- الإعلانات -

بے لگام جنونی پاگل پن۔ اپنی انتہا پر

بھارت میں برسہا برسوں سے نفرت بھری خشمگیں آنکھیں موندے چھوت چھات اور غیر ہندو بھارتی با شندوں کے ساتھ پرلے درجہ کی آلودگی کے تعصب میں لتھڑے اپنے بہت سے ہاتھوں اور بازوں والے آکٹوپس نے آرا یس ایس تنظیم کے سفاک و قصاب نما حکمرانوں کے اِس بدترین عہد میں ایک مرتبہ پھر بڑی بہیمانہ انگڑائی لی ، اور دنیا کو یہ باور کرادیا کہ کوئی اِس غلط فہمی میں نہ رہے کہ آج کا بھارت جدید انسانیت نواز سائنسی عہد میں بھی ویسا ہی دیش ہے جیسے وہ کل خالص’ہندوتوا ’ کا پر چارک تھا آج بھی ہمارے بھارتی حکمران چاہے اُن کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے ہو یا کسی اقتصادی نظرئیے سے، مگر ‘ وہ اپنی اُسی ’انسانیت کش ‘ ڈگر سے ایک انچ ادھر سے اُدھر ہونے پر آمادہ نہیں ہوسکتے ،ہمیں اِس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ ہم پر کوئی کتنی لعن طعن کرتا ہے ’ہندوتوا‘ کی فرقہ واریت ہمارے رگ وپے میں سرایت کرچکی ہے، یہ کہیں پہ رکھنے کا نام نہیں لے گی ہم میں نہ کل عدم برداشت نام کی کوئی چیز تھی نہ ہم رواداری ‘تحمل مزاجی ‘ انسانی ٹھہراو¿ یا ملائمیت کے کسی ’بزدلانہ ‘ جذبے کو خاطر میں لانے والے ہیں نرنیدرا مودی کو ہم اقتدار میں لائے اگر اُس نے ہماری راہ میں رکاوٹ بننے کی کوشش یا دنیا کو دکھاوے کا دیش میں ’امن بھائی چارگی ‘ کا کوئی لبادہ اُڑھنے کی جسارت بھی کی تو پھر اُس کا ا نجام بھی ’کلکرنی ‘ جیسا ہی ہوگا، بھارت میں تیزی سے ابھرتی ہوئی ’ہندوتوا‘ کی فرقہ واریت کے زعفرانی پرچم بردار جو ہمہ وقت زعفرانی لباسوں میں ملبوس دیش بھر میں مسلمانوں پر انتہا درجہ کے تعصبانہ سفاکیت کا ستم روارکھے ہوئے ہیں نہ اُن کی نظروں میں بھارتی نژاد عیسائیوں کے لئے کوئی جگہ ہے اور نہ سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والے سکھوں کو و ہ دیش میں اپنی مذہبی و ثقافتی سرگرمیاں جاری رکھتا ہوا دیکھنا پسند کرتے ہیں یہ خیال بھی وہ حلقے اپنے دل ودماغ سے نکال دیں کہ اگر آج بھارت میں بی جے پی کی نئی دہلی کی مرکزی حکومت ختم ہوجائے تو ’ہندوتوا ‘ کی بڑھتی ہوئی متعصبانہ فرقہ واریت کا خطرناک مسئلہ ختم ہوجائے گا نہیں یہ ہماری اور آپ کی خام خیالی ہوگی ’ہندوتوا ‘ کا مسئلہ اِس سے کہیں زیادہ بڑا ہے ہاں کسی حد تک یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ نریندرا مودی جیسے نچلے درجے کے آر ایس ایس کے ’کار سیوک ‘ کی سربراہی میں دہلی کی مرکزی حکومت کی باگ دوڑ اُس کے ہاتھوں آجانے کے بعد ’ہندوتوا ‘ کے دہشت ووحشت کے آکٹوپس نے غالباً 30-35برس بعد ایک لمبے عرصہ کے لئے’ نئی زندگی‘ ضرور پا لی ہے، کون جانے اِس کا انجام کیا ہو گا ،ہمیں بحیثیت ِ جنوبی ایشیائی فرد کے یہ فکر کھائے جارہی ہے کہ آر ایس ایس اور اِس کی ذیلی متشدد انتہا پسند تنظیموں کے ایک کے بعد ایک کے لبادے تیزی سے اترنا شروع نہ ہوجائیں بھارت کی یہ مسلح متشدد پھیلے ہوئے جنونی گروہ اور ’متحد‘ نہ ہو جائیں ،چونکہ بھارت پاکستان کا پڑوسی ایٹمی ملک ہے اُس کے ا یٹمی ہتھیار پاکستان جیسے کسی مضبوط ومستحکم کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے ’نارسا‘ حصار میں نہیں اور نہ ہی نئی دہلی والوں کو اِس کی فکر ہے نہ ہی بھارتی افواج کو، بس صرف ایک ہی نکتہ یعنی پاکستان دشمنی اُن سب کا مطمع ِ نظر ‘اِن کا ’حال ‘ کتنا بدحال ‘ پاکستان کے ساتھ آر ایس ایس والوں کے تعصب کی نہج کہاں پہنچ گئی کسی ’صاحب ِ فکر ہندو دانشور ‘ کو فکر نہیں اگر اُنہیں اِس کی فکر ہوتی تو اُن کے معاشرے میں بگاڑ او ر دنگا فساد کا یہ انتہائی رویہ کبھی نہ اِس قدر پنپتا ،پاکستان کے ایک سابق