- الإعلانات -

مودی کے منہ پر کالک

بھارت میں اس وقت عملی طور پر شیوسینا حکومت ہے ۔دراصل وہ سیاہی پھینک کر مسلمانوں کا منہ کالا نہیں کررہے بلکہ یہ تمام تر کالک مودی کے منہ پر ملی جارہی ہے ۔پوری دنیا اس وقت اس نام نہاد بڑھی جمہوریت والے ملک کا مکروہ چہرہ دیکھ چکی ہے کہ اس وقت وہاں پر صرف مسلمان ہی نہیں ہر اقلیت عتاب کے زیر اثر ہے ۔کھیل ہویا کوئی کلچرل پروگرام یا پھر ادبی پروگرام ہر میدان میں شیوسینا ہی شیوسینا نظر آرہی ہے ۔مودی کی آشیرباد کی وجہ سے یہ تعصب پسند ہندو بالکل ہی پاگل ہوچکے ہیں ۔بھارت کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف جارحیت واضح ہوکر سامنے آ رہی ہے ۔گذشتہ روز مقبوضہ کشمیر کے مسلمان رکن اسمبلی انجینئر رشید پریس کانفرنس کے بعد ہال سے باہر آ رہے تھے کہ گیٹ پر انتہا پسندوں نے حملہ کر دیا۔انتہا پسندوں نے انجینئر رشید پر سیاہی پھینک دی اور تشدد کا نشانہ بھی بنایا ، اس موقع پر پولیس خاموش تماشائی بنی رہی جب انتہا پسند حملے کے لیے آگے بڑھے تو ان کو نہ روکا گیا۔صحافیوں نے آگے بڑھ کر انجینئر رشید کو بچایا اور ہال کے اندر لے گئے جبکہ پولیس صرف خاموشی سے سارا تماشا دیکھتی رہی۔واضح رہے کہ انجینئر رشید کو اس سے قبل بھی بی جے پی کے انتہا پسندوں نے اسمبلی میں تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔بات صرف یہاں تک ہی نہیں ٹھہری انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بھارتی شدت پسند تنظیم شیو سینا کی دھمکیوں کے بعد علیم ڈار کو امپائرنگ سے ہٹا دیا ہے۔آئی سی سی نے پاکستانی امپائر علیم ڈار کو جنوبی افریقا اور بھارت کے درمیان جاری سیریز کیلئے منتخب کیا تھا۔ علیم ڈار اب اس سیریز میں امپائرنگ نہیں کر سکیں گے کیونکہ آئی سی سی نے خود ہی انھیں شیو سینا کی دھمکیوں کے بعد سیریز سے ہٹا دیا ہے۔ واضع رہے کہ بھارت کی انتہا پسندءہندو تنظیم شیو سینا نے دھمکی دی تھی کہ علیم ڈار کو بھارت اور جنوبی افریقا کے درمیان آخری ون ڈے میں امپائرنگ نہیں کرنے دی جائے گی۔ بھارت اور جنوبی افریقا کا پانچواں ون ڈے پچیس اکتوبر کو ممبئی میں شیڈول ہے۔ علیم ڈار بھارت میں 2011ء کا ورلڈ کپ بھی سپروائز کر چکے ہیں۔ بی سی سی آئی نے آئی پی ایل میں بھی تجربہ کار امپائر کی خدمات سے استفادہ کیا تھا۔اس پر مزید سونے پر سہاگہ یہ کہ بھارت نے خود چیئرمین پی سی بی شہریار خان اور نجم سیٹھی کو دعوت دیکر بھارت بلایا کہ پاکستان اوربھارت کے درمیان کرکٹ میچز کے حوالے سے بات کی جاسکے لیکن یہ دونوں جب وہاں پر پہنچے تو ایسے لگا کہ شیوسینا کے کارندے پہلے سے ہی تیار کھڑے تھے وہاں پر انہوں نے ہلڑ بازی مچائی ۔پاکستان کیخلاف نعرے لگائے اوریہ ملاقات بھی منسوخ کرا دی ۔