- الإعلانات -

عالمی عدالت انصاف نے انصاف کا گلا گھونٹ دیا

پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے 3 مارچ 2016کو بلوچستان سے بھارتی خفیہ ایجنسی راء کے ایک ایجنٹ کو گرفتار کیا جو کہ پاکستان میں بالخصوص بلوچستان اور کراچی میں دہشتگردی پھیلانے میں مصروف عمل تھا۔اس بھارتی خفیہ ایجنسی کے ایجنٹ کا نام کلبھوشن یادیو ہے اور یہ بھارتی نیوی کا حاضر سروس کمانڈر ہے،بقول کلبھوشن یادیو وہ بھارتی نیوی کے ٹیکنیکل ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھتا ہے۔کلبھوشن یادیو کے والد کا نام سدھیر یادیو ہے جو کہ ممبئی پولیس کے اسٹنٹ کمشنر رہ چکے ہیں اور وہ 2008میں ریٹائر ہوئے تھے۔یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ کلبھوشن یادیو کے چچا جن کا نام سبھاش یادیو ہے2002میں بندرا پولیس اسٹیشن کے انچارج تھے جن کی موجودگی اور رضامندی سے بھارتی مسلمان اداکار سلمان خان کیخلاف ہٹ اینڈ رن کیس رجسٹر کیا گیا تھا۔کلبھوشن یادیو نے ایک اپنے اصلی نام سے جبکہ دوسرا پاسپورٹ حسین مبارک پٹیل کے نام سے بنوا رکھا تھا جس کے ذریعے وہ پاکستان میں بدامننی اور دہشتگردی جیسے گھناؤنے اور انسانیت سوز جرائم کرتا تھا۔کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد پاکستان میں کلبھوشن کیخلاف پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا گیا اور ایک سال بعد 10اپریل2017کو پاکستان کی فوجی عدالت نے کلبھوشن کو سزائے موت سنا دی۔پاکستان نے سفارتی سطح پر بھارت سے متعدد بار مطالبہ کیا کہ ہمیں کلبھوشن یادیو کے حوالے سے تحقیقات میں مدد فراہم کی جائیں لیکن بھارت نے مسلسل چپ سادھے رکھی اور حتیٰ کہ یہاں تک بھی کہا کہ کلھبوشن بھارتی نیوی کا آفیسر نہیں ہے اور نہ ہی اس معاملے پر بھارت نے کسی بھی سطح پر پاکستان کی مدد کی کیونکہ اگر بھارت پاکستان کی مدد کرتا تو اصولی طور پر بھارتی خفیہ ایجنسی راء کے جوائنٹ سیکرٹری انیل گپتا تک پاکستان کو رسائی دیتا تاکہ دنیا میں بدامنی کا سبب بننے والے عناصر کو جڑ سے پکڑا جاسکتا لیکن یہا ں یہ بات واضح ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی راء کے پاکستان مخالف عزائم کو بھارتی حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے اور مسلسل رہی ہے۔کشمیر میں انسانیت سوز مظالم ڈھانے والا بھارت اس وقت تلملا اٹھا جب پاکستان نے کلبھوشن کو سزائے موت سنائی اور ایسا تلملایا کہ کل تک کلبھوشن کو پہچاننے سے انکار کرنے والا بھارت نے ایک دم ایسا یو ٹرن لیا کہ یو ٹرن کی تمام حدین ہی پار کر ڈالیں اور کلبھوشن کو قوم کا بیٹا ہی کہ دیاقطع نظر اس کے کہ کلبھوشن انسانیت کا قاتل ہے بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ بھارت نے کلبھوشن کی سزائے موت پر عمل کرنے پر پاکستان کو دبے الفاظ میں دھمکی ہی دے دی،اس کے بعدبھارت نے کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی کیلئے درخواست دی لیکن وہ بھی محض اس لئے کہ ایک رسم پوری کر لی جائے کیونکہ بھارت اپنے ماضی کے کالے کرتوتوں بارے اچھی طرح سے واقف تھا اور اسے اپنا انجام بھی نظر آ رہا تھا۔