- الإعلانات -

افغان بھارت گٹھ جوڑ پاکستان کے لئے خطرناک

ترجمان دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے کہا کہ پاکستان نے بلوچستان و فاٹا میں بھارت کی مداخلت اور تحریک طالبان پاکستان کی مدد کے بارے میں تین ڈوزیئر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے حوالے کئے ہیں۔ اب یہ ثبوت امریکہ کو دیئے جائیں گے۔ بھارت کی طرف سے پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات ہمیشہ جھوٹے نکلے۔ عالمی برادری جانتی ہے کہ بھارت کے ریاستی ادارے ہمسایہ ممالک اور پاکستان میں عدم استحکام کا شکار کرنے اور دہشتگردی پھیلانے میں ملوث ہیں۔
تازہ صورتحال یہ ہے کہ نئی دہلی میں رہنے والا افغان شہری آزاد بلوچستان کے لئے رائے عامہ ہموار کر رہا ہے جو کہ بھارتی حکومت کی پشت پناہی کے بغیر ممکن نہیں۔ پارولی نامی افغان شہری کا معاملہ افغانستان کی حکومت سے اٹھایا گیا ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ افغان حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ بھارت میں بسنے والا اس کا شہری پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا نہ دے سکے۔بھارت اپنی سرزمین پر دہشت گردی کے واقعات کا ڈرامہ رچا کر پاکستان کو بدنام کرتا ہے۔ بھارت کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنی چاہیے۔پاکستان پر عسکریت پسندوں کی حمایت کا افغان الزام بے بنیاد ہے۔ اپنی سرزمین افغانستان سمیت کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کیلئے پرعزم ہیں۔ پارولی نامی شخص افغان باشندہ ہے۔ افغان حکومت سے توقع ہے کہ وہ یہ معاملہ بھارت کے سامنے اٹھائے گی۔
وزیراعظم نوازشریف نے چند روز قبل کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں مذاکرات کیلئے کوششیں کر رہا ہے۔ پاکستان افغانستان میں امن و سلامتی کی حمایت کرتا ہے اور پاکستان نے مذاکرات کے پہلے دور میں سہولت دی اور اگر افغانستان کی خواہش ہو تو دوسرے دور میں مدد کیلئے تیار ہے۔ افغانوں کے درمیان مذاکرات افغانستان میں پائیدار امن کیلئے آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔افغانستان کے یہ الزامات بے بنیاد ہیںکہ پاکستان افغان طالبان کی مدد کر رہا ہے۔ کابل کے امور میں عدم مداخلت پاکستانی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے۔
بھارت پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے ہر حربہ آزماتا ہے۔ افغانستان کے ذریعے بلوچ علیحدگی پسندوں کی مالی اور اسلحی مدد کی جاتی ہے۔ افغانستان میں بھارت کے قونصل خانے دہشتگردوں کی تربیت کا کام کرتے ہیں۔ کراچی میں بھارت کی مداخلت ثابت ہو چکی ہے پاکستان نے بھارت کی پاکستان میں دہشتگردوں کی پشت پناہی کے ثبوت اقوام متحدہ کو پیش کر دیئے ہیں۔ بھارت کالاباغ ڈیم کی مخالفت کیلئے ہر سال فنڈز مختص کرتا ہے۔ پاک چین راہداری کیخلاف ”را“ بھی متحرک ہو چکی ہے۔ بھارت پاکستان کیخلاف وسیع نیٹ ورک کے ساتھ مصروف عمل ہے۔بھارت بے شک کراس بارڈر دہشت گردی کا پروپگنڈا کرتا رہے مگر شواہد اس کے برعکس ہیں۔ بھارت و پاکستان کی ہی نہیں بلکہ دنیا اور خطے کی بھی یہ کم نصیبی ہے کہ بھارت کا وزیراعظم ایک ایسا شخص ہے، جو دنیا کا تسلیم شدہ انتہا پسند اور دہشت گرد ہے۔ ایسے آدمی سے خیر کی توقع کیا ہے؟
