- الإعلانات -

میٹروبس اور گردہ فروش

نواز شریف نے کرپشن سے 140ارب روپے بنائے عمران خان کے اس الزام کے جواب میں وفاقی وزیر برائے دفاع وزیر اعظم پرویز رشید نے الزامات کی فہرست جاری کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان جھوٹا! غدار دشمنوں کا آلہ کارہے۔عمران خان کیلئے مناسب نہیں ہے کہ موجود ہ حکمرانوں پر الزام لگائیں! کیونکہ موجودہ حکمران جب وہ آپ کی طرح اپوزیشن میں تھے تو حکمرانوں کو چوروں کے سربراہ اور سردار کہتے تھے آ ج اقتدار میں آئے ہیں تو انہی چوروں کے اتحادی بن کر نظام جمہوریت بچانے میں مصروف ہیں ۔ عمران آپ الزامات لگا کر موجود ہ حکمرانوں کے ساتھ مک مکا ﺅ پر آگئے تو قوم جمہوریت پسندوں اور جمہوریت پرستوں کو جھوٹ اور فراڈ پسند اور پرست کے طورپر یا دکرے گی! آپ کے پاس کیا ثبوت ہیں کہ نواز شریف نے 140ارب روپے کرپشن سے کمائے ہیں؟ بلکہ آپ کے پاس کیا ثبوت ہیں کہ نواز شریف 140ارب روپے کا مالک ہے بھی سہی! رات ایک جرنیل بات کررہا تھا کہ میں نے اپنی آنکھوں اور ہاتھوں سے میاں نوا ز شریف کے دور میں قوم کی دولت کو لٹتے لٹاتے دیکھا ہے۔ وہیں کہا گیا کہ لاہور ،راولپنڈی ، اسلام آباد اور ملتان کے میٹرو روڈ جن پر دو کھرب روپے لاگت آرہی ہے!حالانکہ اسلام آباد ،راولپنڈی روڈ یا ملتان کو ابھی بنے تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا ۔ ان کو توڑ کر میٹرو بنانا حماقت جہالت تھی ۔ہاں اگر کسی نے اپنے مقاصد اور مفادات کے لیے تعمیرکیا ہے تو پھر یہ عوامی ضرورت کے منصوبے نہ تھے! دوکھرب کے یہ تین منصوبے اپنے آپ کو بادشاہ کہلانے والے تو بنا چلا سکتے ہیں۔ کیونکہ بادشاہ جو کچھ سوچیں کر گزریں کوئی ان سے پوچھنے والا ہوبھی نہیں سکتا! ورنہ پورا پنجاب سڑکوں ،نالیوں ، گلیوں کے مسئلے کا شکار ہے۔ پنجاب کے جس ضلع پر تبصرہ کیا جائے ممکن ہے ا س کے مین روڈ بنادیئے گئے ہوں یا ان پر کام جاری ہو مگر اس کے تمام علاقائی روڈ پر ضلع کی اندر کی تصویر پیش کرتے ہیں نہ روڈزہیں ، نہ گلیاں پختہ اور نہ نکاسی آب کا نظام موجود ہے۔ ہر قصبہ اور ہر دیہات اور ہر گلی گندگی اور جوہڑ کا منظر پیش کررہی ہے۔ پنجا ب کے درجنوں اضلاع کا رابطہ کے نظام سڑکیں ہیں اور یہ درجنوں اضلاع سڑکوں ،گلیوں ، نالیوں اور نکاسی آب جیسے مسائل سے نہ صرف دوچار ہیں بلکہ ہر سال ناکارہ سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے بہانے اربوں روپے اوپر نیچے ہوجاتے ہیں اور یہ رقم حکومتی ٹیم کی بیوروکریسی ٹھیکیداروں کے ساتھ ملکر ہضم کرجاتی ہے۔ اس طرح پورے پنجاب کے چھوٹے اضلاع کی تعمیر و مرمت کیلئے اربوں روپے کی رقم کھاپی جانے کے بعد حکمران سب اچھا کے نعر ے لگارہے ہیں ۔ ایک طرف راولپنڈی ،اسلام آباد کے درمیان حال ہی میں تعمیر ہونے والی اربوں روپے کی مر ی روڈ کو توڑ کر راولپنڈی اسلام آباد کے درمیان میٹر و بنادی گئی اور دوسری طرف اسلام آباد کوئٹہ جانے والی روڈ کئی برس سے ڈھک کی پہاڑی میانوالی میں ہر سال درجنوں افراد کی زندگیوں کا سودا کرلیتی ہے۔ ہر ماہ کئی کئی روز ٹریفک بند ہوجاتی ہے۔ مگر نہ صوبے کے حکمرانوں کو اس کی خودہی تعمیر کا خیال آیا ہے اور نہ مرکز کے حکمرانوں کی اس مسئلہ پر توجہ مبذول کرائی جاتی ہے۔حالانکہ اسی روڈ پر ڈیرہ سے واپسی پر اسلام آباد جاتے ہوئے مولانا فضل الرحمن صاحب ٹریفک جام میں کیا پھنسے کہ وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کا وقت بھی گنوا بیٹھے! اسلام آباد سے کوئٹہ اور کراچی کیلئے جانے والی روڈ میانوالی سے ڈھک پہاڑی سے گزرتی ہے ۔ اس روٹ پر نصف پنجاب کے پی کے ، بلوچستان اور مکمل سند ھ کوڈھک پہاڑی کو استعمال کرنا پڑتا ہے۔ مگر کسی بھی حکمران کو ڈھک پہاڑی کے چھوٹے سے منصوبے کو مکمل کرنے کی سمجھ نہ آسکی۔ ادھر راولپنڈی میٹرو بس میں بھرتی کرانے کا جھانسہ دیکر لاہور کے ایک نوجوان کا بایاں گرد ہ نکال لیا گیا۔ بھرتی کے خواہشمند نوجوان کو میڈیکل کرانے کے بہانے نشہ دیکر اس کا گردہ نکال لیا گیا ۔ مظلوم بابر بشیرنے پولیس کو شکایت لگائی مگر گردوں کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف مقدمہ تک درج نہ ہوا۔ ادھر بڑے بڑے شہروں میں کھر بوں روپے مالیت کی میٹرو چلاکر حکمران اپنے آپ کو سلطان محمود غزنوی اور شیر شاہ سوری کی طرح اپنا نام تاریخ میں لکھوانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اور دوسری طرف انہی بڑے شہروں میں انسانی اعضا ءکی چوری اور پھر ان کے کاروبار میں لوگ مصروف ہیں اور حکمران ایسے مظلوموں کی داد رسی تک قانون کو حرکت میں لانے سے قاصر ہیں۔ ملک کے حکمرانوں عوام کو میٹرو روڈ اورسنگتری ریل کی ضرورت نہ ہے۔ ملک میں نظام اور انصاف کی ضرورت ہے۔ جس طرح وفاقی وزیر پرویزرشید صاحب نے عمران خا ن پر الزامات لگائے ہیں کہ وہ جھوٹا ہے ،غدار ہے اور دشمن کا آلہ کار ہے۔ اگر وہ واقعی ایسا ہے تو ایسے سیاستدان کے خلاف قانون کو حرکت میں لایا جائے۔