ہیں ،یہاں پر یہ مقام ہر ایک صاحبِ ایمان مسلمان پاکستانی کے لئے انتہائی قابلِ توجہ ہونا چاہیئے، وہ کسی بھی ایسے اَمر کو بلا کسی تحقیق قبول کرنے پراپنے آپ کو مجبورکیوں پاتا ہے؟ اللہ تبارک وتعالیٰ کا یہ فرمان اَ یسے کسی بھی مسلمان کے ذہن نشین کیوں نہیں ہوتا ‘جس نے کسی انسان کو بلاوجہ قتل کیا، اْس نے گویا تمام عالمِ انسانیت کو قتل کردیا’ باقی پیچھے کیا رہ گیا ؟ ہر ایک مسلمان کو سمجھنا ہوگا کہ اسلام کے نام پر اسلام کی خود اخذ کردہ جھوٹی اور بے سروپا دلیل پر اہلِ ایمان کو قتل کرنا ایک کبیرہ گناہ ہے یہ کتنے کا افسوس کا لمحہ ہے ‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے تو عام انسانوں چاہے وہ مسلم ہوں نہ ہوں کسی کو بھی کسی جرم وخطا کے بناء قتل کرنے پر روکا ہے اور بڑی تنبہیہ فرمائی ہے، انسانوں کے اجتماعی قتلِ عام کو بڑاسنگین جرم قراردیاہے سنا ہوگا آپ نے‘ خود بھی قران مجید میں ایسی کئی آیاتِ مبارکہ پڑھی ہونگی’اور جب ان سے کہا جاتا ہے زمین میں فساد نہ کرو تو جواب دیتے ہیں ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں خبردار رہو یقیناًیہی لوگ فساد کرنے والے ہیں لیکن سمجھ نہیں رکھتے‘ ہرایک مسلمان کی سب سے بڑی اوراولین خواہش رہتی ہے جب بھی اْسے موقع ملے تو وہ حجازِمقدس سعودی عرب جاکرمکہ میں عمرہ اورحج جیسی عبادات بجا لائے’ہر برس حج کے موقع پر میدانِ عرفات میں مسجدِ نمرہ میں خطبہِ حج سننا ہرحاجی پرفرض ہے حج کے موقعوں پربھی اورمختلف اہم مذہبی تقریبات میں سعودی علماء کی اعلیٰ شوریٰ کے سینئر ترین ممبران نے گزشتہ برسوں میں بارہا تکرار سے عالمِ اسلام کے ہر فرد کو آیاتِ ربانی کی رْو سے یہ سمجھانے کی کوششیں کیں کہ ’اللہ کی زمین میں بلاوجہ فساد پھیلانے والے اللہ اوراس کے رسول کے دشمن ہیں‘ معتدد سینئر سعودی عالم دین کی مشاورتی کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ احکامات میں یہ واضح کیا گیا کہ مسلمانوں کے گھروں، اسکولوں، ہسپتالوں، فیکٹریوں میں خودکش حملے، طیاروں کو یرغمال بنانا، اللہ تعالیٰ کی کھلی نافرمانی ہے یہ دہشتگردی ہے اور یہ دہشتگردی اسلامی تعلیمات کے بالکل منافی ہے‘بے جا اشتعا ل پھیلانا اور خوف کی فضا پیدا کرنا ، سرکاری اورنجی املاک کو نقصان پہنچانے جیسے جرم کا ارتکاب ‘پْرامن اقوام کے ملکوں کی سیکورٹی کو چیلنج کرنا’عدم استحکام کے مذموم امور میں شمولیت کرنا اسلامی تعلیمات کی رو سے متصادم ہے’شریعت اسلام کی رو سے بے گناہ انسانیت کا قتل،انسانی حرمت کی پامالی اور ناحق ظلم و جبر کرنا قبیح حرکات ہیں چاہے کوئی مسلمان ہو یا غیر مسلم، کسی بھی ملک کے سفارتی عملے کو سفارت کار کو اغواء