بھارتی و افغان خفیہ ایجنسیاں مل کر پاکستان کے اندر دہشت گردی کروا رہی ہیں۔ شاطر بھارت نے افغانستان کے ساتھ مل کر پاک افغان سرحد کے قریب فرقہ وارانہ دہشت گردی کے لئے ٹریننگ کیمپ بنائے۔ شدت پسند مذہبی گروہوں کے جنگجو دہشت گردوں کو نہ صرف دہشت گردی کی ٹریننگ دی بلکہ انھیں ٹارگٹ بھی دیئے گئے۔ہم نے سوات میں ملا صوفی محمد اور مولوی فضل اللہ جیسے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا۔ مگر افغان حکومت نے انہیں پناہ دی۔
سانحہ پشاور کے بعد افغان صدر کو بتایا گیا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی نہ صرف افغانستان میں ہوئی بلکہ ہمارے مجرم بھی افغانستان میں پناہ گزین ہیں، انھیں فوراً ہمارے حوالے کیا جائے۔ افغان صدر نے وہی سفارتی جوابات دیا کہ ہم اپنی سرزمین کسی بھی ملک اور بالخصوص برادر اسلامی ملک پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ یہ مگر سفید جھوٹ ہے۔پاکستان کے اندر فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینے کے لئے جو آگ برساتی ہوائیں آئیں، وہ افغانستان سے ہی آئی ہیں۔ پاکستانی ریاست کے مخالف عناصر دھائیوں سے افغانستان میں نہ صرف پناہ گزین ہیں بلکہ وہاں انھیں باقاعدہ دہشت گردی کی ٹریننگ بھی دی جاتی ہے۔ افغان صدر ایک طرف کہتے ہیں کہ ہم اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے تو دوسری طرف ملا فضل اللہ کو پناہ دینے سے لے کر سپاہِ صحابہ، لشکر جھنگوی اور بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ افغانستان ہی رہی، اب بھی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ سانحہ بڈھ بیر حملے میں ملوث دہشت گرد ماسٹر مائنڈ کا تعلق افغانستان سے ہے۔جس کا سراغ لگا لیا گیا وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ افغان حکام کو یہ شواہد دیں گے کہ سرغنہ افغانستان میں تھا، ہم نے اپنی طرف کو کنٹرول کیا ہے، جنگجو دوسری طرف ہیں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ آج کل افغان صدر اشرف غنی کے منہ میں موددی کی زبان ہے؟ افغانستان یا بھارت میں پٹاخہ بھی پھٹ جائے تو بلا جھجک دونوں ممالک الزام پاکستان پر لگا دیتے ہیں، مگر افغانستان یہ بھول جاتا ہے کہ لاکھوں افغانیوں کو پاکستان نے اپنے ہی شہریوں کی طرح کی سہولیات دے رکھی ہیں؟ پاکستان کے شہر کراچی سے لے کر کوئٹہ تک اور کوئٹہ سے لے لاہور و پشاور سمیت ہر بڑے شہر میں ہونے والی دہشت گردی کی واردات کے تانے بانے ”را اور افغان خفیہ ایجنسی“ سے جا کر ملتے ہیں۔ طے شدہ بات تو یہی ہے کہ کئی ایک خطرناک دہشت گردوں نے پاکستان میں دہشت گردی کے لئے دہشت گردوں کو افغانستان میں ٹریننگ دی، جبکہ را نے مالی و تکنیکی معاونت کی۔بے شک پاک افغان بارڈر طویل ہے، مگر پاکستان اب ڈرون بنا چکا ہے، اسے مزید بہتر کرکے پاک افغان سرحدی نقل و حرکت کو بہتر کیا جاسکتا ہے۔ ہماری پہلی ترجیح بھارت اور افغانستان کا پاک مخالف مکروہ گٹھ جوڑ توڑنا ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہے، جب دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ شہروں میں چھپے دہشت گردوں کے وائٹ کالر ہمدردوں پر بھی ہاتھ ڈالا جائے۔ پوری قوم پاک فوج کے ساتھ ہے اور ملک میں امن چاہتی ہے۔ پاک فوج پاکستانی عوام کی مدد اور حمایت سے مٹھی بھر دہشت گردوں اور ان کے وائٹ کالر ہمدردوں کو ناکوں چنے چبھوا دے گی۔