- الإعلانات -

افغانستان کا استحکام ہی پاکستان کا استحکام

پاکستان اور افغانستان اےک اےسے مضبوط رشتے مےں بندھے ہوئے جسے دنےا بھائےوں کے رشتے سے تعبےر کرتی ہے ماضی مےں بھی اور آج بھی پاکستانی افغانوں کو اپنا بھائی سمجھتے ہےں لےکن ہمارے افغانی بھائی غےروںکی سازشوں کا شکار ہو کر آج پاکستان کو ناصرف بدنام کر رہے ہےں بلکہ وہ غےروں کا آلہ کار بن کر ہمےں کمزور کرنے کی سازش مےں پےش پےش ہےں۔ دونوں ملک اس حد تک ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں کہ ان کے داخلی معاملات بھی ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہی ےہی وجہ ہے کہ پاکستان 35 سال سے افغانستان کے لئے قربانیاں دے رہا ہے۔تارےخ گواہ ہے کہ جب بھی افغانستان پر کڑا وقت آےا پاکستان نے اس کی بھر پور مدد کی پاکستان آ ج بھی لاکھوں افغانےوں کی محفوظ پناہ گاہ ہے جنھےں اس وقت پاکستان نے پناہ دی جب پوری دنےا ان سے نظرےں پھےرے ہوئے تھی ۔افغانستان اب اگر ترقی کی راہ پر گامزن ہے تو بلا شبہ اس کی ترقی مےں پاکستان اےک معاون کا کردار ادا کر رہاہے خطے کے دےگر ممالک کی نسبت پاکستان افغانستان کے لئے لازم و ملزوم ہے کےونکہ افغانستا ن کی جغرافےائی حالت اےسی ہے کہ اسے ہر جگہ پاکستان کی ضرورت پڑتی ہے ان تمام باتوں کے باوجود افغانستان پاکستان کی طرف سے اپنا ذہن صاف نہےں کر سکا اس کی دو وجوہات ہےں اےک تو ہمارا پڑوسی بھارت جس کے وہاں پر اپنے مفادات ہےں جو ےہ کھبی بھی نہےں چاہتا کہ افغانستا ن اور پاکستان ماضی کی طرح اسی محبت اور بھائی چارے کے رشتے مےں بندھ جائےں دوسرا وہ افغانستان مےں بےٹھ کر پاکستان کو کنٹرول کرنے کے خواب دےکھ رہا ہے انھےں حالات کو سامنے رکھتے ہوئے بھارت وہاں بڑے بڑے پروجےکٹس مےں سرماےہ کاری کر رہا ہے تاکہ افغانوں کے دلوں مےں اپنے لئے دوستی اور محبت کا رشتہ پروان چڑھا کر وہ اپنے مذموم مقاصد کی تکمےل کر سکے اس مےں افغانی مےڈےا اس کا آلہ کار بنا ہوا ہے ا فغان میڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ مہم زوروں پر ہے کوئی بھی واقعہ ہوجائے بھارت کی طرح افغان مےڈےا بھی کہےں کہ کہےں سے اسے پاکستان سے جوڑ ہی لےتا ہے اےسی خبرےں دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی فضا کو بری طرح متاثر کرتی ہیں اور مفاہمت کی کوششوں پر منفی انداز سے اثر ڈالتی ہیں پاکستان کے خلاف وال چاکنگ ، مےڈےا پروپگنڈا سمیت نفرت پھیلانے کی جو مذموم کارروائیاں ایک منظم مہم کے انداز میں چلائی جارہی ہیں ےہ سب اسی ہندو کی سازش ہے بھارت ےہ نہےں جانتا کہ آخر کار افغانستان کو ہی اپنی ترجیحات اور آئندہ کے راستے کا تعین کرنا ہے جس کے لئے اسے ہر حال مےں پاکستان کی ضرورت ہے۔ افغانستان مےں چونکہ طالبان کا اےک لمبے عرصے تک اثر رسوخ رہا ہے اور اب بھی بعض علاقے ان کی عملداری مےں ہےں اےسے مےں اگر افغان طالبان کی طرف سے افغان حکومت کے خلاف کوئی زمےنی کاروائی کی جاتی ہے جس مےں کچھ علاقوں پر قبضہ کر لےا جاتا ہے تو افغانستان خواہ مخوہ کسی کہ کہنے پر اس مےں پاکستان کو گھسےٹ کر لے آتا ہے حالانکہ دنےا جاتی ہے کہ ےہ مسائل طالبان اور افغان حکومت کا اندرونی معاملہ ہےں اےسے مےں اگر افغان حکومت اےسے سوچتی ہے تو ا س سے باہمی برادرانہ تعلقات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے واقع قندوز جو کہ افغان سےکےورٹی کا لےپس کہا جائے ےا سےکےورٹی فورسسز کی ناکامی واقعے کے چند دن بعد اس کو پاکستان سے جوڑنا کسی بھی طور پر درست نہےں ہے اےسے مےں جب پاکستان مےں آپرےشن ضرب عضب اپنی پوری شدو مد سے جاری ہے اور قوی امےد ہے کہ اس سے ناصرف پاکستان بلکہ افغانستان مےں دہشت گردی ختم کرنے مےں بھر پور مدد ملے گی افغانستان کی طرف سے اےسے بے ڈھنگے الزامات سے ان اقدامات کو نقصان پہنچ سکتاہے جن کی وجہ سے آج خطہ دہشت گردی سے پاک ہو نے جا رہا ہے پاکستان اور افغانستان مےں ماضی مےں بھی کئی بار ےہ طے ہوا ہے کہ اےسی کوئی غلط فہمی ہوئی تو براہ راست رابطوں کے ذریعے اسے دور کرنے کی کوشش کی جائے گی مگر اس کے برعکس اےسے معاملات کو میڈیا کے ذریعے اچھالا جاتا ہے اور بات کا بتنگڑ بناےا جاتاہے میڈیا کے ذریعے شکایات اور الزامات کا طریقہ کار ہرگز دوستوں کے درمیان نہیں ہوتا یہ طریقہ کار وہاں اختیار کیا جاتا ہے جہاں رنجش ہوتی ہے اور معاملات کو اچھالنا اور کشیدگی پیدا کرنا مقصود ہوتا ہے پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی تعلقات میں ہرگز رنجش نہےں ہے کہ میڈیا کا سہارا لیا جائے اور معاملات کو بگاڑ کی طرف لے جاےا جائے ۔ےہ بات دونوں ملکوں کو ےاد رکھنی چاہےے کہ کچھ دوست نماءدشمن ہےں جوافغان دوستی کا دم بھرتے ہےں لےکن در پردہ افغانستان اور پاکستان مےں دراڑ ڈالنے کی کوشش مےں ہےں بہرحال یہ امر خوش آئند ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات کی ضرورت کا احساس کیا جا رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کسی بھی واقعہ کی صورت میں ایک دوسرے کے خلاف الزامات اور بیان بازی سے گریز کیا جائے گا اور براہ راست ملاقاتوں اور رابطوں کے ذریعے کسی قسم کی غلط فہمی اور ابہام کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی جہاں تک افغانستان کی بہتری کا تعلق ہے پاکستان اس کے لئے بھرپور کوششیں کرنے کا عزم رکھتا ہے افغان عوام کی طرح پاکستانی عوام کی بھی یہی خواہش ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام ہو کیونکہ افغانستان کا استحکام ہی دراصل پاکستان کا استحکام ہے۔