یہ بات تو کسی حد تک سمجھ میں آتی ہے کہ بھارت نے پہلے دن سے ہی پاکستان کو دل سے قبول نہیں کیا اور شروع ہی سے پاکستان اس کی آنکھوں کھٹکتا رہتا ہے مگردیگر ممالک کے کرکٹ میچز کے دوران بھی ان انتہاپسند ہندوﺅں نے ساﺅتھ افریقہ کے کھلاڑیوں پر بوتلیں پھینکیں ان کامیچ خراب کیا ۔سکھوں کی مذہبی کتاب کی بے حرمتی کی ۔مگر نامعلوم کیوں ابھی تک دنیا کی آنکھیں بند ہیں ۔انسانی حقوق کی تنظیمیں کہاں سوئی ہوئی ہیں ۔انہیں کچھ بھی نہیں نظر آرہاکہ بھارت میں کس طرح سرعام انسانی حقوق کو پامال کیاجارہا ہے ۔مگر کوئی بھی آواز اٹھانے والا نہیں جس دن سے نریندر مودی نے اقتدارسنبھالا ہے ۔اسی دن سے وہاں پر ہندو انتہاپسندوں نے اندھیرنگری مچا رکھی ہے ۔گاﺅ ماتا کے سلسلے میں تو وہ بالکل ہی حدیں کراس کرچکے ہیں۔گائے کا گوشت کھانا تو درکناراگرکوئی مسلمان گائے لیکر بھی جارہا ہو تواس پربھی تشدد کیا جاتا ہے ۔اب تو آن لائن گائے کا گوبر بھی بھارت میں فروخت کیاجارہا ہے اوراس کے صارفین میں دن بدن میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔بھارت کے ماہرین نے حکومت کو یہ مشورہ دیا ہے کہ اگر گائے کا گوبر اسی تیزی سے فروخت ہوتا رہا تو بیرونی دنیا سے مزید گائےں منگوانا پڑیں گی ۔ایک اورواقعہ درپیش آیا کہ جب کچھ پاکستانی وہاں پر اپنے خاندان کے ہمراہ گئے تو کسی بھی ہوٹل میں انہیں جگہ نہ ملی اورانہوں نے معصوم بچوں کے ہمراہ ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر رات گزاری ۔آخر بھارت کیا دکھاناچاہتا ہے ۔وہ دنیا کو کیاباورکرانا چاہتا ہے ۔پاکستان اس کے اعصاب پر سوار ہے ،مودی ہر روز اپنا ہی منہ کالک سے کالا کررہا ہے ۔دراصل اس کو پتہ چل چکا ہے کہ اب بھارت کی شکست وریخت کا وقت آن پہنچا ہے ۔وقت نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ بھارت ٹوٹے گا وہاں پر خالصتان بھی بنے گا اور دیگر اقلیتیں بھی ابھر کر اس بھارت کو ٹکڑے ٹکڑے کردیں گی ۔اس میںاہم کردار مودی ادا کررہا ہے ۔جس نے آگے شیوسینا کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے ۔کیا یہ دہشتگردی نہیں تو کیا ہے ۔مسلمان بھارت میں سب سے بڑی اقلیت ہے اور اس کے باقاعدہ حقوق ہیں جن کو غصب کیا جارہا ہے مگر بین الاقوامی سطح پر کوئی آواز اٹھانے والا نہیں ہر صرف سے بھارت کو سبکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔مقبوضہ کشمیر جہاں اس نے ظلم وبربریت کے پہاڑ توڑ ڈالے ہیں وہاں پر بھی آئے دن جو بھی مظاہرے ہورہے ہیں ان میں سبزہلالی پرچم لہرایا جاتا ہے جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیریوں کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور کشمیر پاکستان کااٹوٹ انگ ہے اوراس شہ رگ کو کسی صورت بھی پاکستان سے الگ نہیں کیا جاسکتا ۔آخر کار بھارت طاقت کے بل بوتے پر کب تک ظلم ڈھاتا رہے گا ۔مودی کے اقدام سے بھارت کا مکروہ چہرہ قطعی طور پر واشگاف ہوچکا ہے ۔