وزیر ِ خارجہ محمود قصوری کی ممبئی میں اُن کی کتاب کی تقریب ِ رونمائی نے دیش بھر کو لاحق خطرناک خطرے کی گھنٹی بجادی، کوئی لاکھ اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لے، اب بھارتی معاشرے میں جلد یا بادیر ثقافتی تحمل وبردباری ‘اتفاق و سماجی برداشت اور باہمی ملن ساری کے سدھار کی بات بنتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی ،خود ملاحظہ کرلیں ’سد ھیندار ا کلکرنی‘ کے بارے میں اُن کی حب الوطنی کے بارے میں بھارتی وزیر ِ ثقافت مہیش شرما کا کیا خیال ہے ؟ اُن کے منہ پر کالک کیوں ملی گئی ؟ سدھیندار ا کلکرنی‘ آبزور ریسرچ فانڈیشن کے سربراہ ہی نہیں بلکہ خود بھی ایک زمانے میں بی جے پی کے ممتاز لیڈر رہے، جنہیں اُن کے علمی مرتبہ کی وجہ سے دنیا بھر میں بڑا مقام حاصل ہے کئی کتابوں کے مصنف ہونے علاوہ وہ ایک جانے مانے ماہر تعلیم بھی ہیں بروکنگز انسٹی ٹیوشن چیہٹم ہاو¿س ‘ رینڈ کارپوریشن ‘ کے عالمی سطح کے مفکروں میں کلکرنی کا شمار ہوتا ہے، ممبئی کے شیوسینا کے غنڈے کلکرنی کے علمی مرتبہ کو پہنچانتے ہی نہیں ،جنونی متشدد ‘انتہا پسند ممبئی کی ایک ’گروہ نما ‘ بھتہ خور مافیا جماعت کے رکن نے اُن کی اپنی منعقد کردہ ایک پاکستانی سیاست دان کی کتاب کی تقریب ِ رونما ئی میں اُن کے منہ پر ’کالک ‘ مل کر کیا کوئی کمال کردیا ؟ یوں کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا کہ شیوسینا نے اصل میں اپنے ہی منہ پر کالک مل لی اعتدال پسند بھارتی سول سوسائٹی نے واقعی بہت دیر کردی ‘کیا وہ اتنی جلد بھول گئے امریکی صدر اوبامہ نے اپنے دورہ بھارت میں کیا انتباہ کیا تھا بھارت بھر میں آج تک اقتدار کے سنگھاسن تک پہنچنے والی کسی ایک ایسی جماعت کا نام بتا دیں جس کے ہاتھ بھارتی اقلیتوں کے لہو سے رنگیں نہ ہوں ولبھ بھائی پٹیل سے شاستری تک ‘ اندراگاندھی سے گجرات کے قصاب نریندرا مودی تک سبھی کے سبھی بھارتی نژاد مسلمانوں ‘ سکھوں اور عیسائیوں سے کسی نہ کسی شکل میں نبرد آزما رہے افسوس صدہاافسوس ! گزشتہ67-68 برسوں میں جب بھی بے گناہ انسانوں کا بھارت میں بے دریغ خون بہا،بھارت کے انصاف پسند قلم خاموش رہا اور اعلیٰ معتدل تعلیم یافتہ بھارتی سول سوسائٹی کی زبانیں بھی بند رہیں معدودے چند ایک کے ‘ جن میں نامور اور ممتاز قابل ِ احترام انسانیت نواز ارون دھتی رائے کا نام لیا جاسکتا ہے اور کچھ بھی ہونگے مثلاًخوشونت سنگھ جیسے مرد ِ میدان ‘ جن پر یہ بھارتی متشدد جماعتیں ’پاکستان ایجنٹ ‘ ہونے کا جھوٹا اور بے سروپا الزام دیتی چلی آئیں، مگر اِن کے قدموں میں ذر ا ڈگمگاہٹ نہیں آئی، انسانیت کے احترام اور اُس کی بقاءکے لئے یہ کل بھی لڑتے رہے کچھ دنیا سے اُٹھ گئے جو باقی ہیں انسانیت اُنہیں آج بھی خراج ِ تحسین پیش کرتی ہے کل بھی کرئے گی یہ کسی ایک ہندو ‘ مسلمان ‘ سکھ ‘ عیسائی ‘ بدھ مت یا پھر کسی ایک سیکولر کی بقاءواحترام کی بات نہیں ‘مختلف نسلوں ‘ مذاہب ‘ زبانوں اور کلچروں سے الگ ہوکر بھارت میں جڑ پکڑتے ہوئے انسانی سماجی میں نفرتوں کی تناو¿ کی اِن کیفیتوں کو کیسے ختم کیا جائے؟ یہ سوچنا ہے آج کی باشعور بھارتی سول سوسائٹی کا ایک اوّلین فریضہ ہونا چاہیئے بھارت کی جن قابل ِ احترام قدآورشخصیات نے گائے کا گوشت کھانے کی افواہ پھیلا کر محمد اخلاق کو قتل کرنے پر اور ممبئی میں ایک پاکستانی سیاستدان کی کتاب کی تقریب ِ رونمائی میں جناب کلکرنی پر سیاہی نما تیل ملنے پر اپنا جس طرح کا اپنا بے باکانہ و جراّت مندانہ شدید اور پُرزور احتجاج ریکارڈ کرایا ہے بھارتی ہندوتوا کے جنونی پاگل پن کے اِس عہد میں یہ ایک بہت بڑا تاریخی انسانیت نواز قدم ہے، جس کی جتنی پذیرائی کی جا ئے وہ کم ہے ۔