- الإعلانات -

معاشی ترقی کیلئے ملکوں کے درمیان تعاون ضروری

وزیراعظم نے ہانگ کانگ میں سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی ملک پاکستان میں سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع سے پیچھے نہیں رہ سکتا‘ پائیدار ترقی کے لئے ملکوں کے درمیان تعاون ناگزیر ہے‘ ہمیں ملکوں کے درمیان تعاون کے خلاف صنفی پروپیگنڈے کے خلاف آواز بلند کرنی ہے‘ پائیدار ترقی کے باعث پاکستان کا شمار 25 بہترین معیشتوں میں ہوگا‘ حکومت نے سرمایہ کار دوست ماحول کے لئے جامع پلان بنایا ہے‘ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے سرمایہ کار پالیسیوں کو لبرلائیز کیا گیا ہے‘ سرمایہ کاری کو مکمل قانونی تحفظ حاصل ہے‘ آج کا پاکستان پراعتماد اور سرمایہ کاری کے لئے تیار ہے‘ عالمی اداروں نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں اضافہ کیا ہے‘ سی پیک ون بیلٹ ون روڈ کا اہم حصہ ہے‘ سی پیک کے ذریعے مسافتیں کم ہوں گی اور دنیا کے براعظم ایک دوسرے کے قریب آئیں گے‘ سی پیک سے وسط ایشیاء اور یورپ تک رسائی ملے گی‘ پاکستان میں سی پیک کے تحت 9خصوصی اقتصادی زونز قائم کئے جارہے ہیں۔ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ آج کا پاکستان پراعتماد اور سرمایہ کاری کے لئے تیار ہے۔ پاکستان ابھرتی ہوئی معیشت ہے ۔ہماری پہلی ترجیح معاشی استحکام تھا۔ 2013 سے پہلے جی ڈی پی کی شرح تین فیصد تھی رواں مالی سال جی ڈی پی کی شرح 5 فیصد ہے جس میں آئندہ دو سال میں مزید اضافہ ہوگا۔ پاکستانی معیشت میں اصلاحات لانے کے لئے متعدد اقدامات کئے۔ بجٹ خسارے میں کمی اور زرمبادلہ کا ذخائر میں اضافہ ہوا ہے۔عالمی اداروں نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں اضافہ کیا ہے۔ پاکستان میں ترقی کی رفتار کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں پاکستان کا محل وقوع اہمیت کا حامل ہے۔ سی پیک ون بیلٹ ون روڈ کا اہم حصہ ہے سی پیک کے ذریعے مسافتیں کم ہوں گی اور دنیا کے براعظم ایک دوسرے کے قریب آئیں گے۔ سی پیک سے وسط ایشیاء اور یورپ تک رسائی ملے گی۔ پائیدار ترقی کے لئے ملکوں کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔ پاکستان میں اتنی بڑی سرمایہ کاری تاریخی اور بے مثال ہے۔ معاسی ترقی کے باعث عوام کا معیار زندگی بلند ہورہا ہے۔ ہمیں ملکوں کے درمیان تعاون کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے خلاف آواز بلند کرنی ہے ۔ وزیراعظم نے ہانگ کانگ کو تجارت اور معاشی سرگرمیوں کا حب بنانے کے لئے کیری لام کی کوششوں کو سراہا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیری لام نے کہا کہ پاکستان اور ہانگ کانگ کے درمیان عوام کے باہمی رابطوں کے ذریعے گہرے تعلقات ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان اور ہانگ کانگ کے تعلقات مستقبل میں مزید مضبوط ہوں گے۔ ملاقات میں وزیر تجارت خرم دستگیر ‘ چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ مفتاح اسماعیل‘ چائنہ میں پاکستان کے سفیر خالد مسعود بھی موجود تھے۔وزیراعظم نے بجا فرمایا پاکستان میں سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع ہیں اور پائیدار ترقی اسی وقت ممکن ہوسکتی ہے جب ملکوں کے درمیان خوشگوار تعلقات ہوں۔ اب وقت کا یہ تقاضا اور ضرورت ہے کہ ملکوں کے مابین تعاون کیخلاف پروپیگنڈے کو روکنا ہوگا اور اس منفی رجحان کا دم توڑنا ہوگا تب جاکر ملکوں کے درمیان روابط اور ترقی کی راہیں ہموار ہوسکتی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کی معیشت متحرک اورسرمایہ کاری کیلئے ساز گار ہے۔ پاکستان کوکئی چیلنجز کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود سرمایہ کاری کی منزل بن رہا ہے۔ غیر ملکی سرمائے کیلئے کوئی شرط نہیں۔ سرمایہ کار سوفیصد منافع بیرون ملک منتقل کرسکتے ہیں ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سیاسی استحکام کیلئے اقدام کرے تاکہ ملک میں ترقی اور خوشحالی کی رفتار میں تیزی آئے معیشت مستحکم ہویہی وقت کا تقاضا ہے۔معاشی ترقی کے لئے ملکوں کے درمیان تعاون انتہائی ضروری قرار پاتا ہے ۔ پاکستان اس سلسلے میں جو کردار ادا کررہا ہے اس کے دوررس نتائج برآمد ہونگے۔مستحکم معیشت ہی کسی ملک کی ترقی اور خوشحالی کا باعث قرار پاتی ہے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ ملکوں کے درمیان خوشگوار تعلقات ہوں تاکہ سرمایہ کاری فروغ پاسکے۔
سفارتکاروں کے اغواء پر پاکستان کا احتجاج
پاکستانی سفارتخانے کے دواہلکاروں کو گاڑی سمیت اغواء کے بعد پاکستان نے افغان ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی کی اور شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ۔ اغواء ہونے والوں میں ویزا اسسٹنٹ حسن خانزادہ اور انکے ڈرائیور منیر شاہ شامل ہیں۔بعد ازاں افغان انٹیلی جنس نے پاکستانی عملے کو تین گھنٹے بعد چھوڑ دیا۔اس دوران این ڈی ایس کے اہلکار وں نے پاکستانی سفارتی عملے کو دوران حراست ہراساں بھی کیا ۔ اس سے قبل کابل میں پاکستانی سفارتخانے کے 2 نمائندوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں اور ذرائع نے دعوی کیا تھا کہ دونوں نمائندے مبینہ طور پر ڈی این ایس کے پاس ہیں۔ جس کے بعد دونوں اہلکاروں کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے پاکستانی سفارتخانے نے افغان حکام سے رابطہ کیا۔پاکستانی سفارتکاروں کا اغواء اس امر کا عکاس ہے کہ افغان حکومت پاکستان کے ساتھ مخلص نہیں پاکستان تو افغانستان کو مستحکم دیکھنے کا خواہاں ہے اور چاہتا ہے کہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو لیکن افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونا باعث تشویش ہے ۔ افغان حکومت ہوش کے ناخن لے اور دہشت گردوں کی آماجگاہوں کو ختم کرے اور پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات خوشگوار بنائے یہی دونوں ملکوں کیلئے سود مند ہے ۔ افغانستان کو بھارت کا آلہ کار نہیں بننا چاہیے۔ پاک افغان تعلقات بہتر ہونے چاہئیں تاکہ مکار دشمن اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہ ہو۔ دہشت گرد مشترکہ دشمن ہیں ان کیخلاف مل جل کر اقدام اٹھانا ہی وقت کا تقاضا ہے۔ پاک افغان تعلقات کو جتنا جلد ممکن ہو خوشگوار بنایا جائے اور دونوں ملکوں کے درمیان پائے جانے والی غلط فہمیوں کو دور ہونا چاہیے ۔
دہشت گردوں کو پھانسی
فوجی عدالت سے سزا یافتہ چار مزید دہشت گردوں کو خیبرپختونخواہ جیل میں پھانسی دے دی گئی یہ خطرناک دہشت گرد سیکورٹی فورسز اور تعلیمی اداروں پر حملوں میں ملوث تھے جنہوں نے مجسٹریٹ کے روبرو اقبال جرم کیا ۔ پھانسی پانے والوں میں ابراہیم، رضوان ، سردار علی اور شیر محمد شامل ہیں ۔ فوجی عدالتوں کے دوررس نتائج برآمد ہورہے ہیں اور دہشت گرد اپنے کیے کی سزا بھگت رہے ہیں ۔ دہشت گردی کے خاتمے میں فوجی عدالتیں ممدومعاون ثابت ہورہی ہیں اور انسانیت کے دشمن اپنے بھیانک انجام کو پہنچ رہے ہیں۔ دہشت گردی کی اجازت دنیا کا کوئی مذہب نہیں دیتا ۔ اسلام تو ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے یہ کیسے طالبان ہیں جو معصوم شہریوں کو دھماکوں سے اڑا رہے ہیں۔ دہشت گردی کا قلع قمع کیے بغیر ملک میں امن قائم نہیں کیا جاسکتا ۔ اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے آپریشن ردالفساد جاری ہے اس سے قبل ضرب عضب نے دہشت گردوں کی کمر توڑی اب رہی سہی کسر جاری آپریشن سے نکل رہی ہے دہشت گرد ملک و قوم کے دشمن ہیں ان کو ختم کیے بغیر ملک میں نہ امن قائم ہوسکتا ہے اور نہ ترقی و خوشحالی آسکتی ہے۔