جب پاکستان نے بھارت کو کلبھوشن تک قونصلر رسائی دینے سے انکار کیا تو بھارت کو عالمی عدالت انصاف یاد آ گئی جہاں سے وہ کئی بار دم دبا کر بھاگ چکا ہے۔اسکے بعد بھارت 9مئی2017 کو عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کی پھانسی رکوانے کیلئے درخواست دائر کر تا ہے لیکن ساتھ ہی بھارتی میڈیا کو یہ بریف کیا جاتا ہے کہ عالمی عدالت انصاف نے بھارتی درخواست پر کلبھوشن کی پھانسی پر حکم امتناع جاری کر دیا حالانکہ اس وقت یہ سرا سر جھوٹ پر مبنی پراپیگنڈہ لگ رہا تھا۔عالمی عدالت انصاف نے فوری طور پر بھارتی درخواست کو سماعت کیلئے منظور کیا اور15مئی 2017تاریخ مقرر کر دی جو کہ انصاف کا گلا دبانے کی جانب پہلا قدم تھا۔ساری دنیا جانتی ہے کہ سماعت کے دوران بھارتی دلائل انتہائی کمزور تھے جس کا عدالت نے اعتراف بھی کیا جبکہ دوسری جانب پاکستانی دلائل مضبوط،ٹھوس اور ثبوتوں کی بنیاد پر تھے لیکن اس کے باوجود شائد عالمی عدالت نے دنیا کے سامنے ایکسپوز ہونا تھا اسی لئے سب کچھ بہت تیزی کیساتھ کیا جا رہا تھا یا ہو رہا تھا۔پہلی سماعت کے محض دوروز بعد تیسرے دن بھارتی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان کو کلبھوشن کی پھانسی روکنے کا حکم جاری کر دیا جاتا ہے۔اگر اتنی بات ہوتی تو بھی اپنے دلوں کو جھوٹے دلائل دیکر ہم سمجھا لیتے کہ عالمی عدالت انصاف میں بیٹھے لوگ غیرجانبدار ہیں ججز نے جو بہتر محسوس کیا وہ فیصلہ دیا لیکن مکمل طور پر یکطرفہ فیصلے نے یہ واضح کر دیا کہ عالمی عدالت انصاف زیردباؤ تھی۔کلبھوشن جب ایک آرمی آفیسر ہے تو پھر اسکو کیسے ایک قونصلر رسائی دی جا سکتی ہے تو پھر عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن تک بھارت کو قونصلر رسائی کی اجازت کا فیصلہ کیوں سنایا۔کلبھوشن یادیو ایک دہشتگرد ہے اور وہ پاکستان میں دہشتگردی کراتے پکڑا گیا جس کا اس نے کھلے دل کیساتھ اعتراف بھی کیا تو پھر کلبھوشن کو بنیادی انسانی حقوق کیسے فراہم کیے جا سکتے ہیں۔عالمی عدالت انصاف کے تفصیلی اور ہر پہلو سے عارضی فیصلہ جاری نہیں کرنا چاہئے تھا۔عالمی عدالت انصاف کے فیصلے نے یہ ثابت کیا کہ عالمی عدالت انصاف میں ہی انصاف کا گلا گھونٹا گیا اور وہیں سے انصاف کا جنازہ نکالا گیا۔اگر ججز کو کچھ شکوک تھے تو پہلی سماعت کے دوران ہی سوالات کر لیتے جن کا جواب پاکستان بھی دیتا اور ہندوستان بھی دیتا،عالمی عدالت انصاف جب اپنے فیصلے میں خود لکھ رہی ہے کہ بھارت کلبھوشن کے معاملے پر عدالت کو مطمئن نہیں کر سکتا تو پھر عارضی تفصیلی فیصلہ کیوں جاری کیا گیا۔بہرحال اداروں کی ٹوٹ پھوٹ کسی ایک فیصلے سے نہیں ہوتی بلکہ ایک عمل سے ہوتی ہے اور میرا خیال ہے کہ عالمی عدالت انصاف نے اپنے ہی انجام کی طرف ایک سفر کا آغاز کر دیا ہے ۔پوری دنیا کو اس بات کا نوٹس لینا چاہئے کہ آخر کب تک پاکستان کیساتھ ناانصافی کی جاتی رہے گی؟
*****