کرنا یرغمال بنانا یا اْنہیں قتل کرنا دہشت گردی کی بدترین شکل کے زمر ے میں آتا ہے یہاں یہ یاد رہے کہ داعش‘القاعدہ اور دیگر تنظیمیں جو مختلف شکلوں میں دنیا بھر میں دہشت ووحشت کی علامت بنی ہوئی ہیں اِنہوں نے عالمِ انسانیت کیلئے مزید کئی مشکل و کٹھن دہشت گردی کے اقدامات اُٹھا کر عالمِ اسلام کو اِس مقام پر پہنچا ہے کہ اب اُن کے خلاف سخت راست اقدام کیا جائے، اسی بارے میں سعودی عرب کے سینئرکونسل کے سیکرٹریٹ جنرل نے ایک فتوی جاری کیا جوکہ اسلام میں سفارت کاروں اور سفیروں کی زندگیوں پر ہونے والے حملوں کواسلامی تعلیمات کے منافی قراردید یا گیا ہے اورایسے انتہائی قابلِ نفریں جرائم کو جوکہ اپنی سطح پر اعلی ترین گناہوں میں سے ایک ہیں اْن پر سخت اقدامات کے لئے ہر مسلم حکومت کی توجہ مبذول کرائی گئی ہے، لہذا، القاعدہ اور داعش جیسی انسانیت دشمن تنظیموں کی جانب سے سفارت کاروں اورسفیروں کے قتل جیسے بہیمانہ افعال کو اسلامی تعلیمات سے انحراف مانا گیا ‘ اسی سلسلے میں یقیناًعالمی پیمانے پرپائے جانے والے غم و غصہ کے پرامن اظہار کوجائز تسلیم کیا گیا ‘ مطلب یہ کہ سفیروں اور سفارت کاروں پر حملے اسلامی قوانین کے سریحاً خلاف ہیں، جبکہ دنیا پر یہ واضح کردیا گیا ہے کہ اسلام میں سفیروں اورسفارت کاروں کے احترام کو اسلامی دنیاانتہائی اہمیت کا حامل سمجھتی ہے یہاں پر یقیناًچند پُرامن ذہنیوں میں یہ سوال ضرور اُٹھے گا کہ اِسی مذموم نوعیت کی فتنہ وفسادانگیزیوں اوردہشت گردی کی کارروائیوں کے واقعات پر مسلم ممالک کی آئینی اتھارٹی کو چیلنج کرنے والی سرکش تنظیموں اور مسلح گروہوں کے مکمل خاتمے کے لئے جہاں حکومتیں اپنے اقدامات بجا لارہی ہیں وہیں عام عوام کو’سوشل تنظیموں کو اپنی سطحوں پر مزید کیا کچھ کرنا چاہیئے ؟واقعی یہ بہت اہم بات ہے، ایسی مثبت اور تعمیری سوچوں کو عوامی پیمانے پر ‘قومی مکالمہ’ بنانے کی کل سے زیادہ آج بڑی سخت ضرورت ہے بحیثیتِ قوم ہم اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں دہشت گردی کی سوچ رکھنے والوں’ انتہا پسندانہ نظریہ رکھنے والوں’ دہشت گردوں کے ‘وائٹ کالر’ سہولت کاروں کا پہلی سطح پر سوشل بائیکاٹ کیا جائے اور قرآنِ پاک اورسنتِ نبوی صل اللہ علیہ وآلیہ وسلم کی روشنی میں یہ بین روشن حقائق عام کیئے جائیں کہ’’ دہشت گردوں کی کوئی مالی مددواعانت نہ کرسکے ‘‘ کتاب وسنت کی حقیقی شریعت کی رو سے دہشتگردی کی مکمل روک تھام کسی بھی اسلامی ریاست کی اولین ذمہ داری بنتی ہے، اور اسلامی سر زمین میں مسلمانوں کا باہمی تعاون اور ان کی ایمان افروز راست بازی اور پرہیزگاری کی پاکیزہ طاقت سے دہشت گردوں کو عبرت ناک شکست د ی جاسکتی ہے۔