- الإعلانات -

وکلا اور ڈاکٹر عافیہ

12 مئی 2007 کو کراچی میں عدلیہ بحالی مہم میں کئی وکلاء کو زندہ چلادیا گیا۔ پرویزی دور حکومت تھا! ہر طرف الٹی گنگا بہہ رہی تھی! کل مفاد پرست مزے میں تھے ۔ امریکہ کا سکہ چلتا تھا۔ افغانستان پر ملاعمر کی حکومت کا خاتمہ کرکے حامد کرزئی کوافغان مجاہدین کو چن چن کر ہلاک کر کے سیکولر حکومت کے قیام کا ٹاسک مل چکا تھا! ہر طرف امریکہ طاقت کا استعمال کرتا دکھائی دیتاتھا۔ امریکی اتحادی فورسز افغانستان میں بارود کی بارش برسانے میں مصروف تھیں!پاکستان دشمنوں کو افغانستان میں جمع کیا گیا اور ان کی ہر طرح کی امداد کرکے ان کو مضبوط کرنے کی بھر پور کوشش کی گئیں! امریکہ نے خوب ڈالرز تقسیم کئے! اور پھر امریکہ نے گھر گھر میں ایجنٹ خرید کر تعینات کیئے افغانستان میں روس کو کو شکست کے بعد دنیا میں اکلوتا غنڈہ امریکہ تھا۔ اور پاکستان کا حکمران پرویز مشرف بھی نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے گروہوں کوکریش کرنے کے بعد لا زوال دکھائی دے رہا تھا! ہر طرف پرویز ی چمچوں کا راج تھا! اسلامی اقدار کا ختم کیا جانے لگا۔ معاشرے سے شرم و حیا کو دیس نکالادیا جائے لگا! ہر سو پرویزی قانون نظر آنے لگا! اسی گھپ اندھیرے میں چودھری افتخار جیسے نامعلوم جج نے پرویزی طاقت کے خلاف نعرہ حق بلندکرکے ایک تحریک کی بنیاد رکھی۔ پرویزمشرف وقت کافرعون تھا!کوئی سیاستدان اس کے خلاف آواز اٹھانے کو تیار نہ تھا! اور آواز بھی اٹھائی تو ایک جج نے ! اور جج بھی وہ جواکلوتا تھا! جس کا اللہ کے سوا کوئی ساتھی نہ تھا! جس کی نہ جماعت تھی اورنہ خاندان تھا! مگر جج کی آواز پر سب سے پہلے وکلاء نے لبیک کیا! اور پھر ایک جج نہ رہا!ساری قوم و کلاء کی تحریک کے ساتھ شامل ہوگئی ! کوئی شہر نہ تھااور نہ کوئی گاؤں جہاں لوگوں نے چیف جسٹس کی بحالی کیلئے تحریک نہ چلائی ! علی احمد کر دھوکہ اعتزاز احسن ۔ خلیل الرحمن ہوکہ جسٹس وجیدالدین ہو کہ عمران خان ہو کہ میاں نواز شریف ہوکہ اسلام آباد، ہوکہ کراچی۔ لاہور ہوکہ میانوالی ہر کسی نے اور ہر کمپین عدلیہ بحالی کیلئے کوشش کی گئیں!پرویز مشرف طاقت اور ظلم وزیادتی کی علامت تھا! عدلیہ بحالی کیلئے بنیادی کردار ادا کرنے والے وکلاء نے گرفتاریاں پیش کیں! ڈنڈے کھائے! جلیں کاٹیں! گولیاں کھائیں! جانوں کے نذرانے پیش کیئے! مگر کراچی کے پرویزی غنڈؤں نے وکلاء کے دفاتر جلائے سارے شہر کو بند کر دیاگیا! ائیر پورٹ سے کوئی مسافر شہر داخل نہ ہو سکتا تھا ہر شاہراہ پر کنٹینروں کی لائین لگا کر بند کر دیا گیا! چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور ان کے ساتھیوں کو ائیر پورٹ پر محصور کردیا گیا! راکے تربیت یا فتہ غنڈوں ، دہشت گردوں نے پولیس کو کنٹرول کر رکھا تھا! چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے استقبال کرنے والے وکلاء کے دفاتر جلا کر کئی و کلاء کو زندہ جلا دیا گیا! مرنے والے تحریک بحالیہ عدلیہ والے و کلاء تھے ! مارے والوں کو سرکارنے ماسک پہنا کر ان کے چیرے چھپا رکھے تھے ! وکلاء اور انصاف پسندوں کا خون ہو ۔ اس قربانی کے سبب عدلیہ آزاد ہوگئی! چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار محمد چوہدری بحالی ہوگئے مگر وکلاء کو چلانے والوں کا پتہ نہ چل سکا! قاتلوں کو تحفظ مل گیا! وکلاء اور سول سوسائٹی معصوم لوگوں کے قتل کا خان کس کے ہاتھوں تلاش کریں!دس سال گزر گئے مگر انصاف تو کیاانصاف کی عدالت بھی قائم نہ ہوسکی بینظیر بھٹو کو قتل کیا گیا249 پرویز مشرف کا زمانہ تھا! قاتلوں کو کیسے گرفتار کیا جاتا! مگر لوگوں نے بینظیر کے قاتلوں کی گرفتاری اور ن کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کیلئے زرداری کو اقتدار دیا اسی طرح ڈاکٹر عافیہ کو جھوٹے مقدمے میں ملوث کرکے امریکہ نے اسے جعلی کاروائی کرکے سزاوار کررکھا ہے ! لوگون نے نواز شریف کو اقتدار بخشاء مگر نہ بینظیر کے قاتلوں کو آصف علی زرداری کے دور صدارت مین سزاہوئی اور نہ نواز شریف کے دور میں ڈاکٹر عافیہ کی جھوٹے کیس سے رہائی ملی! 12 مئی پکارکر حکمرانوں کو کہ رہا ہے بے گناہ و کلاء کا خون کرنے والوں کو انصاف کے کٹیہرے میں لایا جائے اور نہ 12 مئی کے شہیدوں کا خون اور ڈاکٹر عافیہ کی عظمت حکمران کے زوال کی وجہ بن جائے گی۔
*****