- الإعلانات -

جنگلات کی کٹائی، زلزلے اور سیلاب!

گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ایسے میں جنگلات کی اہمیت بڑھ جاتی ہے اس میں شک نہیں کہ موسموں نے بھی پلٹا کھایا ہے کبھی غیرمعمولی بارشوں کے سبب سیلاب تباہی ہوتی ہے تو کبھی سورج سوا نیزے پر ہوتا ہے اور گرمی سیلاب کی طرح جانیں بھی لے لیتی ہیں۔ اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ درخت زمین کا زیور ہیں، درختوں کی حفاظت کرکے ہم ملک کو جنت نظیر بناسکتے ہیں ۔ جنگلات کی عدم موجودگی سے زمین پربرسنے والی بارش اپنے ساتھ مٹی بھی بہاکرلے جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں سیلاب آتے ہیں جنگلات ہی سیلاب کو کم کرنے کا ذریعہ ہیں جس سے سیلاب کے پانی کی رفتار کم ہوجاتی ہے جس سے زمین نہ صرف سیلابی پانی کے کٹاؤ سے محفوظ رہتی ہے بلکہ سیلاب کے گزرجانے کے بعد ہوا کے کٹاؤ سے بھی زمین کی اوپری سطح کی زرخیزمٹی کو اڑاکر دورچلے جانے سے روک لیتی ہے اور پہاڑی ڈھلانوں پردرختوں کی موجودگی سے ان علاقوں کی زرخیزی متاثرنہیں ہوتی۔ چونکہ جنگلات سیلابی پانی کی رفتارکم کرتے ہیں اورزمین کوکٹاؤ سے بچاتے ہیں اورزمین کی زرخیزی کو قائم رکھتے ہیں۔ اس لئے جب بھی جنگلات کاٹے جائیں تو ان جگہوں میں نئے درخت لگادیئے جائیں تاکہ جنگلا کاعلاقہ کم نہ ہونے پائے۔آج بھی وطن عزیز میں زیادہ سے زیادہ پودے لگانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ پاکستان کی خوبصورتی کو بڑھانے کے ساتھ اس فضا میں بسنے والوں کیلئے تازہ ہوا کا بھی بندوبست کرتے ہیں اوردرختوں کی ہریالی سے ہی موسم بھی بہت رہتا ہے۔ زلزلے، سیلاب ، طوفان اور دیگر قدرتی آفات پر انسان کا کوئی اختیار نہیں وہ ان کے سامنے بالکل بے بس ہے۔ انسان قدرتی آفات کو تو نہیں روک سکتا مگر موجودہ حالات میں ہونے والی ترقی اور انسانی افعال بھی زلزلوں اور سیلابوں کی شدت کا باعث بن رہے ہیں۔ درختوں ا ور جنگلات کی بے دریغ کٹائی، دریاں کے کناروں پر ضرورت سے زائد تعمیرات اور پرندوں کے غیر قانونی شکار وہ عوامل ہیں جو پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلیوں کا باعث بنے ہیں۔ماحولیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے جو دنیا کے تقریبا ہر ملک میں وقوع پذیر ہورہی ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ عالمی حدت، موسلا دھار بارشیں، تباہ کن سیلاب اور موسموں میں شدت اس تباہ کن ماحولیاتی تبدیلی کی چند علامتیں ہیں جس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ انسان اپنی بقا کیلئے ماحول کا تحفظ کرنے میں ناکام رہا ہے۔ماہرین کے مطابق پاکستان میں مجموعی طور پر جنگلات صرف چار فیصد رقبے پر محیط ہیں یہ شرح بیرونی دنیا کی نسبت تشویش ناک حد تک کم ہے ۔ ماحولیاتی اعتبار سے صحت مندممالک میں اوسطا35فی صد رقبے پرجنگلات لہلہاتے ہیں اور ظاہر ہے کہ پاکستان سے اس کا کوئی موازنہ نہیں۔ مزید برآں ملک میں اس قدر کم رقبے پر لہلہاتے جنگلات کے باوجود ان کی کٹائی کی شرح دنیا کے دیگر متعددممالک سے کہیں زیادہ ہے۔ماحولیاتی تبدیلیوں کے جنگلی حیات پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں زلزلے اور سیلاب سے صرف انسان ہی متاثرنہیں ہوتے بلکہ جنگلی حیات اور جنگلات بھی تباہ ہوتے ہیں۔ پاکستان کے تناظر میں صورتِ حال یکسر مختلف ہے جہاں وفاق اور صوبے میں برسرِاقتدار حکومتیں فعال ہیں اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی ذمہ داری قبول کرنے پرتیار ہیں۔ 2010 کے بدترین سیلاب سے حاصل ہونیوالے اسباق کو فراموش کر دیا گیا ہے اور آنیوالے برسوں کے دوران نئی اور اذیت ناک یادوں سے بھرپور تاریخ کا ایک اورباب رقم کرنے کے لیے میدان کھلا چھوڑ دیا گیا ہے۔ اور 2005 کے زلزلہ متاثرین ابھی تک امداد کے متاثر ہیں۔کسی ملک کا نظام اگر قدرتی آفات کے نتیجے میں متاثرین کے مسائل کو شکست دینے کی صلاحیت سے ہی محروم ہو جائے تو پھر غریب ہی مظالم کا نشانہ بناتی ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں غریب کیلئے کوئی فلاح، کوئی آسودگی نہیں ہے۔ اس نظام نے آبادی کی اکثریت کو ایسی کیفیت میں ڈال دیا گیا ہے جہاں وہ بھوک سے تڑپیں، بیروزگاری سے گھائل اور لوڈ شیڈنگ سے ذلیل ہوں، علاج کو ترسیں اور تعلیم سے نا آشنا رہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کا یہ بحران تہذیب اور معاشرے کیلئے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ لیکن ایسا کب تلک چلے گا؟محنت کرنے والے کب تک یہ برداشت کرینگے؟اور ایسا کب تک ہوگا؟ سیاحتی مقامات پر جنگلات کی کٹائی کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو سال دو میں سیاحتی مقامات چٹیل میدان میں تبدیل ہوجائیں گے۔
درونِ خانہ۔۔۔ شوق موسوی
ملک پاکستان کا نظم و نسق اچھا ہوا
کہتے ہیں بہتر ہے یہ سرمایہ کاری کیلئے
دوسروں کے واسطے جو آپ کی تلقین ہے
مشورہ بیٹوں کو دیں یاں کاروباری کیلئے